ہائی کورٹ کے جج کی نگرانی میں صحافی وارشے کے قتل کی تحقیقات کی جانچ کرائی جائے:اتل لونڈھے
قتل کا ماسٹر مائنڈ کون؟ عوام کے سامنے اسے ظاہر کیا جانا چاہئے
ممبئی:رتناگیری میں صحافی ششی کانت وارشے کا قتل مشکوک ہے۔ اس قتل میں جولوگ ملوث ہیں یا اس کے پیچھے جن لوگوں کا بھی ہاتھ ہے انہیں بے نقاب کیاجانا بہت ضروری ہے۔ حالانکہ وارشے کے قتل کیس میں پندھری ناتھ آمبیکر کو گرفتار کیا گیا ہے، لیکن اس قتل کی سازش کاماسٹر مائنڈ کون ہے؟ ریاست کی عوام کے سامنے اس کی وضاحت ہونا بہت ضروری ہے۔اس لیے قتل کے اس معاملے کی ہائی کورٹ کے جج کی نگرانی میں تفتیش کرائی جائے۔یہ مطالبہ مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے چیف ترجمان اتل لونڈھے نے کیا ہے۔
اس ضمن میں مزید بات کرتے ہوئے اتل لونڈھے نے کہا کہ ضلع رتناگیری میں مجوزہ ریفائنری پروجیکٹ متنازع ہوگیا ہے۔ مقامی لوگ اس پروجیکٹ کی شدید مخالفت کر رہے تھے۔ صحافی ششی کانت وارشے اس پورے معاملے پر مسلسل خبریں دے رہے تھے، اسی وجہ سے انہیں قتل کردیا گیا۔ لیکن اس قتل کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے؟کیا اس معاملے میں سیاسی مداخلت کی گئی ہے؟ کیا یہ قتل ریفائنری کے حامیوں نے کیاہے؟ کیا اس قتل کے پیچھے سیاسی رہنماؤں کے مالی مفادات ہیں؟ان تمام معاملات کی چھان بین ہونا بہت ضروری ہے۔
اتل لونڈھے نے کہا کہ ریاست کے وزیر داخلہ اور نائب وزیر اعلیٰ دیویندر فڈنویس نے آنگن واڑی کی میٹنگ میں کہا تھا کہ وہ دیکھیں گے کہ کون آنے والی ریفائنری کو روکنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس بیان کے ٹھیک 24 گھنٹے بعد صحافی وارشے کو قتل کر دیا گیا۔ ایسی صورت حال میں یہ شک پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس میٹنگ نے کسی کو مذکورہ صحافی کو قتل کرنے کی ترغیب دی؟ لونڈھے نے یہ بھی کہا کہ چونکہ ایسے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، اس لیے کانگریس پارٹی کا مطالبہ ہے کہ وارشے کے قتل کی مکمل جانچ ہونی چاہیے اور مجرموں کو سخت سزا دی جانی چاہیے۔