آسمانی آفت کے وقت حکومت خوابِ غفلت میں ہے، متاثرہ کسانوں کو فوراً امداد دی جائے: ہرش وردھن سپکال
خریف سیزن کے لیے حکومت کی کوئی تیاری نہیں، کھاد و بیج کی وافر فراہمی یقینی بنائی جائے، جعلی بیج اور لنکنگ کرنے والوں پر کارروائی ہو
ہند-پاک جنگ بندی کے بعد پیدا ہونے والے سوالات کا جواب مرکزی حکومت دے
راجیو گاندھی یومِ شہادت پر 21 مئی کو ریاست گیر ترنگا یاترا نکالی جائے گی
ممبئی: مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ہرش وردھن سپکال نے کہا ہے کہ ریاست کے کسانوں پر قدرتی آفات کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔ حالیہ بےموسم بارش نے فصلوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے، مگر ریاست کی بی جے پی-شیوسینا حکومت خوابِ غفلت میں ہے۔ حکومت کو فوری طور پر فصلوں کے نقصان کا پنچنامہ کروانا چاہیے اور متاثرہ کسانوں کو مناسب مالی امداد فراہم کرنی چاہیے۔
تلک بھون میں منعقدہ پریس کانفرنس میں جناب سپکال نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کسانوں کو صرف ایک روپیہ دے کر ملنے والی فصل بیمہ اسکیم کو حکومت نے بند کر دیا، جو سراسر ناانصافی ہے۔ حکومت نے فصل کٹائی پر مبنی جو نئی بیمہ اسکیم لاگو کی ہے، وہ کسانوں کے مفاد میں نہیں، بلکہ اس میں بدعنوانی کی بو آتی ہے۔ اگر اسکیم میں خامیاں ہیں تو انہیں دُور کیا جائے، مگر حکومت نے اسکیم ہی منسوخ کر دی ہے، جو قابلِ مذمت ہے۔ کانگریس کا مطالبہ ہے کہ سابقہ اسکیم کو دوبارہ نافذ کیا جائے تاکہ کسانوں کو تحفظ حاصل ہو۔
انہوں نے مزید کہا کہ خریف سیزن کی تیاری کے لیے حکومت کے پاس کوئی واضح منصوبہ نہیں۔ بیج اور کھاد کی فراہمی حکومت کی اولین ذمہ داری ہے، لیکن ریاست بھر میں کسانوں کو جعلی بیج فروخت کیے جا رہے ہیں اور ہر سال کی طرح اس بار بھی بیج و کھاد کی لنکنگ کے ذریعے کسانوں کو لوٹا جا رہا ہے۔ حکومت صرف اعلانات کرتی ہے، عملی کارروائی نہیں کرتی۔ اب وقت آ گیا ہے کہ لنکنگ کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔
سپکال نے ریاستی حکومت کو غیرآئینی رویّے پر بھی آڑے ہاتھوں لیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بی جے پی حکومت نے آدیواسی اور سماجی انصاف محکمہ کی فنڈنگ کو ‘لاڈلی بہنا’ جیسی اسکیموں میں منتقل کر دیا ہے، جو آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی ہے۔ درج فہرست ذات، درج فہرست قبائل اور دیگر پسماندہ طبقات کے لیے مخصوص فنڈ کو دوسری اسکیموں میں خرچ کرنا غیرقانونی ہے۔ اگر ریاستی حکومت کے پاس مالی وسائل کی کمی ہے تو وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے، نائب وزیر اعلیٰ فڈنویس اور اجیت پوار کو مرکز سے خصوصی مالی پیکیج لا کر ‘لاڈلی بہنا’ اسکیم میں خواتین کو ۲۱ سو روپئے اور کسانوں کو قرض معافی دینی چاہیے۔
مرکزی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے سپکال نے کہا کہ پہلگام میں دہشت گردانہ حملے کے بعد پورا ملک متحد ہو کر پاکستان کو سبق سکھانے کے لیے تیار تھا۔ کانگریس اور تمام اپوزیشن جماعتیں حکومت کے ساتھ کھڑی تھیں۔ لیکن ‘آپریشن سندور’ کے دوران پاکستان کو منہ توڑ جواب دینے کے بعد اچانک جنگ بندی کا اعلان کیوں کیا گیا؟ جب بھارتی فوج کے جوان لڑ رہے تھے، اسی وقت امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے جنگ بندی کا اعلان کیسے کر دیا؟ کیا امریکہ بھارت اور پاکستان کے درمیان ثالثی کر رہا ہے؟ اگر ایسا ہے تو کیا شملہ معاہدہ منسوخ کر دیا گیا ہے؟ کیا ٹرمپ کے بیان کو حکومتِ ہند کی منظوری حاصل ہے؟ ان تمام سوالات کے جواب عوام کو دیے جانے چاہییں، اور کانگریس پارٹی مطالبہ کرتی ہے کہ اس معاملے پر پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس بلایا جائے۔ وزیراعظم کی آل پارٹی میٹنگ میں غیر موجودگی نے عوام کے ذہنوں میں شکوک و شبہات پیدا کر دیے ہیں، جنہیں دور کیا جانا چاہیے۔
اس موقع پر انہوں نے اعلان کیا کہ’آپریشن سندور‘ میں بھارتی فوج نے جو غیرمعمولی شجاعت کا مظاہرہ کیا، اس کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے، اور مہاتما گاندھی سے لے کر پہلگام حملے میں شہید ہونے والے تمام مجاہدین کو سلام پیش کرنے کی غرض سے، کانگریس پارٹی 21 مئی کو راجیو گاندھی یومِ شہادت کے موقع پر ریاست کے تمام اضلاع میں ’ترنگا یاترا‘ نکالے گی۔
پریس کانفرنس میں شرد پوار سے ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ مہاراشٹر پردیش کانگریس کے صدر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد ابھی تک ان کی شرد پوار سے ملاقات نہیں ہو سکی تھی، لیکن آج اُن سے وقت لے کر ملاقات کی۔ یہ محض ایک شائستہ اور روایتی خیرسگالی ملاقات تھی، کیونکہ شرد پوار سیاست و سماج کے شعبے میں پچاس برسوں کا تجربہ رکھتے ہیں، اور ان کی رہنمائی ہمیشہ رہنماؤں کے لیے باعثِ افتخار رہی ہے۔