سپریم کورٹ کی جانب سے وقف ترمیمی قانون پر عبوری روک کا خیرمقدم، نیا قانون منسوخ کیا جائے: نسیم خان

ممبئی: مرکزی حکومت کی جانب سے اکثریت کے بل پر نافذ کیے گئے متنازع وقف ترمیمی قانون کو سپریم کورٹ کی جانب سے عبوری طور پر روک لگائے جانے کا کانگریس پارٹی اور ملک بھر کی مختلف سماجی و مذہبی تنظیموں کی جانب سے پرزور خیرمقدم کیا جا رہا ہے۔ اس حوالے سے کانگریس ورکنگ کمیٹی کے رکن اور سابق وزیر نسیم خان نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے اس فیصلے کو انصاف کی سمت پہلا قدم قرار دیا اور مطالبہ کیا کہ اس غیر آئینی قانون کو مکمل طور پر منسوخ کیا جائے۔

تِلک بھون، ممبئی میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے نسیم خان نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی قیادت والی مودی حکومت کو مسلمانوں کے مسائل یا ان کی فلاح و بہبود سے کوئی لینا دینا نہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ وقف املاک کی بہتری کے نام پر جو قانون منظور کیا گیا ہے، وہ نہ صرف آئین کے خلاف ہے بلکہ یہ مسلم اقلیت کے مذہبی، تعلیمی، اور فلاحی اداروں پر راست حملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی جھوٹا پروپیگنڈہ کرکے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے، لیکن ملک کے باشعور شہری اور کانگریس جیسی سیکولر جماعتیں اس سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیں گی۔ نسیم خان نے زور دے کر کہا کہ اس قانون کے ذریعے غریب مسلمانوں کی صدیوں پرانی وقف جائیدادوں کو غیر محفوظ بنایا جا رہا ہے اور حکومت کو ان جائیدادوں میں مداخلت کا راستہ دیا جا رہا ہے، جو سراسر بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مختلف سیاسی و سماجی تنظیموں، قانونی ماہرین اور خود کانگریس پارٹی نے اس قانون میں شامل متعدد شقوں پر سنگین اعتراضات اٹھائے تھے، جنہیں بالآخر ملک کی اعلیٰ عدالت نے تسلیم کیا اور عبوری روک لگا دی۔

انہوں نے کہا کہ بی جے پی میں موجود مسلم رہنماؤں کو اب نہ کوئی اہمیت دی جا رہی ہے اور نہ ان کی کوئی سیاسی حیثیت باقی رہی ہے۔ مودی-شاہ کی قیادت نے خود بی جے پی کے اندر مسلمانوں کی آواز کو دبا دیا ہے اور ان کی سیاسی زندگی کا خاتمہ کر دیا ہے۔ اس کے برعکس، کانگریس ایک ایسی جماعت ہے جو ہر مذہب، ہر طبقے اور ہر قومیت کو ساتھ لے کر چلتی ہے۔ نسیم خان نے یاد دلایا کہ کانگریس کے صدر ہمیشہ مختلف برادریوں سے تعلق رکھتے رہے ہیں، جو کہ اس کی سیکولر سوچ کا ثبوت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مودی جی کو یہ طے کرنے کا اختیار نہیں کہ کانگریس کا صدر کون ہونا چاہیے۔ اگر وہ واقعی اقلیتوں کی فلاح چاہتے ہیں، تو انہیں پہلے یہ بتانا چاہیے کہ بی جے پی میں اقلیتوں کو کون سا مقام حاصل ہے؟ نسیم خان نے بی جے پی سے مطالبہ کیا کہ وہ مسلم اقلیت کی مذہبی خودمختاری اور وقف املاک کے تحفظ کا احترام کرے اور اس متنازع قانون کو واپس لے۔

واضح رہے کہ وقف ایکٹ میں کی گئی ترمیمات پر ملک بھر میں سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ علما، دینی ادارے، مسلم تنظیمیں اور سیاسی جماعتیں اس قانون کو مسلمانوں کے مذہبی امور میں مداخلت قرار دیتے ہوئے اس کی سخت مخالفت کر رہی ہیں۔ سپریم کورٹ کی عبوری روک کے بعد اب یہ مسئلہ مزید حساس رخ اختیار کر چکا ہے اور آئندہ سماعتوں میں اس قانون کے مستقبل کا فیصلہ متوقع ہے۔ کانگریس پارٹی اور دیگر انصاف پسند جماعتوں کا مؤقف ہے کہ اس طرح کے قوانین صرف اقلیتوں کو دبانے اور ان کے آئینی و شرعی حقوق کو سلب کرنے کے لیے بنائے جا رہے ہیں، جس کے خلاف ملک گیر سطح پر آئینی و جمہوری جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔ نسیم خان نے امید ظاہر کی کہ عدالت عظمیٰ اقلیتوں کے حقوق کی حفاظت کرتے ہوئے اس غیر آئینی قانون کو مستقل طور پر کالعدم قرار دے گی۔

ای ڈی، سی بی آئی کی کارروائیوں سے مودی حکومت کانگریس کی آواز کو نہیں دبا سکتی: رمیش چنیتھلا

عوام کو دھوکہ دینے والی مہا یوتی حکومت کے خلاف کانگریس پارٹی اپنی جدوجہد میں شدت لائے گی: ہرش وردھن سپکال

ای ڈی کے غلط استعمال کے خلاف دادَر میں کانگریس کا احتجاج

ممبئی: مرکز کی آمر مودی حکومت ای ڈی اور سی بی آئی کا غلط استعمال کرتے ہوئے اپوزیشن پارٹیوں کو خاموش کرنے اور ان کی سیاسی سرگرمیوں کو محدود کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ سونیا گاندھی اور راہل گاندھی کے خلاف کی گئی ای ڈی کی کارروائی مکمل طور پر سیاسی انتقام پر مبنی ہے۔ ان خیالات کا اظہار مہاراشٹر کانگریس کے انچارج رمیش چنیتھلا نے کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مودی اور شاہ اس طرح کے ہتھکنڈوں سے کانگریس پارٹی کی آواز کو نہیں دبا سکتے، بلکہ اس سے پارٹی کا حوصلہ اور بھی بلند ہوگا اور ہم مزید مضبوطی سے اس آمرانہ نظام کا مقابلہ کریں گے۔

مرکز کی جانب سے ای ڈی کے غلط استعمال کے خلاف مہاراشٹر پردیش کانگریس کی جانب سے دادَر کے انڈیا بلز کے قریب ایک احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، جس کی قیادت رمیش چنیتھلا نے کی۔ اس موقع پر ریاستی صدر ہرش وردھن سپکال بھی موجود تھے۔ احتجاج کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے رمیش چنیتھلا نے کہا کہ ہم سونیا گاندھی اور راہل گاندھی کے خلاف کی گئی سیاسی انتقامی کارروائی کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ عوام میں اس کارروائی کے خلاف سخت ناراضی ہے۔ کانگریس نے ملک بھر میں دو دن تک احتجاج کیا اور مہاراشٹر میں بھی مختلف مقامات پر بی جے پی حکومت کے خلاف آواز بلند کی گئی۔ آئندہ بھی کانگریس پوری طاقت کے ساتھ مودی اور شاہ کی حکومت کے خلاف مزاحمت جاری رکھے گی۔

ریاستی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت نے عوام کے ساتھ کیے گئے وعدوں کو توڑ دیا ہے، خاص طور پر ’لاڈکی بہن‘ اسکیم میں جہاں خواتین کو 2100 روپے ماہانہ دینے کا وعدہ کیا گیا تھا، اب صرف 500 روپے ہی دیے جا رہے ہیں۔ یہ اسکیم صرف ووٹ حاصل کرنے کے لیے شروع کی گئی تھی، جس کے فریب کو کانگریس پہلے ہی بے نقاب کر چکی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ریاستی اور ضلعی سطح پر پارٹی کی تنظیمِ نو جلد مکمل کی جائے گی اور مہابلیشور میں کانگریس کا ایک تربیتی کیمپ بھی منعقد کیا جائے گا۔

رمیش چنیتھلا کی موجودگی میں صبح 11:30 بجے کانگریس ارکان پارلیمنٹ کی میٹنگ اور بعد دوپہر 2 بجے پارٹی کے سینئر رہنماؤں کی میٹنگ تِلک بھون میں منعقد ہوئی۔ ان میٹنگوں میں پارٹی کی رابطہ کاری، تنظیمی ہم آہنگی اور حکمت عملی پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ ساتھ ہی مرکز اور ریاست کی عوام مخالف پالیسیوں کے خلاف پارلیمنٹ کے اندر اور باہر مؤثر آواز بلند کرنے پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

مرکزی ایجنسیوں کے غلط استعمال کے خلاف ہوئے اس احتجاج میں اسمبلی میں کانگریس کے لیڈر وجے وڈیٹی وار، قانون ساز کونسل میں پارٹی کے لیڈر ستیج پاٹل، گوا کے انچارج مانک راؤ ٹھاکرے، سابق ریاستی صدر نانا پٹولے، کانگریس ورکنگ کمیٹی کے رکن نسیم خان، ارکان پارلیمنٹ چندرکانت ہنڈورے، رجنی تائی پاٹل، پرنیتی شندے، شیام کمار بروے، سابق وزراء ایڈوکیٹ یشومتی ٹھاکر، شیواجی راؤ موگھے، وسنت پورکے، ڈاکٹر وشوجیت کدم، ڈاکٹر کلیان کالے، رویندر چوہان، نام دیو کرسان، بلونت وانکھیڑے، ڈاکٹر شوبھا بچھاؤ، ڈاکٹر شیو جی کالگے، آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے سیکریٹری بی ایم سندیپ، کنال چودھری، یو بی وینکٹیش، بھائی جگتاپ، ترجمان اتل لونڈھے، سچن ساونت، سابق رکن پارلیمنٹ حسین دلوائی، سابق ایم ایل اے راہول بوندرے، ریاستی نائب صدر ایڈوکیٹ گنیش پاٹل، موہن جوشی، جنرل سیکریٹری راجن بھوسلے، رام چندر دلوَی، برج دت، ابھیجیت سپکال، شری رنگ برگے، سیکریٹری اجنکیہ دیسائی، وشوجیت ہاپے، یشپال بھِنگے، آنند سنگھ، سبھاش پکھرے اور دیگر کئی رہنما اور کارکنان نے شرکت کی۔ احتجاج کے دوران پولیس نے تمام مظاہرین کو حراست میں لے کر بعد میں رہا کر دیا۔

اس موقع پر پارٹی میں شمولیت کی تقاریب بھی منعقد ہوئیں، جہاں کانگریس کے سینئر رہنما اور سابق وزیر مرحوم ڈاکٹر شری کانت جچکار کے صاحبزادے یاجیویلکیا جچکار نے دوبارہ کانگریس میں شمولیت اختیار کی۔ انتخابی دور میں ان پر معطلی کی کارروائی کی گئی تھی، جسے واپس لیتے ہوئے انہیں دوبارہ پارٹی میں شامل کیا گیا۔ اسی طرح عام آدمی پارٹی کے ریاستی نائب صدر اور ترجمان دھننجے شندے نے بھی کانگریس میں شمولیت اختیار کی۔ ریاستی صدر ہرش وردھن سپکال نے دونوں رہنماؤں کا کانگریس خاندان میں پرجوش خیر مقدم کیا۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading