کیا یہ جمہوریت کی عصمت پر حملہ ہے؟ — مہاراشٹر اسمبلی احاطے می ں سیاسی غنڈہ گردی، وائرل ویڈیو، سنگین الزامات اور حکومت سے سوالات

کیا یہ جمہوریت کی عصمت پر حملہ ہے؟ — مہاراشٹر اسمبلی احاطے میں سیاسی غنڈہ گردی، وائرل ویڈیو، سنگین الزامات اور حکومت سے سوالات

ممبئی، 18 جولائی (آفتاب شیخ)

مہاراشٹر کی اسمبلی احاطہ، جو قانون سازی اور عوامی نمائندگی کی علامت سمجھا جاتا ہے، گزشتہ روز سیاسی غنڈہ گردی کا میدان بن گیا۔ بی جے پی کے ایم ایل اے گوپی چند پڈلکر کے حامیوں اور این سی پی (شرد پوار گروپ) کے سابق وزیر و سینئر لیڈر ڈاکٹر جتیندر آوہاد کے ساتھیوں کے درمیان زبردست تصادم ہوا، جس نے نہ صرف ایوان کے وقار کو مجروح کیا بلکہ جمہوری اقدار پر بھی سنگین سوالات کھڑے کیے۔

آوہاد کے ساتھی نیتن دیشمکھ کو مبینہ طور پر پڈلکر کے حامیوں نے اسمبلی احاطہ میں زدوکوب کیا۔ یہ واقعہ اسمبلی کی عمارت کے اندر پیش آیا، جس کے بعد ہنگامہ برپا ہو گیا۔

ویڈیو وائرل، عوام میں غصہ

اس جھڑپ کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو گئی، واقعے کے دوران دونوں فریقوں کے درمیان کشاکش کا ماحول پیدا ہو گیا۔یہ واقعہ ایک سیاسی تصادم میں تبدیل ہو گیا، جس نے ایوان کی ساکھ کو مجروح کیا۔ اس ویڈیو نے عوام اور سیاسی حلقوں میں شدید برہمی پیدا کی ہے۔

"غنڈے اسمبلی میں؟" — جتیندر آوہاد کا زوردار احتجاج

جتیندر آوہاد نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا:

"یہ حملہ منصوبہ بند تھا۔ میں نے جیسے ہی اپنی تقریر مکمل کی اور باہر نکلا، غنڈے میرے سامنے آ گئے۔ مجھے گالیاں دی گئیں، جان سے مارنے کی دھمکیاں دی گئیں۔ ’کتے‘ اور ’سؤر‘ جیسے ناپاک الفاظ استعمال کیے گئے۔ کیا اسی دن کے لیے ہم ایم ایل اے بنے تھے؟ اگر اسمبلی میں ہی ہم محفوظ نہیں، تو پھر کہاں جائیں؟"

انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب پورے مہاراشٹر نے حملہ آوروں کو ویڈیو میں دیکھ لیا ہے، تو پھر ہم سے ثبوت کیوں مانگا جا رہا ہے؟

سیاسی ردعمل — شرمندگی، مذمت اور طنز

بی جے پی ایم ایل اے گوپی چند پڈلکر نے واقعے پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا:

"یہ ایک افسوسناک واقعہ ہے، میں اس پر شرمندہ ہوں اور اسمبلی اسپیکر اور قانون ساز کونسل کے چیئرمین سے معذرت خواہ ہوں۔"

سابق وزیراعلیٰ اور شیوسینا سربراہ ادھو ٹھاکرے نے حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا:

"اگر غنڈے ودھان بھون تک پہنچ چکے ہیں، تو ریاست کے وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ کو اس کی پوری ذمہ داری لینی چاہیے۔"

کانگریس لیڈر نانا پٹولے نے بھی واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا:

"مہاراشٹر کی ودھان سبھا کی ایک تہذیبی روایت رہی ہے، جس پر پورے ملک کو فخر ہوتا ہے۔ مگر آج جو کچھ ہوا، وہ شرمناک ہے۔ اسپیکر اور وزیر اعلیٰ کو اس کی سنگینی سے نمٹنا چاہیے۔"

وزیر اعلیٰ دیویندر فڈنویس نے واقعے کو "بالکل نامناسب" قرار دیتے ہوئے کہا:

"ودھان بھون میں ایسی لڑائیاں نہیں ہونی چاہئیں۔ میں نے تفتیش کی ہدایت دی ہے۔"

طنز کا دور — کنال کامرا کی ’ہم ہوں گے کامیاب‘ ویڈیو

واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر طنزیہ تبصرے بھی سامنے آئے۔ مشہور کامیڈین کنال کامرا نے واقعے کی ویڈیوز کو ’ہم ہوں گے کامیاب‘ کی دھن پر جوڑ کر ایک ویڈیو ریلیز کی، جس میں اس واقعے پر بھرپور طنز کیا گیا۔ یہ ویڈیو عوام میں زبردست وائرل ہو رہی ہے۔

سوال باقی ہے: کیا یہ جمہوریت ہے؟

کیا قانون ساز اسمبلی کی دیواریں اب سیاستدانوں کی انا کی مار برداشت کریں گی؟ اگر عوام کے منتخب نمائندے ہی ایوان میں غیر محفوظ ہیں، تو عام شہری کی سلامتی کا کیا ہوگا؟
یہ صرف ایک مارپیٹ نہیں، یہ جمہوریت کے منہ پر ایک طمانچہ ہے۔

ایوان میں موجود انتظامیہ، اسپیکر، وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس واقعے پر سخت کارروائی کریں—ورنہ یہ نظیر بن جائے گی کہ جس کا ہاتھ لمبا، وہی قانون کا مالک!

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading