تھانے میں نشے کا جال پھیلتا جا رہا ہے؛ اسکولی طلبہ اور نوجوان سب سے زیادہ متاثر

تھانے میں نشے کا جال پھیلتا جا رہا ہے؛ اسکولی طلبہ اور نوجوان سب سے زیادہ متاثر

تھانے (آفتاب شیخ):
تھانے شہر تیزی سے نشے کے دلدل میں دھنس رہا ہے۔ ملی اطلاع کے مطابق اسکول اور کالج کے طلبہ کی بڑی تعداد اب نشہ آور اشیاء کے استعمال میں ملوث ہوتی جا رہی ہے۔ اسکولوں اور کالجوں کے اطراف پان کی دکانوں پر ای سگریٹ، گٹکھا، تمباکو اور دیگر نشہ آور اشیاء کھلے عام فروخت کی جا رہی ہیں۔ ان دکانوں اور نشہ فروشوں کی سرگرمیوں میں آئے دن اضافہ ہو رہا ہے، جس کی وجہ سے ایک پوری نسل تباہی کے دہانے پر کھڑی ہے۔ تھانے، کلوا، دیوا اور ممبرا جیسے علاقوں میں شراب، افیون، چرس، گانجہ، ایم ڈی پاؤڈر، سگریٹ، تمباکو اور دیگر نشہ آور اشیاء نہ صرف خفیہ طور پر بلکہ کئی جگہوں پر کھلے عام فروخت کی جا رہی ہیں۔ ان اشیاء کی آسان دستیابی کی وجہ سے نوجوان نسل بڑی تیزی سے نشے کی لت میں مبتلا ہو رہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ انسانی اسمگلنگ اور سیکس ریکیٹ جیسی سماجی برائیاں بھی سر اٹھا رہی ہیں۔

اطلاعات کے مطابق بعض طلبہ نشہ آور گولیاں لے کر اسکول آتے ہیں۔ ان کے بستوں سے نشہ آور گولیاں، گٹکھے کے پیکٹ اور ای سگریٹ برآمد ہو رہے ہیں۔ اسکولوں کے پرنسپل، اساتذہ اور تعلیمی ذمہ داران نے اس سنگین مسئلے کو پولیس حکام کے علم میں لا کر سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ ادھر، تھانے میونسپل کارپوریشن کی عام اجلاس میں بھی نشہ آور اشیاء کے خلاف کارروائی سے متعلق قرارداد منظور کی گئی ہے۔ لیکن زمینی حقیقت یہ ہے کہ نشہ فروشوں کے خلاف مؤثر کارروائی تاحال نہیں کی گئی ہے۔

شہریوں کا الزام ہے کہ بعض سیاسی اور سماجی عناصر نشہ کے کاروبار میں ملوث افراد کو تحفظ فراہم کر رہے ہیں۔ پولیس محکمے کے کچھ افراد کو بھی نشہ کے اڈوں اور اسمگلنگ کے نظام کی مکمل جانکاری ہے، مگر یا تو اعلیٰ حکام کے دباؤ یا ذاتی مفاد کی وجہ سے وہ چشم پوشی کر رہے ہیں۔

کچھ دیانتدار پولیس افسران نے اعتراف کیا ہے کہ انہی وجوہات کی بنا پر کارروائی رکی ہوئی ہے۔

اب وقت آ گیا ہے کہ معاشرے، والدین، اساتذہ، پولیس اور انتظامیہ کو متحد ہو کر نشہ کے اس لعنت کے خلاف مضبوط اور فیصلہ کن لڑائی لڑنی چاہیے، تاکہ نئی نسل کو تباہی سے بچایا جا سکے۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading