8 مارچ کو مساجوگ سے پدیاترا کا آغاز، 2 دن میں 51 کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے 9 مارچ کو بیڑ شہر میں سدبھاونا اجلاس کے ساتھ اختتام
ممبئی: مہاراشٹر کو عظیم شخصیات کا ورثہ حاصل ہے۔ اسی طرح صوفی، سنتوں کی تعلیمات کا اثر بھی یہاں کی ثقافت میں موجود ہے۔ ترقی پسند خیالات کے حامل مہاراشٹر نے ہمیشہ ملک کو سمت دکھائی ہے، لیکن حالیہ دنوں میں ریاست کا سماجی ماحول بری طرح متاثر ہوتا نظر آ رہا ہے۔ مہاراشٹر کی شاندار ثقافت اور روایات کو مدنظر رکھتے ہوئے موجودہ صورتحال میں بھائی چارے اور سماجی ہم آہنگی کو فروغ دینا اشد ضروری ہے۔ اسی مقصد کے تحت کانگریس نے سدبھاونا پدیاترا کا اہتمام کیا ہے۔ یہ معلومات مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ہرشوردھن سپکال نے دی ہے۔
تلک بھون میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کانگریس کے ریاستی صدر ہرشوردھن سپکال نے سدبھاونا پدیاترا کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ آزادی کی جدوجہد میں نہ صرف سیاسی آزادی بلکہ سماجی تبدیلی بھی ایک اہم جز تھا۔ آزادی سے پہلے سے ہی کانگریس کے نظریات میں سماجی برابری شامل رہی ہے۔ کانگریس کو ذات پات سے بالاتر ہو کر سوچنے کا ورثہ ملا ہے اور یہی روایت ہمارے آئین میں بھی موجود ہے۔ ایک طرف ہماری ثقافت، روایات اور شاندار تاریخ ہے، تو دوسری طرف کچھ لوگ اپنے مفاد کے لیے ذات پات کی تفریق کا زہر پھیلا کر سماجی انتشار پیدا کر رہے ہیں، جو انتہائی افسوسناک اور مہاراشٹر کے مفاد کے خلاف ہے۔
انہوں نے کہا کہ بیڑ ضلع بار بار تنازعات میں گھرا رہا ہے، یہاں صنفی توازن میں بھی شدید عدم مساوات پائی جاتی ہے، اور خواتین کے رحم مادر میں قتل کا مسئلہ بھی سنگین رہا ہے۔ اسی لیے بین الاقوامی یومِ خواتین کے موقع پر بیڑ ضلع کے مساجوگ سے اس پدیاترا کا آغاز کیا جائے گا۔ بھگوان گڑھ اور نارائن گڑھ جیسے مقدس مقامات پر دعا کے بعد 8 مارچ کی صبح مساجوگ سے پدیاترا روانہ ہوگی، جو ناندور فاٹا، یلمب، نیکنور، مانجرسومبھا، پالی جیسے راستوں سے 51 کلومیٹر کا سفر طے کر کے بیڑ شہر پہنچے گی، جہاں سدبھاونا اجلاس کے ساتھ اس کا اختتام ہوگا۔
کانگریس کے ریاستی صدر نے کہا کہ سدبھاونا یاترا کا مقصد ریاست میں سماجی ہم آہنگی اور بھائی چارے کو دوبارہ قائم کرنا ہے۔ یہ محض ایک سیاسی نہیں بلکہ سماجی اقدام ہے، جو اس وقت مہاراشٹر کے لیے نہایت ضروری ہے۔ سماج میں پیدا کی گئی تفریق کو ختم کرنے اور ماحول کو بہتر بنانے کے لیے عام شہریوں، نوجوانوں، خواتین، طلبہ، سماجی کارکنوں، ادیبوں، صحافیوں اور سماجی تنظیموں کے نمائندوں کی بڑی تعداد میں اس پدیاترا میں شامل ہوگی۔ مستقبل میں پربھنی اور دیگر علاقوں میں بھی اسی طرح کی سدبھاونا یاترائیں نکالنے کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے۔
دہلی میں منعقدہ آل انڈیا مراٹھی ساہتیہ سمیلن میں دیے گئے بعض سیاسی بیانات کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ ادبی کانفرنس کے ذریعے معاشرتی مسائل، دکھ درد اور خیالات کے تبادلے کی روایت رہی ہے۔ ایسے پلیٹ فارم کا مقصد مسائل کا حل نکالنا ہوتا ہے، لیکن وہاں غیر ضروری بیانات دینا غلط اور روایات کے خلاف ہے۔
اس موقع پر تلک بھون میں کانگریس کے ضلعی صدور کی ایک میٹنگ منعقد ہوئی، جس کی صدارت ہرشوردھن سپکال نے کی۔ اس اجلاس میں آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے سیکریٹری اور معاون انچارج کنال چودھری، رکن پارلیمنٹ کلیان کالے، مہاراشٹر پردیش کانگریس کے نائب صدر گنیش پاٹل سمیت دیگر ضلعی صدور موجود تھے۔ اس دوران تنظیمی امور اور مستقبل کی سیاسی حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ کل 25 فروری کو کانگریس کے ریاستی عہدیداروں کی ایک اور میٹنگ تلک بھون میں منعقد کی جائے گی۔