الخدمت تنظیم کی جانب سے ہندو جوڑے سمیت 12 مسلم جوڑوں اجتماعی شادی تقریب
ممبئی ،24 فرروی (ایجنسی)ممبئی کی ایک معروف تنظیم ‘الخدمت’ نے فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور سماجی یکجہتی کی ایک شاندار مثال قائم کرتے ہوئے نہ صرف 12 مسلم جوڑوں کی اجتماعی شادی کا اہتمام کیا بلکہ ایک ہندو گجراتی جوڑے کی بھی مکمل مذہبی روایات کے مطابق شادی کروائی۔ یہ تنظیم گزشتہ 16 سالوں سے مختلف مذاہب کے غریب، نادار اور مستحق جوڑوں کی شادیوں کا انتظام کر رہی ہے اور اس کار خیر کا سلسلہ آج بھی جاری ہے۔

یہ تقریب 22 فروری 2025 کو دوپہر 1 بج کر 30 منٹ پر اندھیری (ویسٹ) ممبئی میں واقع رام مندر کے قریب، بی ایم سی چال، جوہو لین، این ایس پھڈکے روڈ پر منعقد ہوئی، جہاں خوش لباس شرکاء نے شرکت کی۔ ہندو مذہبی و ثقافتی روایات کے مطابق، پنڈت نے مہورت کے وقت کے مطابق شادی کی تمام رسومات ادا کیں۔ اس موقع پر دلہا اور دلہن کے والدین، رشتہ داروں کے ساتھ ساتھ مسلم خواتین اور مردوں کی بھی ایک بڑی تعداد شریک ہوئی، جو اپنے روایتی لباس میں موجود تھی۔
ہندو برادری کے مرد، خواتین، بچے اور بزرگ اس تقریب میں شریک ہوئے اور نئے شادی شدہ جوڑے کو ازدواجی زندگی کے آغاز پر مبارک باد دی۔ مندر میں تمام رسومات گجراتی ہندو روایات کے مطابق انجام دی گئیں۔ تقریب میں شریک افراد نے اس اقدام کو فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے فروغ کے لیے ایک مثال قرار دیا۔
اس تقریب میں بالی ووڈ کی مشہور اداکارہ اور پدم شری ایوارڈ یافتہ روینہ ٹنڈن نے بھی شرکت کی۔ انہوں نے بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ دینے کے اس اقدام کو سراہا اور نو بیاہتا جوڑے کو آشیرواد دیا۔ اس موقع پر انہوں نے اپنے ہاتھوں میں پہنے ہوئے دونوں کڑے دلہا اور دلہن کو بطور تحفہ پیش کیے۔

الخدمت تنظیم کی جانب سے بھی دلہا اور دلہن کو ان کی نئی زندگی کے آغاز کے لیے ضروری اشیاء فراہم کی گئیں۔ شرکاء نے مسلم تنظیم کی جانب سے ایک ہندو بہن کی شادی کرانے کے اقدام کو بھارت میں امن اور بھائی چارے کے فروغ کے لیے ایک بہترین مثال قرار دیا اور اس تقریب کو ایک انتہائی احسن کاوش اور قابل تقلید عمل قرار دیتے ہوئے تنظیم سے وابستہ تمام افراد کے لیے دعا کی۔
اس موقع پر شرکاء نے اس امید کا اظہار کیا کہ جس طرح الخدمت تنظیم کے چیئرمین محسن حیدر نے یہ اقدام کیا ہے، اسی طرح دیگر افراد بھی ایسی کوششیں کریں تاکہ ملک میں بڑھتی ہوئی فرقہ وارانہ کشیدگی اور تناؤ کو کم کیا جا سکے۔
اسی دن شام 6 بجے سے رات 10 بجے کے درمیان گرینڈ ایچ کے بی لان، جعفر بھائی دہلی دربار کے سامنے، ایس وی روڈ، جوگیشوری (ویسٹ)، ممبئی میں 12 مسلم جوڑوں کی اجتماعی شادی کی تقریب منعقد کی گئی۔ شام کو ایک شاندار استقبالیہ بھی رکھا گیا جس میں ہندو اور مسلم دلہا، دلہن اور ان کے اہل خانہ سمیت 4500 افراد نے شرکت کی۔
یہ تاریخی تقریب ایک معروف اور باوقار مسلم تنظیم ‘الخدمت’ کے زیر اہتمام منعقد ہوئی۔ اس تنظیم کے چیئرمین سابق کارپوریٹر محسن حیدر ہیں، جبکہ ان کے فرزند، ممبئی یوتھ کانگریس کے ورکنگ صدر، صفیان حیدر تنظیم کے جنرل سیکریٹری ہیں۔
یہ تنظیم گزشتہ 16 سالوں سے بغیر کسی بیرونی امداد کے، اپنے ذاتی وسائل سے مستحق جوڑوں کی شادیوں کا اہتمام کر رہی ہے۔ اب تک 24 غیر مسلم اور 400 سے زائد مسلم جوڑوں کی شادیاں اس تنظیم کے ذریعے کرائی جا چکی ہیں۔محسن حیدر نے یو این آئی سے گفتگو کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ ان کی تنظیم اور ان کے اہل خانہ کی جانب سے 16 سالوں سے جاری یہ کار خیر آئندہ بھی جاری رہے گا۔ انہوں نے کہا، ’’ہم اس وقت تک یہ خدمت انجام دیتے رہیں گے جب تک لوگ مکمل طور پر سادگی سے نکاح کی تقریبات کو انجام دینا شروع نہیں کر دیتے۔‘‘
انہوں نے مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ سنت کے مطابق شادیاں کریں، جہیز جیسی فضول رسومات کو ختم کریں اور شادیوں میں بے جا اسراف کے بجائے ان مستحق لڑکیوں کی شادی میں مدد کریں جن کے والدین کے لیے مالی اخراجات ایک سنگین مسئلہ بن چکے ہیں۔محسن حیدر نے بتایا کہ جس طرح وہ اپنے بچوں کی شادی کرتے ہیں، اسی طرح اور اسی انداز میں یہ شادیاں بھی کی جاتی ہیں۔ دلہا دلہن کو کپڑے اور دیگر ضروری اشیاء بطور تحفہ دی جاتی ہیں، اور دونوں خاندانوں کے تمام افراد کے لیے کھانے کا انتظام کیا جاتا ہے۔ تنظیم کے مستعد کارکنان ان تمام انتظامات کو بہترین طریقے سے انجام دیتے ہیں۔
ہر دلہا دلہن جوڑے کے لیے تنظیم کی جانب سے دو افراد متعین کیے جاتے ہیں جو ان کی تمام ضروریات کا خیال رکھتے ہیں اور شادی کے بعد بھی ان سے رابطے میں رہتے ہیں تاکہ کسی بھی طرح کی مدد فراہم کی جا سکے۔
اس تقریب میں کئی معروف شخصیات کو بھی مدعو کیا گیا تھا، جن میں مشہور ڈانسر سوشانت کھتری، کرکٹر وسیم جعفر، کانگریس رہنما ورشا تائی گائیکواڑ، فلم اداکار عمران خان، خالد خان، ہارون خان ایم ایل اے ورسووا، ابراہیم جان، کارپوریٹر ببو خان، سفیان وانو، اور ارشد اعظمی شامل تھے۔
یہ تقریب نہ صرف فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے فروغ کے لیے ایک مثال بنی بلکہ اس نے غریب اور نادار جوڑوں کی زندگیوں میں خوشیاں بکھیرنے کا ایک اہم موقع بھی فراہم کی یے۔