ریاستی بی جے پی لیڈران کے کہنے پر مرکز نے کانجورمارگ معاملے میں اپنا موقف تبدیل کیا: سچن ساونت
مرکزی حکومت اور بی جے پی کے ذریعہ ترقیاتی کاموں میں قصداً روڑا اٹکایا جایارہا ہے
ممبئی: کانجورمارگ میں میٹروکارشیڈ کے کام کوروکنے کا عدالت کے فیصلے کو ریاستی کانگریس نے افسوسناک بتاتے ہوئے اس کی تمام تر ذمہ داری بی جے پی اور مرکزی حکومت پر عائد کی ہے۔ پارٹی کے جنرل سکریٹری وترجمان سچن ساونت نے کہا ہے کہ ریاستی بی جے پی لیڈران کے کہنے پر ہی مرکزی حکومت نے کانجورمارگ معاملے میں اپنا موقف تبدیل کیا ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ بی جے پی نیز مرکزی حکومت ریاست کے ترقیاتی کاموں میں قصداً روڑا اٹکارہی ہیں۔ ساونت یہاں میڈیا کے نمائندوں سے خطاب کررہے تھے۔
انہوں نے کہا کہ عدالت کے فیصلے سے ایک بات ثابت ہوتی ہے کہ گزشتہ سال بھر سے ریاست میں جاری ترقیاتی کاموں میں مرکزوبی جے پی کی جانب سے روکاوٹ ڈالی جارہی ہے۔ مرکزی وزیرپیوش گوئیل کی ہدایت کے مطابق مرکزی کامرس ڈیپارٹمنٹ نے جولائی میں محکمہ نمک کو ایک خط لکھا تھا جس میں کانجورمارگ کی جگہ ریاستی حکومت کو دیئے جانے کی ہدایت کرتے ہوئے حکم دیا گیا تھا کہ یہ عمل جلدازجلد مکمل کیا جائے۔ لیکن اچانک مرکزی حکومت نے اس پروجیکٹ کو روکنے کی درخواست عدالت کے روبروپیش کردی جس کی بنیاد پر عدالت نے اس پروجیکٹ کو روکنے کا حکم جاری کردیا۔مرکزی حکومت کا یہ اچانک تبدیل ہوا موقف ریاستی بی جے پی لیڈران کے کہنے ثپر ہوا ہے کیونکہ بی جے پی کے لیڈران نہیں چاہتے کہ ریاست کی مہاوکاس اگھاڑی حکومت عوامی ترقیاتی کاموں کو انجام دے۔
سچن ساونت نے کہا کہ دو دن قبل ہی عدالت نے کہا تھا کہ زمین کسی بھی حکومت کی ملکیت کیوں نہ ہو، اس پر عوام کا حق ہوتا ہے اورترقیاتی کاموں کو روکا نہیں جاسکتا۔ اس کے باوجود آج کا عدالت کا فیصلہ اس کے موقف کے بالکل برخلاف وافسوسناک ہے۔ زمین کی ملکیت کس کے پاس ہے؟ یہ فیصلہ کرنے کی ذمہ داری محکمہ محصول کے سپرد کیا گیا ہے۔ کانجورمارگ کی جس زمین پر میٹروکارشیڈکے لیے مختص کیا گیا ہے اس پر محکمہ نمک اپنی ملکیت ثابت نہیں کرسکا تھا۔ اس وقت کے وزیرمحصول بی جے پی لیڈر چندرکانت پاٹل نے کہا تھا کہ 1960سے اس جگہ پر مہاراشٹر حکومت کا ہی نام ہے اور اس پر مہاراشٹر حکومت کا قبضہ ہے۔ محکمہ نمک کو کبھی بھی اس جگہ پر قبضہ نہیں دیا گیا تھا۔ سچن ساونت نے کہا کہ بی جے پی لیڈران کا ایک پرائیویٹ ڈیولپر پر پیار امڈ پڑا ہے جس کی وجہ سے وہ اس ڈیولپر کے ایجنٹ کے طور پر کام کررہے ہیں۔ مذکورہ ڈیولپر نے ریاستی حکومت کے پاس کبھی بھی متعلقہ زمین کا دعویٰ داخل نہیں کیا تھا۔ اسی وجہ سے بی جے پی لیڈران یہ بیان دے رہے تھے کہ کانجورمارگ کی زمین کے پانچ ہزار روپئے ریاستی حکومت کو ادا کرنے ہونگے۔ اس تعلق سے کوئی بھی دعویٰ یا حکم بی جے پی لیڈران نہیں پیش کرسکے ہیں۔ آج کی سماعت میں بھی اس پانچ ہزار کا کہیں بھی کوئی تذکرہ نہیں تھا۔ یہ کیوں نہیں تھا؟ اس کا جواب فڈنویس کو دینا چاہیے۔
ساونت نے کہا کہ مہاراشٹر وکاس اگھاڑی حکومت کے ذریعے میٹرو کا کام جاری ہے جس کی وجہ سے بی جے پی کے لیڈران کے پیٹ میں اٹھ رہا مروڑ نظر آرہا ہے۔ میٹرو3ومیٹرو6 کا کارشیڈ کانجورمارگ میں بنانے کا فیصلہ فڈنویس حکومت کا تھا۔ میٹرو 6کے کارشیڈ کی تعمیر اسی کانجورمارگ کی زمین پر ہونا تھا۔ میٹرو 6کے کاشیڈ کا ڈی پی آر میں واضح ذکر موجود ہے۔ اگر میٹرو3کے کارشیڈ کا کام کانجورمارگ میں نہیں ہوسکتا ہے تو میٹرو6کا کس طرح ہوسکتا ہے؟ دیوندرفڈنویس اس کا جواب دیں۔ساونت نے کہا کہ میٹرو 3 ریاست اور مرکز کے مابین مشترکہ منصوبہ ہے۔ یہاں تک کہ اگر یہ جگہ مرکز کے پاس ہوتی تو بھی اسے خود دینا چاہئے تھا۔ اس سے قبل محکمہ نمک نے بی ایم سی کے ڈمپنگ گراؤنڈ کے لئے اراضی الاٹ کردی تھی۔ نیز فڈنویس حکومت نے اسی سائٹ پر ایک کم قیمت والے رہائشی منصوبے کے قیام کے لئے مرکزی حکومت کے ساتھ پالیسی تشکیل دینے کا عمل شروع کیا تھا۔ اگر شاپورجی پالنجی کمپنی کی تجویز کے مطابق یہاں ایک لاکھ سستے مکانات تعمیر کیے جاسکتے تو میٹرو کار شیڈ کیوں نہیں؟ آرے کی جگہ پر نگاہیں گڑی ہونے کی وجہ سے کانجورمارگ کی زمین میٹرو6کو نہیں دیا گیا۔ اس کے پیچھے مقصد یہ تھا کہ آرے بچاؤ تحریک کی وجہ سے اس جگہ کوآرے کارشیڈ کی تعمیر ہونے تک نہیں دیا گیا۔ اس کے لیے فڈنویس حکومت مسلسل گمراہ کرتی رہی۔ اس وقت انتظامیہ کو وقت گزاری کی ہدایت دی گئی تھی۔ سچائی یہ ہے کہ بی جے پی صرف اور صرف گمراہ کررہی ہے۔ آج عدالت نے جو فیصلہ دیا ہے اس کی تمام تر ذمہ داری مرکزی حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ اس ضمن میں مہاراشٹر وکاس اگھاڑی حکومت کو غور کرتے ہوئے آئندہ کے اقدامات کرنا چاہیے۔