وقفہئ سوالات کے دوران این سی پی کے ممبرانِ اسمبلی نے حکومت کوآڑے ہاتھوں لیا
ممبئی: ریاست میں ایمپلائمنٹ ایکسچینج تقریباً بند ہوچکے ہیں۔ایمپلائمنٹ ایکسچینج میں پہلے روزگار کے مواقع دستیاب ہوتے تھے جو اب نہیں ہورہے ہیں۔ اسی طرح ریاست کے پڑھے لکھے بیروزگاروں کو پہلے بیروزگاری الاؤنس ملتا تھا جو اب ریاستی حکومت نے بند کردیا ہے۔ اس لیے پڑھے لکھے بیروزگاروں کو ماہانہ ۵ہزار روپئے بیروزگاری الاؤنس دیا جائے۔ یہ مطالبہ آج یہاں سابق وزیر اور سینئر رکن اسمبلی ایکناتھ کھڑسے نے اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران کیا ہے۔ایکناتھ کھڑسے نے کہا کہ ایمپلائمنٹ ایکسچینج تقریباً بند ہے۔ روزگار کے مواقع اب دستیاب نہیں ہیں۔اس لیے ریاست کے تعلیم یافتہ بیروزگار نوجوانوں کو ۵ہزار روپئے بیروزگاری الاؤنس دیا جائے۔
اس موقع پر این سی پی کے رکن اسمبلی ششی کانت شندے نے سوال کیا کہ محکمہ اسکل ڈیولپمنٹ یا دیگر محکموں کی جانب سے بیروزگاروں کا اعداد وشمار حاصل کرنے کے لیے کیا کوئی پروگرام روبہ عمل لایا جائے گا؟ کھڑسے نے کہا کہ محکمہ اسکل ڈیولپمنٹ کے سابق وزیر نواب ملک نے ایک لاکھ نوجوانوں کو ملازمت دینے کے ہدف کا پروگرام شروع کیا تھا۔ کیا اسی نہج پر محکمہ اسکل ڈیولپمنٹ کوئی پروگرام شروع کرے گا؟ اسی طرح ایمپلائمنٹ ایکسچینج میں بیشتر نوجوان اپنا اندراج کرتے ہیں لیکن صورت حال یہ ہے کہ انہیں کوئی بھی ملازمت کے لیے طلب نہیں کرتا ہے۔ سرکاری دفاتر میں جو آسامیاں خالی ہیں ان جگہوں پر کنٹریکٹ والے ملازمین کے بجائے کیا سرکاری ملازمین کی بھرتی کی جائے گی؟ ششی کانت شندے نے حکومت سے یہ بھی پوچھا کہ پرائیویٹ پرائیویٹ کمپنیوں کے لیے کچھ اصول بنا کر کیا ان کمپنیوں میں ایمپلائمنٹ ایکسچینج میں رجسٹرڈ بے روزگاروں کو ترجیحی طور پر ملازمتیں دی جائیں گی؟ کیا حکومت اس حوالے سے کوئی پالیسی بنانے والی ہے؟ان سوالات کا جواب دیتے ہوئے محکمہ اسکل ڈیولپمنٹ کے وزیر منگل پربھات لوڈھا نے کہا کہ بیروزگاروں کے اندراج کے تعلق سے ہم کوئی مثبت فیصلہ کریں گے۔ محکمہ اسکل ڈیولپمنٹ نے ایک پورٹل بنایا ہے جس پر بیروزگاروں نوجوان اپنا رجسٹریشن کرتے ہیں۔اس کے علاوہ اس پورٹل پر مختلف صنعتیں اور ادارے بھی اپنا رجسٹریشن کرسکتے ہیں۔ انہوں نے بیروزگاری الاؤنس پر یہ کہتے ہوئے جواب دینے سے گریز کیا کہ بے روزگاری الاؤنس کا معاملہ میرے دائرہ اختیار میں نہیں آتا۔