ودربھ میں کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھڑگے اور راہل گاندھی کے انتخابی اجلاس
راہل گاندھی 13 اپریل کو بھنڈارا میں اور ملکارجن کھڑگے 14 اپریل کو ناگپور میں ہوں گے
راہل گاندھی اور ملکارجن کھڑگے کی انتخابی مہم میں ایم وی اے کے بڑے لیڈران شریک ہوں گے
ممبئی:لوک سبھا انتخابات کے پہلے مرحلے کے لیے مہاوکاس اگھاڑی کی مہم زوروں پر ہے۔ اس کے پیش نظر کانگریس پارٹی کے سینئر لیڈروں کی انتخابی مہم بھی شروع ہو گئی ہے۔بھنڈارا-گوندیا لوک سبھا حلقہ سے کانگریس کی جانب سے ایم وی اے کے امیدوار ڈاکٹر پرشانت یادوراؤ پڈولے کی حمایت میں راہل گاندھی سنیچر 13 اپریل کو سہ پہر 3 بجے بھنڈارا ضلع کے ساکولی میں گجانن مہاراج مندر کے میدان میں ایک جلسہ عام سے خطاب کریں گے۔ اس میٹنگ میں مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر نانا پٹولے، ایم ایل اے کانگریس پارٹی کے لیڈر بالاصاحب تھورات، اپوزیشن لیڈر وجے ودیٹی وار، نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (شرد چندر پوار) کے ریاستی صدر جینت پاٹل اور ایم وی اے کے تمام سرکردہ لیڈران موجود رہیں گے۔
جبکہ دوسری جانب کانگریس پارٹی کے قومی صدر ملکارجن کھڑگے اتوار 14 اپریل کو شام 4 بجے ناگپور کے گولیبار چوک میں ایک انتخابی ریلی سے خطاب کرنے والے ہیں۔ یہ جلسہ ناگپور لوک سبھا حلقہ میں کانگریس پارٹی کے امیدوار اور ایم ایل اے وکاس ٹھاکرے کی انتخابی مہم کے لیے منعقد کیا جا رہا ہے۔اس سے پہلے ملکارجن کھرگے صبح دیکشا بھومی بھی جائیں گے۔
انتخابات کا پہلے مرحلے میں پانچ لوک سبھا سیٹوں ودربھ، ناگپور، رام ٹیک، بھنڈارا-گوندیا، گڈچرولی-چیمور اور چندر پور پر انتخاب ہو رہا ہے۔ ان تمام سیٹوں پر کانگریس اور مہاوکاس اگھاڑی نے پورے جوش و خروش اور تیزی کے ساتھ انتخابی مہم چلائی ہے۔ کانگریس کے ریاستی صدر نانا پٹولے، ایم ایل اے کانگریس پارٹی لیڈر بالاصاحب تھورات، اپوزیشن لیڈر وجے وڈیٹی وار، سابق وزیر سنیل کیدار اور پارٹی کے دیگر سینئر لیڈر بھی انتخابی جلسوں اور ریلیوں کے ساتھ گھر گھر ووٹروں سے ملاقات کر رہے ہیں۔ ان پانچ سیٹوں پر 19 اپریل کو ووٹنگ ہونی ہے۔
دھاراوی بازآبادکاری پروجیکٹ پر بی جے پی کے ذریعے ڈیمیج کنٹرول کی کوشش: ورشا گائیکواڑ
شکست کے خوف سے دھاراوی کے معاملے میں بی جے پی و آشیش شیلار کی جھوٹ اور سینہ زوری کا مظاہرہ
کیا بی جے پی دھاراوی کے بارے میں حکومت کی طرف سے جاری کیے گئے جی آر کو غلط اور گمراہ کن قرار دے گی؟
ممبئی: دھاراوی بازآباد کاری پروجیکٹ کے نام پر دھاراوی کے لوگوں کو بے گھرکرنے کی موڈانی کمپنی کی چال بے نقاب ہو گئی ہے۔ موڈانی کے خلاف لوگوں میں کافی غصہ ہے۔ موڈانی کمپنی اپنے جائز گھروں کے لیے دھاراویکروں کے اتحاد کو دیکھ کر خوف زدہ ہو گئی ہے۔ یہ باتیں ممبئی کانگریس کی صدر اور دھاراوی کی ایم ایل اے پروفیسر ورشا گائیکواڑ نے کہی ہیں۔ وہ یہاں میڈیا کے نمائندوں سے بات کر رہی تھیں۔
ورشا گائیکواڑ نے کہا کہ دھاراوی کے لوگوں کے اتحاد کو دیکھ کر بی جے پی اب جھوٹ بولنے اور سینہ زوری کرنے کی پالسیی اپنا رہی ہے۔ بی جے پی کے ممبئی صدر آشیش شیلار نے کہا ہے کہ یہ کہنا کہ ڈی آر پی پی ایل کے سروے میں لاکھوں ’اپاتر‘ (نااہل) لوگوں کو دھاراوی سے نکال دیا جائے گا، یہ ایک بھرم ہے اور اس پر یقین نہ کیا جائے۔ اگر ایسا ہے تو کیا شیلار یہ اعلان کریں گے کہ بی جے پی حکومت نے اس سلسلے میں جو جی آر جاری کیے ہیں اور جو حکومتی فیصلے لئے ہیں وہ غلط اور گمراہ کن ہیں؟ شیلار کم از کم اتنی اخلاقی جرأت دکھائیں کہ جو سچائی ہے اس کا اعتراف کریں اور جھوٹا پروپیگنڈہ نہ کریں۔ ورشا گائیکواڑ نے کہا کہ حکومت کے اب تک کے مختلف دستاویزات کے مطابق ایسا لگتا ہے کہ 7 لاکھ دھاراویکروں کو بے گھر کرنے کا منصوبہ ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ دھاراوی کے لوگوں کو ماٹونگا کی ریلوے کی زمین پر دوبارہ آباد کیا جائے گا لیکن دھاراوی میں بی کے سی کے لوگ، نیتا جی سوسائٹی کے لوگ کیوں ماتونگا جائیں؟ ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے۔ ورشا گائیکواڑ نے دھاراوی کے لوگوں سے کہا کہ وہ بی جے پی کے پروپیگنڈے کا شکار نہ ہوں۔
ورشا گائیکواڑ نے کہا کہ دھاراوی کو دھاراوی بنانے کا کام یہاں کے لوگوں نے کیا ہے۔ یہ زمین ہماری ہے، گھر ہمارے ہیں۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ موڈانی اینڈ کمپنی کتنی PR کرتی ہے، دھاراوی کے لوگ اچھی طرح جانتے ہیں کہ سچائی کیا ہے۔ دھاراوی کا تعلق دھاراوی کے لوگوں سے ہے، ان کاگھر وہیں ہونا چاہئے جہاں ان کا گھر ہے۔ کانگریس پارٹی نے دھاراوی کے لوگوں کے لیے اپنے جائز گھر کے لیے مارچ اور ایجی ٹیشن کا اہتمام کیا ہے۔ کانگریس پارٹی شروع سے ہی دھاراوی کے لوگوں کے حقوق کے لیے لڑ رہی ہے اور لڑتی رہے گی۔ موڈانی کمپنی چاہے کتنی ہی کوشش کرلے، دھاراوی مودی کا دوست نہیں بنے گا۔ ہم اپنے حقوق چاہتے ہیں، موڈانی کا مفاد نہیں۔