MPCC Urdu News 21 September 2024

راہل گاندھی کے خلاف تشدد آمیز بیان دینے والوں کو گرفتار کیا جائے

ودربھ اور مراٹھواڑہ کے سیلاب زدہ کسانوں کی مدد کی جائے

کانگریس کے اعلی سطحی وفد کی گورنر سے ملاقات کرتے ہوئے میمورنڈم پیش کیا

تشدد آمیز بیانات کے بارے میں معلومات حاصل کرنے اور سخت کارروائی کی گورنر کی یقین دہانی

ممبئی: ریاست میں لا اینڈ آرڈ کی صورت حال مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہے، جس کی وجہ سے زبردست سیاسی و سماجی عدم استحکام پیدا ہو چکا ہے۔ ودربھ اور مراٹھواڑہ میں سیلاب کی تباہی سے متاثرہ کسانوں کو ابھی تک مدد فراہم نہیں کی گئی ہے۔ حکومت کی اس لاپرواہی کی وجہ سے کسانوں میں شدید بے چینی پائی جا رہی ہے۔ ان تمام مسائل پر کانگریس پارٹی کے ایک اعلی سطحی وفد نے آج گورنر سے ملاقات کرتے ہوئے میمورنڈم پیش کیا۔

کانگریس کے ریاستی صدر نانا پٹولے کی قیادت میں اس وفد میں اسمبلی میں کانگریس پارٹی کے سربراہ بالا صاحب تھورات، اسمبلی میں حزبِ اختلاف کے لیڈر وجے وڈیٹی وار، سابق وزیر اعلیٰ پرتھوی راج چوہان، کانگریس ورکنگ کمیٹی کے رکن اور ریاستی نائب صدر نسیم خان، چندرکانت ہندوڑے، ممبئی کانگریس کی صدر ایم پی ورشا گائیکواڑ، سابق وزیر ڈاکٹر نیتن راؤت، ایم پی وشال پاٹل، سابق وزیر اسلم شیخ، ڈاکٹر وشوجیت کدم، ایم ایل اے بھائی جگتاپ، آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے سکریٹری رویندر دلوی، ایم ایل اے امین پٹیل، ایم ایل اے وکرم ساونت، چرنجیت سپرا اور سچن ساونت شامل تھے۔

گورنر سے ملاقات کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے ریاستی صدر نانا پٹولے نے کہا کہ مالون، سندھو درگ میں نہ صرف چھترپتی شیواجی مہاراج کا مجسمہ گرا بلکہ مہاراشٹر کا فخر بھی منہدم ہوا ہے۔ اس مجسمے کے کام میں بدعنوانی کے مرتکبین کے خلاف ابھی تک کوئی کارروائی نہیں کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایم ایل اے سنجے گائیکواڑ نے ہمارے لیڈر راہل گاندھی کی زبان کاٹنے والے کو انعام دینے کے بارے میں متنازعہ بیان دیا ہے۔ بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ انیل بونڈے نے بھی راہل گاندھی کے خلاف متشددانہ بیان دیا ہے۔ کانگریس کے ریاستی صدر نے کہا کہ جمہوریت میں ہر کسی کو اپوزیشن پر تنقید کرنے کا حق حاصل ہے، لیکن عوامی نمائندوں کے لیے ایسی زبان کا استعمال کرنا جو تشدد بھڑکانے اور کسی کے جان کو خطرے میں ڈالنے والی ہو، نہایت غلط ہے۔ اس معاملے میں وزیر اعلیٰ، وزیر داخلہ اور پولیس تماشائی کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ مقدمہ درج کرنے کے لئے کانگریس لیڈروں کو احتجاج بھی کرنا پڑا جس کے بعد مقدمات درج کئے گئے۔ لیکن سنجے گائیکواڑ اور ایم پی انیل بونڈے کو ابھی تک گرفتار نہیں کیا گیا ہے۔ پولیس ان لوگوں کے خلاف کائی کارروائی نہیں کر رہی جنہوں نے اشتعال انگیز بیانات دے کر مذہبی تنازعہ پیدا کرنے کی کوشش کی، اس کا مطلب یہ ہے کہ ریاست میں فسادات کرانے کی حکمران پارٹیوں کی سازش ہے؟

کانگریس کے ریاستی صدر نے کہا کہ مراٹھواڑہ میں شدید بارش کی وجہ سے کسانوں کی 6 لاکھ ہیکٹر فصلیں تباہ ہوگئیں۔ نقصان کا پنچنامہ ابھی تک نہیں ہوا ہے۔ مرکزی وزیر زراعت نے آندھرا پردیش اور تلنگانہ ریاستوں کا دورہ کیا اور امداد کا اعلان کیا لیکن مرکزی وزیر زراعت یا مرکزی ٹیم ابھی تک معائنے کے لیے مہاراشٹر نہیں آئی ہے۔ مہاراشٹر میں کسانوں کے تئیں اتنی نفرت کیوں ہے؟ کیا آپ کو اس ریاست میں کسانوں کی تکلیف نظر نہیں آتی؟ ان کی مدد کے لیے مرکزی اور ریاستی حکومتوں کا کوئی کردار نہیں ہے۔

پٹولے نے مزید کہا کہ ریاست میں لاء اینڈ آرڈر پوری طرح سے تباہ ہو گیا ہے اور سوال اٹھ رہے ہیں کہ کیا اسمبلی انتخابات خوف سے پاک ماحول میں ہوں گے۔ ریاست میں خواتین کے خلاف تشدد میں زبردست اضافہ ہوا ہے اور حکومت بدلاپور اور ناگپور میں نابالغوں اور اسکولی طالبات کے خلاف جرائم کے معاملات میں کارروائی کرنے کے بجائے ملزمان کی حمایت کرتی نظر آتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان نسل بے روزگاری کی وجہ سے ذہنی تناؤ کا شکار ہو رہی ہے۔ کانگریس پارٹی کے وفد نے گورنر کو دیے گئے میمورنڈم میں کہا ہے کہ ہمارے لیڈر راہل گاندھی کے خلاف بیان دینے والے لیڈروں کے خلاف کارروائی کی جائے اور ودربھ اور مراٹھواڑہ میں شدید بارشوں سے متاثر کسانوں کی مدد کی جائے۔

گورنر سی پی رادھا کرشنن نے کانگریس کے وفد کو یقین دلایا ہے کہ وہ پورے معاملے کو دیکھیں گے۔ انہوں نے راہل گاندھی کے خلاف متنازعہ بیان کے حوالے سے محکمہ داخلہ سے اطلاع ملنے کے بعد سخت کارروائی کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ انہوں نے کسانوں کی مدد کے لیے ضروری اقدامات کرنے کا بھی وعدہ کیا ہے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading