MPCC Urdu News 22 July 24

مراٹھا ریزرویشن: فڑنویس اپنی ناکامی کا ٹھیکرا اپوزیشن پر پھوڑیں: نانا پٹولے

ریزرویشن معاملے پر آل پارٹی میٹنگ میں اپوزیشن نے اپنا موقف واضح کردیا ہے، اب فیصلہ حکومت کو کرنا ہے

کانگریس کی مخلوط حکومت نے 2014 میں مراٹھا برادری کو ریزرویشن دیا تھا لیکن دیویندر فڑنویس حکومت نے اسے ختم کر دیا

ممبئی: ریاست میں مراٹھا-او بی سی ریزرویشن کے تنازعہ کو مہایوتی حکومت نے شدید کر دیا ہے۔ مراٹھا ریزرویشن ختم کرنے کے لیے بی جے پی اور دیویندر فڑنویس بھی قصوروار ہیں۔ 2014 میں پرتھوی راج چوہان کی قیادت والی کانگریس کی مخلوط حکومت نے مراٹھا برادری کو ریزرویشن دیا تھا لیکن اس کے بعد اقتدار میں آنے والی فڑنویس حکومت نے مراٹھا ریزرویشن آرڈیننس کو قانون میں تبدیل نہیں کیا، اس لیے ریزرویشن ختم ہوگیا۔ فڑنویس مراٹھا ریزرویشن کے اصل قاتل ہیں۔ 2014 میں فڑنویس نے وعدہ کیا تھا کہ اگر وہ اقتدار میں آئے تو مختلف ذاتوں اور قبائل بشمول مراٹھا، دھنگر و غیرہ کو ریزرویشن دیں گے۔ اب جب ان وعدوں کو پورا کرنے کی ذمہ داری حکومت اور فڑنویس کی ہے تو اس کا الزام اپوزیشن پارٹیوں پر ڈالا جا رہا ہے۔ نائب وزیر اعلیٰ اپنی ناکامی چھپانے کے لیے اپوزیشن کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ یہ باتیں مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر نانا پٹولے نے کہیں ہیں۔

پیر کو تلک بھون میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کانگریس کے ریاستی صدر نانا پٹولے نے کہا کہ مہایوتی کے لیڈران اور وزراء کہہ رہے ہیں کہ اپوزیشن کو مراٹھا ریزرویشن کے معاملے پر اپناموقف واضح کرنا چاہیے۔ اس سے قبل آل پارٹی میٹنگ میں ریزرویشن کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔ اس میٹنگ میں اپوزیشن پارٹیوں نے اپنی پوزیشن واضح کر دی تھی۔ اب فیصلہ کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے لیکن حکومت جان بوجھ کر ٹال مٹول کر رہی ہے۔ پٹولے نے کہا کہ جب مرکز اور ریاست میں بی جے پی کی حکومت ہے تو پھر مہایوتی حکومت کو مراٹھا سماج کو ریزرویشن دینے سے کس نے روکا؟ ریاستی حکومت کو اس سلسلے میں فوری فیصلہ لینا چاہیے۔ پٹولے نے نے پوچھا کہ کیا مہایوتی حکومت اڈانی کو کروڑوں روپے کی زمین سستے دام پر دینے سے پہلے اپوزیشن سے بات کرتی ہے؟ کیا آپ نے مہاراشٹر کی صنعتوں کو گجرات منتقل کرنے سے پہلے اپوزیشن سے مشورہ کیا تھا؟ نانا پٹولے نے کہا کہ جب حکومت کو ریزرویشن پر فیصلہ لینا ہوتا ہے تو اپنی ناکامی کا ٹھیکرا اپوزیشن کے سر پھوڑ کر وہ اپنی ذمہ داری سے نہیں بچ سکتی۔

کانگریس کے ریاستی صدر نے کہا کہ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے پونے میں بی جے پی کی میٹنگ میں مہا وکاس اگھاڑی کے سینئر لیڈر شرد پوار کو بدعنوانی کا سرغنہ کہا ہے۔ لیکن مرکز کی بی جے پی حکومت نے 2017 میں شرد پوار کو پدم وبھوشن ایوارڈ سے نوازا تھا اور اب انہیں بدعنوانی کا ماسٹر مائنڈ قرار دے رہی ہے۔ نانا پٹولے نے کہا کہ درحقیقت وزیر اعظم نریندر مودی ملک میں بدعنوانی کے لیڈر ہیں۔

کانگریس کے ریاستی صدر نے الزام لگایا ہے کہ کولہاپور ضلع کے وشال گڑھ میں تجاوزات کا مسئلہ اور قلعہ سے ملحق گاجا پور گاؤں میں فسادات کو حکومت کی سرپرستی حاصل تھی۔ 20 جون 2024 کو وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے نے کہا تھا کہ وشال گڑھ میں ’کریکٹ‘ پروگرام ہوگا۔ پھر 14 جولائی کو تجاوزات کے نام پر فسادات کرائے گئے۔ مقامی لوگوں نے 5 جولائی کو کلکٹر سے ملاقات کی اور کہا کہ ایسا واقعہ ہو سکتا ہے۔ نانا پٹولے نے یہ بھی کہا کہ 12 جولائی کو درخواست دینے کے باوجود حکومت یا انتظامیہ نے اس پر کوئی توجہ نہیں دی۔

سرکاری ملازمین کے آر ایس ایس کے پروگراموں میں حصہ لینے کے بارے میں بات کرتے ہوئے نانا پٹولے نے کہا کہ 1966 میں سرکاری ملازمین پر راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے پروگراموں میں حصہ لینے پر پابندی لگا دی گئی تھی۔ لیکن مودی حکومت نے 9 جولائی 2024 کو ایک حکم جاری کیا اور پابندی ہٹا دی۔ پہلے سے ہی آر ایس ایس کے لوگوں کو مرکزی اور ریاستی حکومتوں میں کنٹریکٹ پر بھرتی اور لیٹرل انٹری کے ذریعے بڑی تعداد میں بھرتی کیا جا رہا ہے۔ حکومت ان عہدیداروں کی مدد سے آر ایس ایس کے ایجنڈے کو نافذ کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ پٹولے نے کہا کہ یہ فیصلہ آئین کو تبدیل کرنے کی ایک سازش لگ رہا ہے۔ پٹولے نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے بی جے پی سے پوچھا ہے کہ کیا مودی حکومت ملک کے قومی ترانے ’جن گن من‘ کو ’نمستے سداوتسلے‘ میں تبدیل کرنا چاہتی ہے؟

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading