سسون اسپتال کی رپورٹ ناقابل قبول، اسے نذرِ آتش کر دیا جائے: سپریا سولے

ایک بیٹی کی ہلاکت کے بعد بھی حکومت کی بے حسی شرمناک، جب تک انصاف نہیں ملتا ہم خاموش نہیں بیٹھیں گے

پونے: نیشنلسٹ کانگریس شردچندرا کی قومی صدر اور رکنِ پارلیمنٹ سپریا سولے نے سسون اسپتال کی رپورٹ پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ دیناناتھ منگیشکر اسپتال میں پیش آئے واقعے کی جو رپورٹ جاری کی گئی ہے، وہ سراسر گمراہ کن اور ناقابل قبول ہے۔ یہ رپورٹ متاثرہ خاتون اور اس کے اہل خانہ کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔ ہم ایسی رپورٹ کو مسترد کرتے ہیں، بلکہ میں کہنا چاہوں گی کہ ایسی رپورٹ کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دینا چاہیے یا پھر نذرِ آتش کر دینا چاہئے۔

پونے میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سپریا سولے نے کہا کہ دیناناتھ منگیشکر اسپتال اور ڈاکٹر گھیساس کو بچانے کے لیے جان بوجھ کر ایک جانبدارانہ رپورٹ تیار کی گئی ہے۔ ہمارے پارٹی کے ساتھی پرشانت جگتاپ اس معاملے کو لے کر 24 اپریل کو ہائی کورٹ میں درخواست دائر کرنے جا رہے ہیں، جس پر میں ان کا شکریہ ادا کرتی ہوں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ایک بیٹی، بیوی یا ماں کی موت کے بعد بھی اگر حکومت اس قدر بے حس بنی رہے اور سچ کو چھپانے والی رپورٹیں تیار کرے، تو یہ انتہائی تشویشناک اور افسوسناک ہے۔

سپریا سولے نے مزید کہا کہ ہم یہ رپورٹ کسی بھی صورت میں قبول نہیں کریں گے۔ یہ رپورٹ نہ صرف جھوٹی ہے بلکہ انصاف کا مذاق اڑانے والی ہے۔ ہم متاثرہ خاتون کو انصاف دلانے کے لیے ہر ممکن قانونی جنگ لڑیں گے، اور جب تک انصاف نہیں ملتا، ہم خاموش نہیں بیٹھیں گے۔ حکومت اگر انسانیت بھول گئی ہے تو ہم نہیں بھولے۔

سپریا سولے نے کہا کہ ہمیں اس رپورٹ پر ذرہ برابر بھی بھروسہ نہیں ہے، اسی لیے ہم اس کی تفصیلات میں وقت ضائع نہیں کریں گے۔ ایک بہن کا قتل ہوا ہے اور ہم اس ریاست میں کسی اور بہن یا بیٹی کے ساتھ ایسا ہونے نہیں دیں گے۔ حکومت کی طرف سے ملزموں کو بچایا جا رہا ہے، اور ہمیں انصاف کے لیے عدالتوں کا رخ کرنا پڑ رہا ہے۔ اگر ضرورت پڑی تو ہم سڑکوں پر بھی اتریں گے، لیکن قاتلوں کو سزا دلوا کر ہی دم لیں گے۔

سپریا سولے نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اگر جھوٹ پر مبنی ایسی رپورٹیں تیار کی جاتی ہیں تو رپورٹ بنانے والوں کو بھی شریکِ جرم قرار دیا جانا چاہیے۔ یہ ملک دستور کے تحت چلتا ہے، اور آخرکار فتح سچ کی ہی ہوتی ہے، چاہے ظلم کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو۔ ہم نے بھیسے خاندان سے ملاقات کی ہے، تمام کاغذات کا بغور مطالعہ کیا ہے اور ہم اپنی بات پر پوری طرح قائم ہیں۔ یہ کوئی سیاسی مسئلہ نہیں بلکہ انسانیت کا مسئلہ ہے، اور ہم انسانیت کے ناتے یہ لڑائی لڑ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک بیٹی کا قتل ہو جاتا ہے اور حکومت قاتلوں کے ساتھ کھڑی نظر آتی ہے، یہ ملک کے لیے انتہائی افسوسناک اور شرمناک بات ہے۔ ہم انصاف کے حصول تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading