ممبئی: خواتین کے لیے مہالکشمی اسکیم کے علاوہ کانگریس حکومت نے کرناٹک، تلنگانہ، ہماچل پردیش میں کسانوں کو مفت بس سفر کی اسکیم اور قرض معافی دی۔ اس کے لیے کانگریس حکومت نے نہ تو کوئی بڑا پروگرام منعقد کیا اور نہ ہی کروڑوں روپے اشتہارات پر خرچ کئے۔ لیکن مہاراشٹر میں بی جے پی کی مہایوتی حکومت کی ٹینڈر جاری کرنے اور کمیشن لینے کی پالیسی کے تحت ’لاڈلی بہین‘ اسکیم کے اشتہار پر کروڑوں روپے خرچ کر رہی ہے۔ مہایوتی حکومت نے ’لاڈلی بہین‘ اسکیم کے اشتہار پر عوام کے 200 کروڑ روپے لٹائے ہیں۔
ریاستی کانگریس کے چیف ترجمان اتل لونڈھے نے مہایوتی پر حملہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ لوگوں کی محنت کی کمائی کو تقریبات، اشتہارات اور صرف اپنی سیاست چمکانے کے لیے برباد کیا جا رہا ہے۔
اس سلسلے میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے اتل لونڈھے نے مزید کہا کہ بی جے پی حکومت نے مہنگائی بڑھائی ہے۔ 70 روپے کا تیل 120 روپے میں یہاں تک کہ چینی، گڑ، دالیں اور سوجی جیسی اشیائے ضروریہ کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں۔ نوجوانوں کے پاس نوکریاں نہیں ہیں اس لیے بے روزگاری بڑھی ہے۔
کسانوں کو مالی مدد نہیں مل رہی ہے اور ایکناتھ شندے، دیویندر فڑنویس اور اجیت پوار لاڈلی بہین یوجنا کا اشتہار دے کر کیا لوگوں کو گمراہ کرنا چاہتے ہیں۔ کیا انہوں نے پیاری بہنوں کو گھر سے پیسے دیے ہیں یا اپنی جائیداد بیچ کر وہ انہیں ادئیگی کر رہے ہیں؟ لونڈڈے نے کہا کہ یہ عوام کا پیسہ ہے لیکن عوام کے ٹیکس کا پیسہ اشتہارات اور تقریبات پر ضائع کیا جا رہا ہے جس کی وجہ سے عام آدمی کا ناراض ہونا فطری ہے۔