ستارہ ضلع میں ایم ڈی ڈرگس فیکٹری معاملہ
نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے سے تعلقات کے باعث معاملہ دبانے کی کوشش: ہرش وردھن سپکال
ستارہ ڈرگس معاملے سے توجہ ہٹانے کے لیے ہی میونسپل کارپوریشن انتخابات کا عجلت میں اعلان
وزیر مانک راؤ کوکاٹے کو بچانے کی فڈنویس حکومت کی کوشش، 24 گھنٹے گزرنے کے باوجود گرفتاری کیوں نہیں؟
ممبئی: ستارہ ضلع کے ساولی گاؤں میں ایم ڈی ڈرگس کی ایک بڑی فیکٹری کا ممبئی کرائم برانچ نے پردہ فاش کیا ہے، لیکن فڈنویس حکومت اس انتہائی سنگین معاملے کو سنجیدگی سے نہیں لے رہی۔ اتنی بڑی ڈرگس فیکٹری سامنے آنے کے باوجود اب تک اس کے اصل سرغنہ کے خلاف کوئی ٹھوس کارروائی نہیں کی گئی ہے۔ ساولی گاؤں کے قریب ہی نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے کا آبائی گاؤں دارے واقع ہے اور الزام ہے کہ ان کے بھائی پرکاش شندے کے ذریعے یہ غیر قانونی کاروبار چلایا جا رہا تھا۔ ساولی گاؤں کی ڈرگس فیکٹری اور نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے کے مبینہ تعلقات کے باعث ہی حکومت سخت کارروائی سے گریز کر رہی ہے، یہ سنگین الزام مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ہرش وردھن سپکال نے عائد کیا ہے۔
تلک بھون میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کانگریس کے ریاستی صدر نے کہا کہ ساولی گاؤں میں اتنی بڑی ڈرگس فیکٹری چل رہی تھی اور اس کی اطلاع ستارہ پولیس کو تھی، اس کے باوجود کسی قسم کی کارروائی نہیں کی گئی۔ آخرکار ممبئی کرائم برانچ نے جا کر چھاپہ مارا۔ انہوں نے کہا کہ ستارہ کے پولیس سپرنٹنڈنٹ کے وزیر اعلیٰ دیویندر فڈنویس سے قریبی تعلقات ہیں۔ یہی وہ پولیس افسر ہیں جنہوں نے آنتراولی سراٹی میں مراٹھا ریزرویشن تحریک کے دوران مراٹھا سماج کی ماؤں اور بہنوں پر غیر انسانی لاٹھی چارج کیا تھا۔ کیا ستارہ ڈرگس معاملے میں شندے اور فڈنویس کی ملی بھگت ہے؟ اس سوال کا جواب فڈنویس اور شندے کو دینا چاہیے۔
ہرش وردھن سپکال نے مزید کہا کہ ستارہ ڈرگس معاملے سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے الیکشن کمیشن کی مدد سے میونسپل کارپوریشن انتخابات کا عجلت میں اعلان کیا گیا ہے۔ ابھی تک ووٹر لسٹیں شائع نہیں کی گئی ہیں۔ 15 تاریخ کو ووٹر لسٹیں جاری ہونی تھیں، لیکن اب بوتھ وار ووٹر لسٹیں 27 تاریخ کو جاری کی جائیں گی۔ نامزدگی کا عمل 23 تاریخ سے شروع ہو رہا ہے، جبکہ نامزدگی فارم میں امیدوار، تجویز کنندہ اور تائید کنندہ کو ووٹر لسٹ کا حصہ نمبر اور سیریل نمبر درج کرنا ضروری ہوتا ہے۔ جب ووٹر لسٹیں ہی دستیاب نہیں ہیں تو نامزدگیاں کیسے داخل کی جائیں گی؟ انہوں نے کہا کہ انتخابی پروگرام کو عجلت میں جاری کر کے الیکشن کمیشن نے اپنی فکری دیوالیہ پن کا مظاہرہ کیا ہے۔
مہایوتی حکومت کے وزیر مانک راؤ کوکاٹے کے خلاف گرفتاری کا وارنٹ جاری ہو چکا ہے، اس کے باوجود اب تک ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ عدالتی فیصلہ آتے ہی کوکاٹے ’ناٹ ریچیبل‘ ہو گئے ہیں۔ حکومت انہیں بچانے کی کوشش کر رہی ہے۔ جیسے پارتھ پوار کو بچایا گیا تھا، اسی طرح کوکاٹے کو بھی بچانے کی کوشش جاری ہے۔ راہل گاندھی اور سنیل کیدار جیسے کانگریس رہنماؤں کے خلاف عدالت کا فیصلہ آتے ہی 24 گھنٹوں کے اندر کارروائی کر دی گئی تھی، لیکن کوکاٹے چونکہ حکمراں جماعت کے وزیر ہیں اس لیے انہیں تحفظ دیا جا رہا ہے۔ یہ جمہوریت کے ساتھ نہایت سفاک مذاق ہے اور اس معاملے میں وزیر اعلیٰ دیویندر فڈنویس خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں۔
سابق وزیر اعلیٰ پرتھوی راج چوہان کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ پرتھوی راج چوہان ایک تجربہ کار اور سینئر رہنما ہیں اور ان کے بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کیا جا رہا ہے۔ جو انہوں نے کہا ہی نہیں، اس کا بھی دانستہ غلط پرچار کیا جا رہا ہے۔ ’آپریشن سندور‘ پر کانگریس پارٹی کو فخر ہے اور اس وقت کانگریس پارٹی حکومت کے ساتھ مضبوطی سے کھڑی تھی۔ پرتھوی راج چوہان نے جو بات کہی، وہی پہلے بین الاقوامی میڈیا میں آئی تھی اور رافیل کمپنی نے بھی وہی مؤقف اختیار کیا تھا۔
MPCC Urdu News 17 December 25.docx