MPCC Urdu News 15 July 25

مہاراشٹر کے سب لوگ مراٹھی ہی ہیں، مراٹھی کو ہاتھ لگایا تو خبردار: ہرش وردھن سپکال

کانگریس کو ہندی زبان سے نہیں بلکہ تیسری زبان کو مسلط کرنے سے اعتراض ہے

میرا بھائیندر میں کانگریس کی ’ہم مراٹھی، ہم بھارتی‘ مراٹھی زبان ورکشاپ کا انعقاد

ممبئی: 15 جولائی 2025۔ مراٹھی زبان کا فروغ ضروری ہے کیونکہ یہ صرف ایک زبان نہیں بلکہ ایک تہذیب، ایک رویہ اور مہاراشٹر دھرم کا حصہ ہے۔ کانگریس پارٹی کو ہندی زبان سے کوئی اعتراض نہیں، لیکن تیسری زبان کو زبردستی نافذ کرنے پر ضرور اعتراض ہے۔ البتہ مراٹھی کے نام پر غنڈہ گردی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔ ہم کسی پر ہاتھ نہیں اٹھائیں گے بلکہ مراٹھی سکھائیں گے اور اسے محفوظ رکھیں گے۔ مہاراشٹر کے سب لوگ مراٹھی ہی ہیں، اور اگر مراٹھی کو ہاتھ لگانے کی کوشش کی گئی تو اسے برداشت نہیں کیا جائے گا۔ یہ انتباہ مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ہرش وردھن سپکال نے دیا ہے۔

وہ میرا بھائیندر میں کانگریس کی جانب سے منعقدہ ’ہم مراٹھی، ہم بھارتی‘ مراٹھی زبان ورکشاپ سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر مہاراشٹر کانگریس کے کارگزار صدر مظفر حسین، کانگریس کے نائب صدر تنظیم و انتظامات ایڈوکیٹ گنیش پاٹل، بھاونا جین، رمیش شیٹی، مراٹھی زبان شعبہ کے ڈاکٹر دیپک پوار، ضلع کانگریس صدر پرمود ساونت اور ہزاروں مراٹھی دوست عوام موجود تھے۔ اپنی تقریر میں کانگریس کے ریاستی صدر نے کہا کہ ہندی کو مسلط کرنے کا جو ننگا ناچ ہو رہا ہے، اس کے تار سابق سرسنگھ چالک گولوالکر کی کتاب ’بنچ آف تھاٹ‘ سے جڑے ہوئے ہیں۔ بی جے پی اور آر ایس ایس کو بھارت کا آئین منظور نہیں، ان کا خواب ’ایک قوم، ایک انتخاب، ایک زبان‘ ہے جبکہ بھارت کی اصل شناخت ’وحدت میں کثرت‘ ہے۔ بی جے پی و سنگھ ’ہندی، ہندوتوا اور ہندو راشٹر‘ کا تصور نافذ کرنا چاہتے ہیں اور اسی کے لیے جان بوجھ کر یہ لسانی تنازعہ پیدا کیا گیا ہے۔

جب سپکال سے پوچھا گیا کہ کانگریس نے اس پروگرام کے لیے میرا روڈ کو ہی کیوں منتخب کیا، تو انہوں نے کہا کہ کانگریس کا مؤقف نہ مبہم ہے نہ مصلحت پسند۔ ہم یہاں اپنے قدم جما کر مضبوطی سے مؤقف رکھنے آئے ہیں۔ یہ نظریاتی جدوجہد ہے، اور ہم یہاں ’ہم مراٹھی، ہم بھارتی‘ کا پیغام دینے کے لیے آئے ہیں۔ ’میں مراٹھی نہیں بولوں گا‘ یہ گھمنڈ ناقابلِ قبول ہے اور دوسری طرف ’کیوں نہیں بولتے؟‘ کہہ کر مار پیٹ کرنا بھی غلط ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندی کو مسلط کرنے سے تعلیمی نظام تباہ ہو جائے گا اور آگے چل کر ’مفت اور لازمی تعلیم کا حق‘ بھی منسوخ کیا جا سکتا ہے۔

اس موقع پر کانگریس کے کارگزار صدر مظفر حسین نے کہا کہ اب چونکہ رام مندر کا موضوع ختم ہو چکا ہے، اس لیے بی جے پی نے ذات پات، علاقائیت اور لسانیت جیسے مسائل چھیڑنے شروع کر دیے ہیں۔ کانگریس حکومت نے گزشتہ 70 برس میں جو قومی اثاثے بنائے تھے، وہ اب بیچے جا رہے ہیں، اور عوام کو بنیادی مسائل سے دور رکھنے کے لیے بی جے پی لسانی تنازعات جیسے مصنوعی مدعے پیدا کر رہی ہے۔ اس علاقے میں دیگر ریاستوں کے لوگ آ کر بسے اور مہاراشٹر نے ان سب کو قبول کیا، کبھی کسی کو ذات، مذہب یا زبان کی بنیاد پر الگ نہیں سمجھا، لیکن بی جے پی نے دانستہ لسانی نفرت پیدا کی ہے، جس کے پیچھے اس کے سیاسی مفادات کارفرما ہیں۔

مراٹھی زبان شعبہ کے ڈاکٹر دیپک پوار نے کہا کہ یہ تحریک دراصل تیسری زبان کو مسلط کرنے کے خلاف تھی، لیکن حکومت نے اسے ہندی مخالف تحریک بنا کر پیش کیا۔ حکومت نے اگرچہ دو جی آر (سرکاری احکام) منسوخ کیے ہیں، مگر اب ڈاکٹر نریندر جادھو کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ لیکن ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ نریندر جادھو کمیٹی کچھ بھی رپورٹ دے، ہم تیسری زبان کو لازمی کرنے کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ اگر پہلی جماعت سے ہی ہندی پڑھائی گئی تو مراٹھی، ہندی کی ذیلی زبان بن کر رہ جائے گی۔ مہاراشٹر سے محبت اور مراٹھی کے تحفظ کی اجتماعی ذمہ داری ہم سب کی ہے۔ ڈاکٹر پوار نے مزید کہا کہ وزیر اعلیٰ دیویندر فڈنویس اب ممبئی کی بجائے ایم ایم آر ڈی اے (ممبئی میٹروپولیٹن ریجن ڈویلپمنٹ اتھارٹی) کی بات کرتے ہیں، کیونکہ اس علاقے میں شمالی ہندوستانیوں کی آبادی زیادہ ہے۔ ایم ایم آر ڈی اے کو الگ ریاست بنانے کا خطرہ منڈلا رہا ہے، اور یہ خطرہ ہندی کو زبردستی نافذ کرنے کے پیچھے چھپا ہوا ہے، اس لیے مراٹھی کو کچلا جانا یقینی ہے۔

MPCC Urdu News 15 July 25.docx

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading