مہاراشٹر میں سیاسی تلخیوں کا خاتمہ اور مفاہمت و مکالمے کی بحالی ناگزیر: جیتندر اوہاڈ

دباؤ کی سیاست، جھوٹے مقدمات اور سیاسی انتقام شرد پوار کے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتے

ممبئی: این سی پی شرد چندر پوار کے سینئر لیڈر اور رکن اسمبلی جیتندر اوہاڈ نے کہا ہے کہ سیاست میں تلخی ختم کرنے کے لیے مکالمے کے پل باندھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ شرد پوار صاحب کس سے ملیں اور کس سے نہ ملیں، یہ کسی کو طے کرنے کا حق نہیں۔ وہ ممبئی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔

جیتندر اوہاڈ نے کہا کہ جو لوگ کل شرد پوار صاحب پر تنقید کر رہے تھے، وہ بھی جانتے ہیں کہ بالاصاحب ٹھاکرے کے ساتھ بھی شرد پوار صاحب کی دوستی تھی۔ شرد پوار صاحب کی سیاسی اور سماجی حیثیت کو دیکھتے ہوئے انہیں ساہتیہ سمیلن کے پروگرام میں مدعو کیا گیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسمبلی اجلاس کے دوران ادھو ٹھاکرے نے دیویندر فڈنویس سے ملاقات کی، تب میں نے کہا تھا کہ ملاقات ضرور ہونی چاہیے۔ اسی طرح جب ادھو ٹھاکرے نے اجیت پوار سے ملاقات کی، تب بھی ہم نے اعتراض نہیں کیا۔ مگر آج کے سیاسی حالات میں جس طرح سے لوگوں کو جیل میں ڈالا جا رہا ہے، شرد پوار صاحب کی فکر اس سیاست کی مخالفت کرتی ہے۔

انہوں نے تاریخی حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ماضی میں آچاریہ آترے نے یشونت راؤ چوہان پر سخت تنقید کی تھی، مگر جب چوہان نے انہیں حقیقت بتائی تو آچاریہ آترے نے معافی مانگ لی۔ یہی مہاراشٹر کی ثقافت ہے، جہاں مخالفین کے درمیان بھی مکالمہ اور احترام ہوتا ہے۔ اوہاڈ نے کہا کہ شرد پوار صاحب کی سیاسی قد و قامت، ان کی سوچ، ان کا کردار ناقابلِ موازنہ ہے۔ وہ کبھی بھی انتقام اور نفرت کے جذبات میں نہیں آتے۔ بعض اوقات ہمیں غصہ آتا ہے کہ وہ ایسا کیوں کرتے ہیں، لیکن یہ ان کے بڑے پن کی علامت ہے۔ وہ ان لوگوں کے ساتھ بھی اسٹیج شیئر کرتے ہیں جنہوں نے ان کے خلاف سیاسی چالیں چلیں، ان کی پارٹی اور انتخابی نشان چھینا، مگر ان کے چہرے پر کبھی غصہ یا انتقام کا تاثر نظر نہیں آتا۔ یہی وہ چیز ہے جو مہاراشٹر کے دیگر سیاست دانوں کو سیکھنی چاہیے۔

اوہاڈ نے بی جے پی کی حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آج کل جھوٹے مقدمے بنا کر، جھوٹے الزامات لگا کر لوگوں کی سیاسی زندگیوں کو برباد کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں، لیکن یہ حربے شرد پوار صاحب پر اثرانداز نہیں ہوتے۔ انہوں نے کہا کہ شرد پوار صاحب کہاں جاتے ہیں، کس سے ملتے ہیں، اس پر کوئی سوال نہیں اٹھا سکتا۔ اگر مقابلہ کرنا ہے تو جب وقت آئے گا، سب سے زیادہ جارحانہ انداز میں شرد پوار صاحب ہی لڑیں گے۔

جیتندر اوہاڈ نے مزید کہا کہ بالاصاحب ٹھاکرے اور شرد پوار صاحب کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ سیاست کا مطلب صرف انتقام اور دشمنی نہیں ہوتا، بلکہ اس میں مکالمہ اور میل جول بھی ضروری ہے۔ ایکناتھ شندے مجھے وقت نہیں دیتے، اجیت پوار مجھے کیبن میں بھی بلانے کو تیار نہیں، لیکن میں ان سے ملاقات کے لیے کئی خطوط لکھ چکا ہوں۔ شندے جب بھی ملتے ہیں تو یہی کہتے ہیں کہ ’بعد میں دیکھیں گے‘، لیکن ان کا وہ ’بعد‘ کبھی نہیں آتا۔ انہوں نے کہا کہ جب امت شاہ کو ’تڑی پار‘ کہنے کی ہمت کسی کو نہیں تھی، تب بھی شرد پوار صاحب نے سچ کہا تھا۔ وہ جہاں وار کرنا چاہتے ہیں، وہاں کرتے ہیں۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading