اگر مودی حکومت دیانتدار ہے تو 2014 سے ایکسائز ٹیکس میں غیر منصفانہ اضافہ واپس لے
گیس سلنڈر کی قیمت میں 700 روپے اضافہ کرنا اور پھر 200 روپے کم کرنا آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے
ممبئی:بی جے پی لیڈران ڈھول پیٹ رہے ہیں کہ مرکز کی مودی سرکار نے پٹرول پر 9.5 روپے فی لیٹر اور ڈیزل پر 7 روپے فی لیٹر ایکسائز ڈیوٹی کم کر کے عوام کو بڑی راحت دی ہے، لیکن حقیقت میں بی جے پی لیڈر اس فیصلے کے ذریعے لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونک رہے ہیں۔ ایندھن کی قیمتوں کی کمی کی مرکز کی مودی حکومت کی سچائی کو اجاگر کرتے ہوئے یہ بات ریاستی کانگریس کے صدر ناناپٹولے نے کہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پٹرول میں 9.5 روپے فی لیٹر کی کٹوتی میں ۴روپئے اور ڈیژل کی فی لیٹر ۷ روپئے کی کٹوتی میں ۳ روپئے مہاراشٹر حکومت کا حصہ ہے۔ریاستی کانگریس صدر نے کہا کہ اگر مرکز کی مودی حکومت واقعی ایماندار ہے اور عوام کو راحت دینا چاہتی ہے تو اسے 2014 سے ایندھن کی قیمتوں پر بڑھائے گئے غیر منصفانہ ٹیکسوں کو ختم کرنا چاہئے تاکہ ایندھن کی قیمتوں کی حقیقی قیمت وصول کی جاسکے اور مہنگائی کو کنٹرول کیا جا سکے۔
اس ضمن میں بات کرتے ہوئے نانا پٹولے نے مزیدکہا کہ پانچ ماہ قبل مودی حکومت نے پٹرول کی قیمت میں 10 روپے اور ڈیزل کی قیمت میں 10 روپے کی کمی کی تھی، لیکن پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات کے بعد ایندھن کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب ریاست میں بی جے پی لیڈران ریاستی حکومت سے ٹیکس میں کٹوتی کے مطالبے کو لے کر جھوٹے اور گمراہ کن بیانات دے رہے ہیں۔ چونکہ یہ ویلیو ایڈڈ ٹیکس ہے، اس لیے بی جے پی لیڈراس بات سے ناواقف ہیں کہ جیسے ہی مرکزی حکومت قیمتیں کم کرتی ہے، ریاست میں قیمت خودبخود گھٹ جاتی ہے ۔ پٹولے نے کہا کہ مرکز کی طرف سے کٹوتی کے ہر روپے میں41 پیسے ریاست کے ہیں۔ یعنی نئی کٹوتی کے تحت پٹرول کے ۹۔۵ روپئے میں قریب ۴ روپئے اور ڈیزل کے ۷ روپئے میں فی لیٹر کی کٹوتی میں قریب ۳ روپئے ریاستی حکومت کے ہیں۔ کانگریس کے ریاستی صدر نے کہا کہ مودی حکومت سڑکوں کی تعمیر اور زرعی ترقی کے نام پر مختلف سیس لگا کر ایندھن کی قیمتوں کے ذریعے عوام کو لوٹ رہی ہے۔ ریاستی حکومت کو ایکسائز ٹیکس میں اپنا حصہ ملتا ہے لیکن سیس کا کوئی حصہ نہیں ملتا ہے۔ مرکزی حکومت ایک طرف ایکسائز ڈیوٹی کم کر کے ریاست کے لیے معاشی مشکلات پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور دوسری طرف سیس لگا کر لوگوں کو لوٹ رہی ہے۔ اسے فوری طور پر روکا جانا چاہئے۔
نانا پٹولے نے کہا کہ سال 2014 میں پٹرول پر ایکسائز ڈیوٹی 9.56 روپے اور ڈیزل پر 3.48 روپے فی لیٹر تھی۔ اس وقت عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 111 ڈالر فی بیرل سے اوپر تھی۔ آج خام تیل کی قیمتیں اس وقت کے مقابلے کم ہیں۔ اس کے باوجود اضافی ٹیکس لگائے جا رہے ہیں۔ مودی حکومت نے پچھلے سات سالوں میں ایندھن کے ٹیکس سے تقریباً 27 لاکھ کروڑ روپے کمائے ہیں۔ مودی حکومت نے آر بی آئی سے نکالے گئے 2.5 لاکھ کروڑ روپے کے لیے کوئی فنڈ مختص نہیں کیا ہے۔ گیس سلنڈر کی قیمت میں 700 روپے کا اضافہ اور اس کے بعد 200 روپے کی کمی محض دھوکہ ہے۔ اگر مودی سرکار کی نیت صاف ہے اور وہ عام آدمی کو مہنگائی سے راحت دینا چاہتیہے تو اسے گیس سلنڈر کی قیمت 400 روپے کرکے عوام کو دوبارہ سبسڈی دینا شروع کر دینا چاہئے۔