مہایوتی میں ایکناتھ شندے تنہا پڑ گئے، اقتدار کے لیے رسوائی قبول کرنے کے بجائے حکومت چھوڑ دیں: ہرش وردھن سپکال
اجیت پوار کی دہلی میں کامیاب مداخلت کے بعد پارتھ پوار کو زمین گھوٹالے میں کلین چِٹ ملنے کے اشارے
کانگریس نے بلدیاتی انتخابی مہم کا آغاز کر دیا، سپکال کی بی جے پی پر بدعنوانی و جرائم پیشہ عناصر کو ٹکٹ دینے کا شدید الزام
ممبئی/بلڈھانہ: مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ہرش وردھن سپکال نے الزام عائد کیا ہے کہ مہایوتی میں نائب وزیرِ اعلیٰ ایکناتھ شندے اب مکمل طور پر تنہا ہو گئے ہیں اور انہیں پارٹی کے ٹوٹنے کا خوف ستانے لگا ہے، جس کے باعث وہ احتجاج اور ناراضگی کے ڈراموں پر اتر آئے ہیں۔ سپکال نے کہا کہ یہ اتحاد نظریات، ترقی یا اعتماد کے لیے نہیں بلکہ صرف اور صرف اقتدار کے لیے قائم ہوا ہے اور اگر شندے واقعی ناراض ہیں یا کوئی ٹھوس پیش رفت نہیں ہو رہی تو انہیں رسوائی برداشت کرنے کے بجائے فوراً حکومت سے باہر آ جانا چاہیے۔
کانگریس کی بلدیاتی مہم کا آغاز کرتے ہوئے سپکال نے بلڈھانہ، چکھلی اور مہیکر میں عوامی جلسوں سے خطاب کیا اور پارٹی امیدواروں کو کامیاب بنانے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ بلڈھانہ میں مقابلہ ’بناؤ بمقابلہ بگاڑ‘ کا ہے اور عوام شہری جرائم، منشیات، بھتہ خوری اور بدعنوانی سے نجات چاہتے ہیں۔ سپکال کے مطابق شہر کے لوگ شائستہ، مہذب اور پرامن ماحول چاہتے ہیں اور کانگریس اسی جدوجہد کی نمائندہ ہے۔ انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سپکال نے کہا کہ مہایوتی کی تینوں پارٹیاں اقتدار کی مجبوری کے تحت ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوئی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ’ٹریپل انجن حکومت‘ کے اندر کھلے عام گروہی جنگ جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ کبھی ایکناتھ شندے ستارا کے ایک گاؤں میں کھیتوں کے بیچ ناراض بیٹھ جاتے ہیں تو کبھی دوسرے نائب وزیر اعلیٰ غائب ہو جاتے ہیں۔ ان کے مطابق شندے اقتدار کے بغیر رہ نہیں سکتے، اسی لیے دیویندر فڈنویس کی جانب سے ملنے والی ہر ناگوار صورتحال کو خاموشی سے برداشت کرنے پر مجبور ہیں۔
سپکال نے پونے کے متنازع زمین معاملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اجیت پوار نے دہلی جا کر مرکزی وزیرِ داخلہ امیت شاہ سے ’مجھے بچا لیجیے‘ کی التجا کی اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ دہلی میں ان کی کامیاب لابنگ کے نتیجے میں پارتھ پوار کو کلین چٹ مل گئی ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو 99 فیصد شراکت داری رکھنے والے پارتھ پوار کو چھوڑ کر صرف 1 فیصد شراکت دار اور چند افسروں کے خلاف کارروائی کیوں ہوتی؟ سپکال نے یاد دلایا کہ 70 ہزار کروڑ روپے کے مبینہ آبپاشی گھوٹالے کا الزام لگانے کے باوجود بی جے پی نے اجیت پوار کو اقتدار میں شامل کیا تھا۔سپکال نے بی جے پی پر سنگین الزام عائد کیا کہ بلدیاتی انتخابات میں ڈرگ مافیا، جرائم پیشہ افراد، بدعنوان عناصر اور سنگین مقدمات کا سامنا کرنے والوں کو ٹکٹ دیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی ایسے افراد کا ’سیاسی واشنگ‘ کر کے انہیں پارسا بنا کر پیش کرتی ہے، لیکن عوام کو اس بگڑی ہوئی سیاست کے دام میں نہیں آنا چاہیے اور اسے سختی سے مسترد کرنا چاہیے۔
MPCC Urdu News 19 November 25.docx