کانگریس، این سی پی- ایس پی اور بی جے پی چھوڑنے والے کارپوریٹروں کے اشتراک سے بھیونڈی میں سیکولر فرنٹ کا میئر منتخب ہوگا: ہرش وردھن سپکال

اقتدار کے لیے نظریات پر سمجھوتہ نہیں، بی جے پی کو اقتدار سے دور رکھنے کے لیے بھیونڈی میں سیکولر فرنٹ کی تشکیل

ممبئی: مہاراشٹر کانگریس کے ریاستی صدر ہرش وردھن سپکال نے کہا ہے کہ بھیونڈی میونسپل کارپوریشن میں کانگریس، این سی پی- ایس پی اور بی جے پی چھوڑ کر آنے والے کارپوریٹروں کے تعاون سے سیکولر فرنٹ کے تحت میئر اور ڈپٹی میئر کا انتخاب کیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ کانگریس کسی بھی صورت میں بی جے پی کے ساتھ اقتدار کی شراکت نہیں کرے گی اور نہ ہی نظریات پر کوئی سمجھوتہ کیا جائے گا۔

تلک بھون میں رکن پارلیمنٹ سریش مہاترے عرف بالیا ماما کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سپکال نے بتایا کہ بھیونڈی میونسپل کارپوریشن کا انتخاب کانگریس نے تنہا لڑا اور اس کے سب سے زیادہ 30 کارپوریٹر منتخب ہوئے۔ این سی پی- ایس پی کے 12 کارپوریٹروں کی حمایت حاصل ہوئی، مگر اکثریت کے لیے مزید ۴ اراکین درکار تھے۔ کانگریس کی واضح پالیسی ہے کہ بی جے پی یا شندے سینا کے ساتھ کوئی اتحاد نہیں کیا جائے گا، اور اس مؤقف پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے بعض کارپوریٹروں نے پارٹی اور اس کے نظریات سے علاحدگی اختیار کر کے سیکولر محاذ میں شمولیت اختیار کی ہے۔ بی جے پی کے کارپوریٹر نارائن چودھری، جو ماضی میں کانگریس سے ہی وابستہ رہے ہیں، انہوں نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ بی جے پی چھوڑ کر ایک علاحدہ گروپ قائم کیا اور کانگریس قیادت والے محاذ کا حصہ بننے کا فیصلہ کیا ہے۔

کانگریس کے ریاستی صدر نے کہا کہ گزشتہ 24 دنوں سے ہم خیال پارٹیوں سے مذاکرات جاری تھے، اور اب تعطل ختم ہو گیا ہے۔ میئر، ڈپٹی میئر اور اسٹینڈنگ کمیٹی کے حوالے سے حتمی فیصلہ کرنے کے لیے جلد مبصرین بھیجے جائیں گے جو تمام متعلقہ اراکین سے مشاورت کے بعد فیصلہ کریں گے۔ سپکال نے کہا کہ بی جے پی کو اقتدار سے دور رکھنا کانگریس کی اصولی پالیسی ہے اور بھیونڈی میں کانگریس کے ۳۰، این سی پی- ایس پی کے 12 ور بی جے پی چھوڑ کر آنے والے کارپوریٹروں کے اشتراک سے میئر منتخب کیا جائے گا۔ اس موقع پر بھیونڈی سے این سی پی- ایس پی کے رکن پارلیمنٹ بالیا ماما مہاترے نے کہا کہ گزشتہ 24 دنوں سے بھیونڈی میں کانگریس اور راشٹروادی کانگریس کے اشتراک سے سیکولر فرنٹ کے قیام کی کوشش جاری تھی۔ سماج وادی پارٹی سے بھی بات چیت کی گئی، مگر انہوں نے شندے سینا کے ساتھ جانے کا فیصلہ کیا۔ اب بی جے پی سے مستعفی ہونے والے کارپوریٹروں کی شمولیت کے بعد اقتدار کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading