ای ڈی آر ایف کے قوانین پرانے ہوچکے ہیں، کسانوں کو مناسب مدددی جائے
ممبئی:موسلا دھار بارش کی وجہ سے ودربھ اور مراٹھواڑہ سمیت ریاست کے کئی حصوں میں زراعت کو بھاری نقصان پہنچا ہے، ایسے میں ریاست میں فوری طور پرگیلی خشک سالی کا اعلان کرنے کی ضرورت ہے۔یہ مطالبہ کانگریس کے ریاستی صدر نانا پٹولے نے کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شندے-فڈنویس حکومت کسان مخالف ہے، معاشی بحران کی وجہ سے کئی کسانوں نے خودکشی کرلی ہے، لیکن ریاستی حکومت کو اس کی کوئی فکر نہیں ہے۔ پٹولے نے کہا کہ جب بی جے پی اپوزیشن میں تھی تو وہ مہاوکاس اگھاڑی حکومت کے خلاف کسانوں کی خودکشی کا مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کر رہی تھی، اب اسی طرح ریاست میں شندے-فڈنویس حکومت کے دوران کسانوں کی خودکشی کے معاملے میں ان کے خلاف مقدمہ درج کرایا جا نا چاہئے۔
اسمبلی کے احاطے میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے نانا پٹولے نے کہا کہ ریاستی حکومت نے سیلاب زدگان کی مدد کے لیے جو رقم کا اعلان کیا ہے وہ ناکافی ہے۔ پٹولے نے کہا کہ این ڈی آر ایف کے قوانین پرانے ہو چکے ہیں۔ اب کھاد کی قیمتیں بھی تین گنا بڑھ گئی ہیں۔ اس کے علاوہ بیج اور کیڑے مار ادویات کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی طرف سے اعلان کردہ امداد بڑھتی ہوئی مہنگائی کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ پٹولے نے الزام لگایا کہ حکومت نے کسانوں کو ان کی حالت زار پر چھوڑ دیا ہے۔ مرکزی حکومت نے کسانوں کی مدد سے ہاتھ اٹھادئے ہیں۔ ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ مشکلات کے شکار عام کسانوں کو 75 ہزار روپے فی ہیکٹر اور باغبانی اور باغات کے کسانوں کو 1.5 لاکھ روپے فی ہیکٹر امداد کا اعلان کیا جائے۔
نانا پٹولے نے کہا کہ انہوں نے خود سیلاب سے متاثرہ علاقے کا دورہ کیا ہے۔ ریاست میں ژالہ باری کی صورتحال ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ حکومت کسانوں کو نظر انداز کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت کسانوں کی مناسب مدد کرے اور یہ پیغام دے کہ وہ کسانوں کے ساتھ ہے لیکن حکومت کسانوں کے تئیں پوری طرح سے بے حس ہے۔ پٹولے نے کہا کہ یہ حکومت کسانوں، مزدوروں اور عام لوگوں کو مکمل طور پر نظر انداز کر رہی ہے۔ پٹولے نے یہ بھی کہا کہ اسمبلی میں بار بار کسانوں کے سوالات اٹھانے کے باوجود حکومت اس کا جواب دینے سے بھاگ رہی ہے۔