یحییٰ السنوار کا غزہ میں مارے جانے کا شبہ’ڈی این اے‘کی جانچ جاری ہے:اسرائلی فوج

اسرائیلی فوج نےامکان ظاہر کیا ہے کہ غزہ میں حماس کے رہ نما یحییٰ السنوار کو غزہ کی پٹی میں جبالیہ پر حالیہ حملے میں قتل کردیا گیا ہے۔ فوج کا کہنا ہے کہ وہ السنوار کی لاش کے ڈی این اے کی جانچ کر رہی ہے۔اسرائیلی فوج کے ایک ترجمان نے کہا کہ "اس بات کا امکان ہے کہ حماس کے رہ نما السنوار کو ختم کر دیا گیا ہے”۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس مرحلے پر السنوار کی موت کی تصدیق نہیں کی جا سکتی”۔

اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’ہم شین بیت کے ساتھ اس امکان کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا السنوار غزہ میں فوجی کارروائی کے دوران مارے گئے ہیں‘‘۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ "غزہ کی پٹی میں آئی ڈی ایف فورسز کی سرگرمیوں کے دوران تین عناصر کو ختم کر دیا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ آئی ڈی ایف اور شین بیت دونوں امکان کا جائزہ لے رہے ہیں۔ ممکنہ طور پران تینوں میں ایک السنوار ہوسکتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس مرحلے پر عناصر کی شناخت کی قطعی تصدیق کرنا ممکن نہیں ہے۔

بیان میں اشارہ دیا گیا ہے کہ "عمارت میں علاقے میں مغویوں کی موجودگی کے کوئی اشارے نہیں ملے ہیں”۔ فوج اور شین بیت فورسز مطلوبہ احتیاطی تدابیر کے تحت میدان میں کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔

آج جمعرات کو اسرائیلی جنگی طیاروں نے شمالی غزہ کی پٹی کے جبالیہ کیمپ میں بے گھر ہونے والے افراد کے سکول پر بمباری کی جس میں کم از کم 22 فلسطینی ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

فلسطینی نیوز اینڈ انفارمیشن ایجنسی ’وفا‘ نے اطلاع دی ہے کہ بمباری میں ابو حسین پرائمری اسکول کو نشانہ بنایا گیا، جو کہ اقوام متحدہ کے ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی برائے فلسطینی پناہ گزینوں ’اونروا‘ سے منسلک ہے۔

اس نے نشاندہی کی کہ "قابض فوج کی بمباری کے نتیجے میں سکول کے صحن میں بے گھر ہونے والے لوگوں کے خیموں میں آگ بھڑک اٹھی”۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ ہلاک اور زخمیوں میں سے کچھ کو شمالی غزہ کی پٹی کے کمال عدوان اور العودہ ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے۔ ایمبولینس کا عملہ ہدف بنائے گئے سکول میں بقیہ تک پہنچنے سے قاصر ہے۔اسرائیلی فوج نے کہا کہ اس نے حماس اور اسلامی جہاد کے اجتماعی مرکز پر ایک کمپاؤنڈ کے اندر ایک ٹارگٹڈ حملہ کیا۔ اسرائیلی فوج نے دعویٰ کہا کہ اس سکول کو فلسطینی عسکریت پسند استعمال کررہے تھے اور وہاں چھپے ہوئے تھے۔

چند روز قبل ایک سینیر امریکی اہلکار نے کہا تھا کہ السنوار اب بھی غزہ کی پٹی میں سرنگوں میں سے ایک کے اندر ہے۔ اسرائیلی جنگی قیدی اس کے گھیرے میں ہیں۔مشرق وسطیٰ کے لیے وائٹ ہاؤس کے ایلچی بریٹ میک گرک نے تصدیق کی کہ حماس رہ نما کے حوالے سے تازہ ترین پیش رفت امریکی انتظامیہ کے لیے ہفتوں میں سب سے زیادہ تفصیلی ہے۔

انہوں نے یہ بھی وضاحت کی کہ امریکہ کا خیال ہے کہ حماس کے رہنما یحییٰ السنوار اب بھی زندہ ہیں اور ممکنہ طور پر غزہ میں زیر زمین سرنگ میں اپنے قیدیوں کے ساتھ چھپے ہوئے ہیں۔ْ

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading