’گلی گلی میں شور ہے، الیکشن کمیشن چور ہے‘: ہرش وردھن سپکال
راہل گاندھی کا ووٹ چوری کے خلاف احتجاج دراصل جمہوریت بچانے کی جدوجہد ہے
مہایوتی حکومت نے مہاراشٹر کو گجرات کے پاس گروی رکھ دیا ہے
ممبئی/ناگپور: ملک میں ووٹ چوری کے حالیہ انکشافات نے سیاسی فضا میں ہلچل مچا دی ہے اور اس بحث کے مرکز میں کانگریس کے لیڈر اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی ہیں، جنہوں نے انتخابی عمل میں مبینہ جعل سازی کے ثبوت سامنے رکھ کر بی جے پی اور الیکشن کمیشن دونوں پر سنگین سوالات کھڑے کر دیئے ہیں۔ اسی پس منظر میں مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ہرش وردھن سپکال نے ناگپور میں کہا ہے کہ یہ معاملہ کسی ایک سیاسی پارٹی کا نہیں بلکہ پورے ملک، جمہوریت، آئین اور عوام کے حقوق کا معاملہ ہے۔ ان کے بقول راہل گاندھی کی یہ جدوجہد آئینی اقدار کے تحفظ کے لیے ہے اور ملک کا ہر شہری اس میں آواز بلند کرنے کا پابند ہے۔
میڈیا سے بات کرتے ہوئے کانگریس کے ریاستی صدر نے کہا کہ جب ہر گلی اور ہر شہر میں عوام یہ نعرہ لگانے پر مجبور ہوں کہ ’گلی گلی میں شور ہے، الیکشن کمیشن چور ہے‘ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اعتماد کی بنیادیں ہل چکی ہیں اور جمہوریت کی جڑیں کمزور کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ریٹائرڈ افسران کے ایک خط سے حقیقت تبدیل نہیں ہو سکتی اور نہ ہی اس سے اس سنگین دھاندلی پر پردہ پڑ سکتا ہے جس کی نشاندہی راہل گاندھی بارہا کر چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی شفافیت کا سوال عوام کا سوال ہے اور اسی لیے راہل گاندھی کے شروع کیے گئے اس ملک گیر احتجاج میں سب کو شریک ہونا چاہئے۔
مہاراشٹر کی سیاست پر بات کرتے ہوئے سپکال نے الزام لگایا کہ مہایوتی حکومت نے ریاست کا وقار اور سیاسی خودمختاری گجرات کے پاس گروی رکھ دیا ہے۔ ریاست کے فیصلے مہاراشٹر میں نہیں بلکہ دہلی میں ہوتے ہیں اور عملی طور پر ریاست کا پورا نظم و نسق مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کے ہاتھوں میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایکناتھ شندے ہوں یا اجیت پوار، دونوں کو ہر معاملہ دہلی لے جانا پڑتا ہے اور اس کی وجہ مہایوتی حکومت اندرونی کھینچا تانی اور باہمی عدم اعتماد ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اجیت پوار کی دہلی دورے کے فوراً بعد پارتھ پوار کو پونے کی اراضی کے معاملے میں کلین چِٹ مل جانا اس کا ثبوت ہے کہ ریاست کی زمام کار وزیر داخلہ امت شاہ کے ہاتھوں میں ہے۔
راج ٹھاکرے کی ایم این ایس کے ساتھ اتحاد کے امکان پر سپکال نے واضح کیا کہ کانگریس کو اس بارے میں نہ تو ممبئی اور نہ ہی ریاست کی سطح پر کوئی رسمی تجویز موصول ہوئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ لوکل سطح کے فیصلوں کا اختیار متعلقہ تنظیمی اکائیوں کے پاس ہے اور ممبئی کے بے شمار کانگریس کارکن اس بات پر قائم ہیں کہ میونسپل انتخابات پارٹی اپنے بل بوتے پر لڑے۔ انہوں نے کہا کہ اتحاد کی بات کرنے والوں کو پہلے باقاعدہ تجویز رکھنی چاہیے جس کا فیصلہ قومی سطح پر ہوگا۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ شیوسینا ایک خودمختار پارٹی ہے اور وہ جس سے چاہے اتحاد کرے، یہ اس کا داخلی معاملہ ہے۔ ایم این ایس کی جانب سے لگائے گئے الزامات کے جواب میں سپکال نے کہا کہ مراٹھی صرف زبان نہیں، مہاراشٹر کی تہذیب اور شناخت ہے اور کانگریس کو مہاراشٹر دھرم سکھانے کی ضرورت نہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ جب اسکولوں میں پہلی جماعت سے ہندی کو جبراً نافذ کرنے کی کوشش کی گئی تو سب سے پہلے کانگریس نے ہی اس کی مخالفت کی تھی اور آج بھی وہ اسی اصول پر قائم ہے کہ زبان، شناخت اور کلچر کا تحفظ آئینی حق ہے۔
انتخابی مہم کے سلسلے میں سپکال نے آج ودربھ کے متعدد شہروں امراؤتی، اکولہ، چاندور ریلوے، انجن گاؤں سورجی، اکوٹ اور بالاپور میں کانگریس امیدواروں کے حق میں جلسوں سے خطاب کیا اور عوام سے اپیل کی کہ وہ ریاست میں بڑھتی ہوئی بدنظمی، غیر یقینی صورتحال اور گرتی جمہوری اقدار کے خلاف متحد ہوکر مضبوط سیاسی فیصلہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ مہایوتی حکومت کے طرزِ حکمرانی نے مہاراشٹر کو ایک ایسی سیاسی افراتفری کی طرف دھکیل دیا ہے جس سے نکلنے کے لیے عوامی بیداری اور منظم جدوجہد از حد ضروری ہے۔
MPCC Urdu News 20 November 25.docx