ریاست میں جرائم میں بے تحاشا اضافہ مگر مجرم آزاد گھوم رہے ہیں: نسیم خان
راہل گاندھی کو دھمکی دینے والے حکمراں جماعت کے لیڈروں کے خلاف کارروائی کی جائے
ممبئی: بی جے پی مہایوتی کی حکومت غیر قانونی طریقے سے اقتدار میں آئی اور پچھلے ڈھائی سالوں میں مہاراشٹر کی حالت بدتر ہو چکی ہے۔ ریاست میں امن و امان کی صورتحال مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہے۔ حکمراں جماعت کے لیڈران خود غنڈہ گردی کر رہے ہیں، کھلے عام دھمکیاں دی جا رہی ہیں اور مذہبی ہم آہنگی بگاڑنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ ریاست کی صورتحال سنگین ہے لیکن حکومت کوئی کارروائی کرتی نظر نہیں آ رہی۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ریاست میں کوئی وزیر داخلہ ہے ہی نہیں۔ یہ بات کانگریس ورکنگ کمیٹی کے رکن اور ریاستی نائب صدر نسیم خان نے کہی ہے۔
کانگریس کے ایک وفد نے راج بھون جا کر گورنر سے ملاقات کی۔ اس وفد میں کانگریس کے ریاستی صدر نانا پٹولے، اسمبلی میں کانگریس کے لیڈر بالاصاحب تھورات، اپوزیشن لیڈر وجے وڈیٹی وار، کانگریس ورکنگ کمیٹی کے رکن اور ریاستی نائب صدر نسیم خان، ممبئی کانگریس کی صدر رکن پارلیمان ورشا گائیکواڑ، چرن جیت سپرا اور دیگر رہنما شامل تھے۔
میڈیا سے بات کرتے ہوئے نسیم خان نے کہا کہ آج ہم نے گورنر صاحب سے ملاقات کر کے ایک میمورنڈم پیش کی ہے۔ ریاست میں امن و امان کی صورتحال انتہائی خراب ہو چکی ہے۔ مجرم کھلے عام گھوم رہے ہیں، ان کے خلاف 25-30 ایف آئی آر درج ہونے کے باوجود کوئی کارروائی نہیں کی جا رہی۔ حکمراں جماعت کے کچھ ایم ایل اے اور ایم پی پولیس کو کھلے عام دھمکیاں دے رہے ہیں۔ ایسی صورتحال میں پولیس کیسے کارروائی کرے گی؟ لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کو بھی بی جے پی کے ایم پی انیل بونڈے اور شیو سینا کے ایم ایل اے سنجے شِرساٹ نے دھمکیاں دی ہیں۔ کانگریس کارکنوں نے اس کے خلاف آواز اٹھائی، احتجاج کیا اور پولیس اسٹیشن میں شکایت بھی درج کرائی، لیکن یہ بدعنوان بی جے پی حکومت کوئی کارروائی کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ نسیم خان نے کہا کہ اس موقع پر گورنر نے یقین دہانی کرائی کہ وہ حکومت کو ضروری ہدایات دیں گے۔