MPCC Urdu News 18 July 25

ریاست میں دہشت اور غنڈہ گردی بی جے پی کی پشت پناہی سے پنپ رہی ہے: بالاصاحب تھورات

ممبئی: کانگریس کے سینئر لیڈر، سابق وزیر اور مہاراشٹر اسمبلی کے سابق اپوزیشن لیڈر بالاصاحب تھورات نے بی جے پی اتحاد حکومت پر شدید حملہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مہاراشٹر میں پھیلتی ہوئی غنڈہ گردی اور سیاسی دہشت گردی دراصل بھارتیہ جنتا پارٹی کی پشت پناہی سے فروغ پا رہی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اسمبلی میں حالیہ ہنگامہ اور عوامی نمائندوں پر حملے دراصل دانستہ طور پر ریاستی سطح پر دہشت کا ماحول قائم کرنے کی منظم کوششیں ہیں اور اس کا براہ راست فائدہ بی جے پی کو حاصل ہو رہا ہے۔

بالاصاحب تھورات نے کہا کہ اسمبلی میں جو کچھ ہوا، یا ممبرانِ اسمبلی کی رہائش گاہوں میں جو جھگڑے ہوئے، وہ سب اتفاقی نہیں بلکہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کا حصہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بیڑ ضلع میں ایک بے گناہ سرپنچ کو بے دردی سے قتل کر دیا گیا، ایک ایم ایل اے نے تھانے میں فائرنگ کی، تو دوسرا اسمبلی کی کینٹین میں ویٹر کو پیٹ رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ شنبھاجی بریگیڈ کے ریاستی صدر پروین گائیکواڈ پر جس گروہ نے حملہ کیا وہ دراصل بی جے پی سے وابستہ غنڈے تھے۔ ان کے مطابق بی جے پی نے کچھ عناصر کو سماج کے خلاف زہر اگلنے اور بزرگوں کو بے عزت کرنے کی کھلی چھوٹ دے رکھی ہے، اور اسی کے ذریعے ریاست میں خوف کا ماحول بنایا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج ہر کوئی جانتا ہے کہ مہاوکاس اگھاڑی کی حکومت کیسے گرائی گئی، کس طرح دھاندلی سے نتائج بدلے گئے، اور پارٹیوں کو توڑا گیا۔ اب ریاست میں کوئی نظم و نسق باقی نہیں رہا، اور بی جے پی کی پشت پناہی سے غنڈوں کا راج قائم ہو چکا ہے۔ ایک طرف حملہ کرنے والوں کو تحفظ دیا جا رہا ہے، اور دوسری طرف مار کھانے والوں پر ہی کارروائی ہو رہی ہے، جو جمہوری اقدار کے خلاف ہے۔ تھورات نے کہا کہ انہوں نے چالیس سال اسمبلی کی رکنیت کی ہے، مگر ایسے حالات کبھی نہیں دیکھے۔ اختلافات کے باوجود پہلے سب ایک ساتھ بیٹھ کر چائے پیتے تھے، لیکن اب اسمبلی میں غنڈے گھس آئے ہیں جنہیں سرکاری سرپرستی حاصل ہے۔

پروین گائیکواڈ پر حملے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ شاہو، پھولے، امبیڈکر اور چھترپتی شیواجی مہاراج کے مساواتی نظریے کو فروغ دے رہے تھے، جو کچھ شدت پسند عناصر کو برداشت نہیں ہوا، اس لیے ان پر حملہ کروایا گیا۔ تھورات نے کہا کہ حملہ آور ’کاٹے‘ نامی شخص ہے جو بی جے پی کا عہدیدار بھی ہے۔ ایسے لوگوں کو پارٹی میں عہدے دینا ریاست کی جمہوریت پر حملے کے مترادف ہے، اور عوام کو ان کے خلاف بیدار ہونا چاہیے۔ تھورات نے اپیل کی کہ عوام مزید حساس بنیں، ان حملوں کے پیچھے اصل منصوبہ سازوں کو بے نقاب کریں، اور حکومت کے خلاف آواز بلند کریں۔

تھورات نے حکومت کی جھوٹی انتخابی وعدہ خلافیوں پر بھی سوال اٹھایا۔ ان کا کہنا تھا کہ مہاوکاس اگھاڑی کو ہٹا کر جو حکومت قائم کی گئی، اس نے بہنوں کو 2100 روپے دینے کا وعدہ کیا تھا، جو آج 1500 بھی وقت پر نہیں دیتی۔ روز نئی خواتین کی اسکیم سے نام نکالے جا رہے ہیں، کسانوں کی قرض معافی کا کوئی نام و نشان نہیں، اور حکومت اب ان مسائل پر بات کرنے سے بھی کترا رہی ہے۔ تھورات نے کہا کہ کسانوں کو ان کے حقوق کے لیے جاگنا ہوگا اور حکومت سے سوال کرنا ہوگا۔

MPCC Urdu News 18 July 25.docx

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading