MPCC Urdu News 16 Jan 22

گیس کی قیمتوں میں اضافہ اور مہنگائی کے خلاف مہیلا کانگریس کا ریاست گیر احتجاج

ریاستی صدر سندھیا تائی سوالاکھے کی قیادت میں خواتین کی مودی حکومت کے خلاف نعرے بازی

پونے:گھریلو گیس سیلنڈر اورضروری اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ کرنے والی مرکزی کی بی جے پی حکومت کے خلاف آج ریاستی کانگریس کی شعبہئ خواتین کی جانب سے ریاست گیر احتجاج کیا گیا۔ شعبہئ خواتین کی ریاستی صدر سندھیا تائی سوالاکھے نے پونے میں احتجاج کرنے والی خواتین کی قیادت کی اور مودی حکومت مخالف نعرے لگائے۔

مہاراشٹر پردیش مہیلا کانگریس نے گیس کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف احتجاج میں جارحانہ رویہ اختیار کرتے ہوئے ریاست کے تمام اضلاع میں احتجاجی مظاہرے کئے گئے۔ پونے میں ریاستی صدر سندھیا تائی سوالاکھے کی قیادت میں احتجاج کیا گیا۔ سابق وزیر اور مہاراشٹر پردیش کانگریس کے نائب صدر اور پونے کانگریس کے صدر رمیش باگوے، مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے نائب صدر موہن جوشی مہیلا کانگریس کی سنگیتا تیواری، اجولا سالوے، اسمیتا شندے، شوبھا پنیکر، اندرا آہیرے، سجاتاچنتا، لتاتائی راج گرو، سجاتا شیٹی، سواتی شندے، ویشالی مراٹھے، پلوی سورسے، سیما ساونت کے ساتھ ہزاروں خواتین نے اس احتجاج میں حصہ لیا۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے سندھیا تائی سوالاکھے نے کہا کہ نریندر مودی نے اقتدار میں آنے کے 100 دنوں کے اندر مہنگائی کم کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن سات سال اقتدار میں رہنے کے بعد بھی وہ مہنگائی کم نہیں کر سکے۔ دراصل جب سے وہ اقتدار میں آئے ہیں مہنگائی روز بروز بڑھ رہی ہے۔ ایندھن اور گیس کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے خواتین کے کچن کے بجٹ کوبری طرح متاثر کر دیا ہے۔ اجولا گیس کی سبسڈی میں کمی کے بعد اب غریب خواتین کے لیے گیس چھوڑ کر دوبارہ چولہے پر کھانا پکانے کا وقت آگیا ہے۔ اس لیے خواتین اجولا یوجنا کا گیس سلنڈر واپس کر کے مودی حکومت کے خلاف احتجاج کر رہی ہیں۔

مہیلا کانگریس کی پونے شہر کی صدر پوجا آنند نے اس موقع پر کہا کہ مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد سے بڑھتی ہوئی مہنگائی کی وجہ سے خواتین کو بڑی مشکلات کا سامنا ہے۔ خواتین نے چولہا چھوڑ کر گیس کنکشن حاصل کر لیا لیکن سلنڈر کی قیمت 1000 روپے تک بڑھنے کی وجہ سے ان کے پاس چولہے پر واپس آنے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہا۔ اس لیے خواتین میں شدید غم و غصہ ہے اور ملک کی خواتین جب تک مودی کوسبق نہ سکھادیں آرام سے نہیں بیٹھیں گی۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading