شندے-فڈنویس حکومت کسانوں کی مدد کے نام پر وقت گزار رہی ہے

  • زبردست مالی مشکلات کے ساتھ کسانوں کو تہوار منانادشوار ہوگیا

ممبئی:بے موسم بارش نے ریاست کے کسانوں کو سخت مشکلات میں ڈال دیا ہے۔ قدرت نے کسانوں سے ان کے ہاتھ آئی فصل کوچھین لیا ہے۔ اپوزیشن پارٹیاں مسلسل مطالبہ کر رہی ہیں کہ حکومت کسانوں کو فوری طور پر معاوضہ دینے کا اعلان کرے۔ کسان زبردست پریشانی میں ہیں لیکن شندے-فڈنویس حکومت ان کی مدد کے لیے کوئی قدم نہیں اٹھا رہی ہے اور صرف وقت گزاری کررہی ہے۔حکومت نہ تو کسانوں کو ہوئے نقصان کا پنچنامہ کررہی ہے اور نہ ہی ان کے لیے کسی طرح کی مالی مدد کا اعلان کررہی ہے۔ اس سے صاف ہوجاتاہے کہ شندے فڈنویس حکومت کی کسانوں کی مدد کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ ریاستی حکومت پر یہ تنقید آج یہاں ریاستی کانگریس کے صدر نانا پٹولے نے کیا ہے۔

اسمبلی کے احاطے میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے نانا پٹولے نے کہا کہ ریاست میں برسراقتدار حکومت کو کسانوں کے مفادات سے کوئی سروکار نہیں ہے۔ کسان پہلے ہی پریشان ہیں کیونکہ انہیں زرعی پیداوار کی مناسب قیمت نہیں ملی ہے۔ اس کے ساتھ ہی بے موسم بارش سے کھیتوں میں کھڑی فصلیں تباہ ہو گئی ہیں۔ حکومت کوفوری طور پر پنچنامہ کر کے کسانوں کو معاوضہ دینا چاہئے لیکن پنچنامہ کرنے والا کوئی ملازم موجود ہی نہیں ہے۔ حکومت کو فوری طور پر نقد امداد براہ راست کسانوں کے بینک کھاتوں میں جمع کرانی چاہیے۔نانا پٹولے نے کہا کہ مہا وکاس اگھاڑی حکومت کے وقت قدرتی بحران کی صورت میں کسانوں کو فوری طور پر 10,000 روپے کی نقد امداد دی جاتی تھی، بعد میں پنچنامہ کرکے بڑا پیکج دیا گیا تھا، لیکن شندے-فڑنویس حکومت کسانوں کے مسائل سے پوری طرح سے لاتعلق بنی ہوئی ہے۔ کسانوں کے دکھ سے بے خبر اس حکومت کے وزرا تضحیک آمیز بیانات دے رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ مہاراشٹر میں پہلے بھی کسان خودکشی کرتے رہے ہیں۔ حکومت کے پاس کسانوں کی مدد کرنے کی خواہش ہونی چاہیے لیکن اس حکومت کا ایسا کوئی ارادہ نظر نہیں آرہا ہے۔ پٹولے نے کہا کہ دو دن کے بعد گڈی پاڑوا کا تہوار ہے۔ لیکن بڑا سوال یہ ہے کہ ایسے بحران میں کسان یہ تہوار کیسے منائیں گے ؟

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading