سیلاب متاثرین کے لیے امداد کا اعلان اونٹ کے منھ میں زیرہ کی مانند

19

کسانوں کو خاطرخواہ مدد دی جائے وگرنہ اسمبلی کااجلاس چلنے نہیں دیا جائے گا

آزادی گورو پدیاترا کو اورنگ آباد شہر وضلع میں عوام کا زبردست تعاون، جگہ جگہ استقبال

ممبئی:شندے-فڈنویس حکومت کے ذریعے شدید بارش سے متاثرین کے لیے مدد کا اعلان اطمینان بخش نہیں بلکہ اونٹ کے منھ میں زیرہ کی مانند ہے اور یہ متاثرین کے ساتھ نہایت ظالمانہ مذاق ہے۔ این ڈی آر ایف کی گائیڈ لائن پرانی ہے اس لیے یہ مدد دوگنی یا پھر اس سے زائد ہونی چاہئے۔ ریاستی حکومت کی طرف سے اعلان کردہ مدد کسانوں کے منہ پر طمانچہ اور مذاق ہے۔مہاراشٹرپردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ناناپٹولے نے ریاستی حکومت کے ذریعے کسانوں کی مدد کے اعلان پر یہ ردعمل ظاہرکرتے ہوئے انتباہ دیا ہے کہ اگر شدید بارش کے متاثرین کی خاطر خواہ مدد نہ کی گئی تواسمبلی کا مانسون اجلاس چلنے نہیں دیا جائے گا۔

نانا پٹولے مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کی طرف سے جشن آزادی کے موقع پر منعقدہ آزادی گورو پدایاترا کے دوران اورنگ آباد میں نامہ نگاروں سے بات کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ مہا وکاس اگھاڑی حکومت کے دوران شدید بارش سے متاثر ہونے والوں کو 15000 روپے کی امداد دی گئی تھی، لیکن اب اقتدار میں آنے والے بی جے پی لیڈروں نے اس وقت حکومت پر زبردست تنقیدیں کی تھیں کہ یہ مدد ناکافی ہے۔ توسوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ شندے وفڈنویس حکومت نے اب جس مدد کا اعلان کیا ہے وہ اطمینان بخش کیسے ہوسکتی ہے؟پٹولے نے کہا کہ کانگریس پارٹی نے شدیدبارش سے ہوئے نقصانات کی تلافی کے طور پر 75 ہزار روپے فی ہیکٹر دینے کا مطالبہ کیا تھا، لیکن حکومت نے صرف 13 ہزار روپے کا اعلان کیا ہے۔ یہ کسانوں کے ساتھ دھوکہ ہے۔ مدد دینے کے لیے 3 ہیکٹر کی حد مقرر کرنا بھی ناانصافی ہے جسے فوراً ختم کیا جائے۔

ناناپٹولے نے کہا کہ ریاست میں جو حکومت برسرِ اقتدار آئی ہے وہ کسان مخالف ہے۔وہ اس بات کی کوششوں میں مصروف ہے کہ مہاراشٹر کا پیسہ گجرات کوکیسے دیا جائے۔ہم اسے قطعی برداشت نہیں کریں گے۔ کسانوں کی زیادہ سے زیادہ مدد کی جائے اور یہ بھی بتایاجائے کہ جن کے مکانان تباہ ہوئے ہیں، چھوٹے دکانداروں، اسٹال والوں کو کتنی مدد دی جائے گی۔پٹولے نے کہا کہ ریاست میں جب مہاویکاس اگھاڑی کی حکومت تھی تو اس وقت جیسے ہی شدید بارش اور طوفان سے نقصان ہوا، فوری طور پر 10 ہزار روپے کی نقد امداد کا اعلان کیا گیا تھا اوراس کے بعد ایک پیکیج بھی دیا گیا تھا، لیکن بدقسمتی کی بات ہے کہ موجودہ بی جے پی شیوسینا حکومت کسانوں کو مدد کے نام پر لالی پاپ دے رہی ہے۔

شیوسینا کو کانگریس سے مشورہ کرنا چاہئے تھا

بی جے پی کو اقتدار سے دور رکھنے کے لیے 2019میں ریاست میں شیو سینا، کانگریس اور این سی پی کی حکومت کامن مینمم پروگرام پر بنی تھی۔ گوکہ اب ریاست میں اقتدار کا توازن تبدیل ہوگیا ہے توبھی مہاوکاس اگھاڑی کے طور پر ودھان پریشد میں حزبِ مخالف لیڈر کے عہدے کے لیے شیوسینا کو کانگریس پارٹی کے ساتھ بات چیت کرنی چاہئے تھی۔ شیوسینا نے اپوزیشن لیڈر کا فیصلہ کرتے ہوئے کانگریس کے ساتھ کوئی صلاح ومشورہ نہیں کیا۔اس معاملے پر ایک ساتھ بیٹھ کر بات چیت کرنے کی ضرورت ہے۔

اورنگ آبادمیں آزادی گورو پدیاترا میں نانا پٹولے کے ساتھ سابق وزیر انل پٹیل، سیوا دل کے ولاس اوتاڈے، سابق ایم ایل اے ایم ایم شیخ، نام دیو پوار، ریاستی جنرل سکریٹری جتیندر دیہاڑے، ڈاکٹر ظفر خان،شہر صدر شیخ یوسف، دیہی ضلعی صدر سابق ایم ایل اے کلیان کالے کے ساتھ عہدیداروں، کارکنوں اور عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ کل 12 اگست کو کانگریس کے ریاستی صدر نانا پٹولے ناسک ضلع اور شہر کانگریس کمیٹی کے زیر اہتمام پدا یاترا میں شرکت کریں گے۔