’ڈو مت‘ کا پیغام اپنائیں گے، اتحاد اور سالمیت کا مشعل لے کر آگے بڑھیں گے: ہرش وردھن سپکال
ہم ’بھارت جوڑنے‘ والے ہیں، خاندان توڑنے والے نہیں، راج اور ادھو ٹھاکرے کا ایک ہونا خوش آئند
پونے: مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ہرش وردھن سپکال نے کہا ہے کہ ملک میں جمہوریت اور دستور کو پس پشت ڈال کر آمریت نافذ کی جا رہی ہے۔ آج ملک کا ہر طبقہ خوف اور دباؤ میں زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ برسراقتدار قوتیں معاشرے میں خوف کی فضا قائم کر رہی ہیں، لیکن ہمیں ڈگمگانا نہیں، بلکہ اتحاد اور سالمیت کا چراغ لے کر آگے بڑھنا ہے۔ راہل گاندھی کی ’بھارت جوڑو یاترا‘ کے دوران دیا گیا پیغام ’ڈرو مت‘ آج ہر شہری کا نصب العین ہونا چاہیے۔
سپکال پونے میں منعقدہ ’مائناریٹی یوتھ پارلیمنٹ‘ سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں دستور کو غیر مؤثر بنانے اور اقلیتوں کو حاشیے پر ڈالنے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔ اقلیتوں، کسانوں، بے روزگار نوجوانوں، خواتین، گھریلو خواتین حتیٰ کہ شری شیو راج کے پیروکاروں میں بھی خوف کا ماحول ہے۔ ہر طبقہ مہنگائی، عدم تحفظ اور آئینی حقوق کی پامالی سے پریشان ہے، لیکن افسوسناک بات یہ ہے کہ جو عناصر شری چھترپتی شواجی مہاراج جیسے عظیم رہنماؤں کی توہین کرتے ہیں، ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہو رہی۔
سپکال نے زور دے کر کہا کہ اکثریتی سماج کو اقلیتوں کا تحفظ کرنا چاہیے، لیکن موجودہ حالات اس کے برعکس ہیں۔ ان حالات کا مقابلہ صرف اتحاد، یکجہتی اور قومی سالمیت کے جذبے کے ساتھ ہی ممکن ہے۔ انہوں نے اپنے خطاب کے اختتام پر ایک شاعرانہ انداز میں کہا کہ ’ نظر کو بدلو تو نظارے بدل جاتے ہیں، سوچ کو بدلو تو ستارے بدل جاتے ہیں، کشتیوں کو بدلنے کی ضرورت نہیں، سمتوں کو بدلو تو کنارے بدل جاتے ہیں۔‘
پروگرام کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے سپکال نے ادھو ٹھاکرے اور راج ٹھاکرے کے ممکنہ اتحاد پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر یہ دونوں ایک ساتھ آتے ہیں تو اس کا خیر مقدم کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی مہاراشٹر کو مسلسل نقصان پہنچا رہی ہے، صنعتیں ریاست سے باہر جا رہی ہیں، اور مہا یوتی کی پالیسیاں مہاراشٹر کے مفاد کے خلاف ہیں۔ بی جے پی نہ صرف دستور کی مخالف ہے بلکہ مہاراشٹر کے مذہبی، لسانی اور تہذیبی اقدار کو بھی نقصان پہنچا رہی ہے۔
سپکال نے کہا کہ مہاراشٹر کی تہذیب شیو، شاہو، پھولے اور امبیڈکر کے نظریات پر مبنی ہے، جہاں سب کو ساتھ لے کر چلنے کی روایت ہے، لیکن بی جے پی اس روایت کو توڑنے کی کوشش کر رہی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ راج ٹھاکرے کے حالیہ بیانات بھی اس حقیقت کی تائید کرتے ہیں۔ ہم کانگریس کے لوگ بھارت جوڑنے والے ہیں، خاندان توڑنے والے نہیں۔ اگر دو خاندان قریب آ رہے ہیں تو اس پر اعتراض کی ضرورت نہیں، بلکہ اس کا خیر مقدم کیا جانا چاہیے۔