MPCC Urdu News 19 May 25

چیف جسٹس آف انڈیا بھوشن گوئی کا پروٹوکول کی خلاف ورزی کے ذریعے توہین

کیا امبیڈکری نظریات رکھنے کی وجہ سے ہوا یہ سلوک؟: نانا پٹولے

ریاستی حکومت چیف جسٹس کی توہین کے مرتکب افسران کے خلاف کیا کارروائی کرے گی؟

اگر حکومت تمام ذات اور مذاہب کو یکساں مانتی ہے تو فلم ’پھُلے‘ کو ٹیکس فری کیا جائے

ممبئی: بھارت کے چیف جسٹس اور مہاراشٹر کے فرزندِ فخر بھوشن گوئی کی تقرری پر پورے مہاراشٹر کو ناز ہے، لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ اسی ریاست کی بی جے پی اتحاد حکومت اور اس کے اعلیٰ افسران نے ان کے منصب کی توہین کی۔ ان کے لیے مقرر کردہ آئینی پروٹوکول کی عدم پیروی کر کے ان کے عہدے کے وقار کو مجروح کیا گیا، جو نہ صرف مہاراشٹر بلکہ ملک کے آئین اور عدالتی نظام کی توہین کے مترادف ہے۔ اس سنگین معاملے پر کانگریس کے سینئر رہنما نانا پٹولے نے ریاستی حکومت سے جواب طلب کیا ہے کہ چیف جسٹس کے پروٹوکول کی خلاف ورزی کر کے ان کی توہین کرنے والے افسران کے خلاف کیا کارروائی کی جائے گی؟

صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے نانا پٹولے نے کہا کہ صدرِ جمہوریہ، نائب صدر، وزیرِ اعظم، لوک سبھا اسپیکر اور چیف جسٹس آف انڈیا ان تمام اعلیٰ عہدیداروں کے لیے مخصوص آئینی پروٹوکول مقرر ہے۔ ان کے دوروں کی پیشگی اطلاع دی جاتی ہے اور ان کا پرتباک خیرمقدم کیا جاتا ہے۔ لیکن مہاراشٹر حکومت کے افسران یہ کہہ رہے ہیں کہ انہیں چیف جسٹس گوئی کے دورے کی اطلاع نہیں تھی، جو کہ ایک غیر معقول اور ناقابلِ قبول جواز ہے۔

نانا پٹولے نے سوال اٹھایا کہ ریاستی حکومت کا چیف جسٹس گوئی کے ساتھ یہ رویہ آخر کس بنیاد پر تھا؟ کیا ان کے امبیڈکری پس منظر کی وجہ سے ان کے ساتھ اس طرح کا امتیازی سلوک روا رکھا گیا؟ یا یہ سب کچھ ریاست کی اعلیٰ قیادت کی ہدایات پر ہوا؟ انہوں نے کہا کہ یہ سوالات نہایت اہم ہیں اور عوام کے سامنے حقائق آنا ضروری ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مہاراشٹر کی سرزمین شیو، شاہو، پھُلے اور امبیڈکر جیسے عظیم مفکرین کی وراثت رکھتی ہے، اور ایسے ریاست میں ایک امبیڈکری نظریات کے حامل شخص کا ملک کے چیف جسٹس کے عہدے تک پہنچنا یقیناً فخر کی بات ہے۔ لیکن اگر ان کے ساتھ روا رکھے گئے سلوک کی جڑ ان کے نظریات سے جڑی ہوئی ہے تو یہ انتہائی تشویشناک ہے۔

نانا پٹولے نے اس موقع پر حکومت سے یہ مطالبہ بھی کیا کہ اگر وہ واقعی مساوات اور تمام مذاہب و طبقات کے احترام پر یقین رکھتی ہے، تو مہاتما جوتیبا پھولے کی زندگی پر مبنی فلم ’فُلے‘ کو ٹیکس فری قرار دے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب کئی دیگر فلموں کو ریاستی حکومت ٹیکس فری قرار دے چکی ہے، تو پھر ’فُلے‘ فلم کے ساتھ امتیازی سلوک کیوں روا رکھا جا رہا ہے؟ کانگریس لیڈر نے اس معاملے کو مہاراشٹر کے وقار، آئینی اقدار اور سماجی انصاف سے جوڑتے ہوئے زور دیا کہ حکومت فوری طور پر وضاحت دے اور متعلقہ افسران کے خلاف مناسب کارروائی کرے۔

آل پارٹی ڈیلیگیشن کو پارلیمانی حیثیت دی جانی چاہیے: پرتھوی راج چوہان

بی سی سی آئی حکومت سے بڑی نہیں، پاکستان دہشت گردی کو بڑھاوا دے رہا ہے تو ایسے ملک سے میچ کھیلنے کا فیصلہ غلط ہے

ممبئی: کانگریس کے سینئر لیڈر اور مہاراشٹر کے سابق وزیر اعلیٰ پرتھوی راج چوہان نے پیر کے روز ممبئی میں واقع کانگریس کے ریاستی دفتر میں مرکزی حکومت کی پالیسیوں اور حالیہ فیصلوں پر کڑی تنقید کی۔ انہوں نے ’ون نیشن، ون الیکشن‘ سے لے کر ای وی ایم، آل پارٹی ڈیلیگیشن، ایشیا کپ اور پاکستان سے متعلق پانی کے تنازعات جیسے کئی اہم مسائل پر کھل کر اظہارِ خیال کیا۔

پرتھوی راج چوہان نے کہا کہ ملک نے جنگی حالات میں بھی شفافیت کو برقرار رکھا ہے۔ 965 میں نہرو، 1971 میں اندرا گاندھی اور کارگل جنگ کے دوران اٹل بہاری واجپئی پارلیمنٹ کو باقاعدگی سے معلومات دیتے تھے۔ مگر آج کے وزیراعظم نہ عوام کے سامنے آتے ہیں، نہ پریس کانفرنس کرتے ہیں اور نہ ہی پارلیمنٹ کا اجلاس طلب کرتے ہیں۔ حکومت ہند کو پاکستان کے مقبوضہ کشمیر (POK) پر واضح پالیسی اپنانا چاہیے، لیکن بدقسمتی سے ایسی کوئی پالیسی دکھائی نہیں دیتی۔

’ون نیشن،ون الیکشن‘ پر تبصرہ کرتے ہوئے چوہان نے کہا کہ اگرچہ اس کے کچھ فوائد گنوائے جا رہے ہیں، لیکن برطانوی پارلیمانی نظام میں لوک سبھا یا ریاستی اسمبلی کو کسی بھی وقت تحلیل کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں خود 1996، 1998 اور 1999 میں تین سالوں میں تین بار لوک سبھا انتخابات لڑ چکا ہوں۔ اس کا مطلب ہے کہ کسی بھی وقت لوک سبھا تحلیل ہو سکتی ہے اور اس کے بعد جو وقت بچتا ہے اس کے لیے نئے انتخابات کرانا پڑتے ہیں۔

انہوں نے مرکزی حکومت پر الزام لگایا کہ وہ امریکی طرز کی انتخابی اصلاحات بھارت میں لاگو کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جس کی کانگریس شدید مخالفت کرتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی پرتھوی راج چوہان نے الیکٹرانک ووٹنگ مشین (EVM) پر مکمل پابندی کا مطالبہ ایک بار پھر دہرایا اور کہا کہ دنیا بھر میں ای وی ایم کی مخالفت ہو رہی ہے، لیکن مرکزی حکومت اب تک انہیں ختم کرنے پر آمادہ نہیں ہے۔

مدھیہ پردیش کے وزیر وجے شاہ کے بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر وزیراعظم مودی چاہیں تو وجے شاہ کو ایک گھنٹے میں برطرف کر سکتے ہیں، لیکن وہ ایسا نہیں کرتے کیونکہ انہیں اپنے وزرا میں قبائلی ووٹ بینک نظر آتا ہے۔ چوہان نے کہا کہ وجے شاہ نے ’آپریشن سندور‘ میں شامل بھارتی فوج کی کرنل صوفیہ قریشی سے متعلق انتہائی نامناسب بیان دیا ہے۔ جب اس معاملے پر عدالت نے بھی سخت تبصرہ کیا ہے، تب بھی اس وزیر کو تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے، جو کہ انتہائی قابل مذمت ہے۔

چوہان نے مزید کہا کہ آل پارٹی ڈیلیگیشن کو صرف نمائشی نہ رکھا جائے بلکہ اسے مکمل پارلیمانی حیثیت دی جائے تاکہ قومی مسائل پر متحدہ اور بامعنی موقف اپنایا جا سکے۔ اس پریس کانفرنس کے ذریعے پرتھوی راج چوہان نے مرکزی حکومت کے طرز عمل، شفافیت کی کمی اور منتخب طرزِ حکمرانی پر سنجیدہ سوالات کھڑے کیے ہیں، جو مستقبل کی سیاست میں ایک نئی بحث کو جنم دے سکتے ہیں۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading