ہاؤسنگ سوسائٹیوں اور ان کے ممبران سے لوٹ بند کی جائے: ہرش وردھن سپکال
تربیت کے نام پر شہریوں اور سوسائٹیوں سے جبراً رقم وصول کرنا مہاراشٹر جیسے فلاحی ریاست کے مزاج کے خلاف ہے
ممبئی:10 جولائی 2025
مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ہرش وردھن سپکال نے ریاست میں ہاؤسنگ سوسائٹیوں سے وابستہ لاکھوں شہریوں پر مالی بوجھ ڈالنے کی کوششوں کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ تربیت کے نام پر جو رقم وصول کی جا رہی ہے، وہ سیدھی سیدھی لوٹ ہے اور اسے فوری طور پر بند کیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاستی حکومت نے ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے لیے تعاون قانون (Cooperative Law) میں جو ترمیم تجویز کی ہے، اس کے تحت ہر رکن کے لیے تین گھنٹے کی لازمی تربیت کا قانون بنایا جا رہا ہے۔ اس تربیت کے عوض ہر رکن سے 120 روپے اور ہر سوسائٹی سے 1000 روپے وصول کیے جا رہے ہیں، جو بالواسطہ طور پر لاکھوں شہریوں پر معاشی بوجھ ڈالنے کے مترادف ہے۔
سپکال نے واضح کیا کہ ریاست میں اس وقت تقریباً1 اعشاریہ 20 لاکھ ہاؤسنگ سوسائٹیاں اور تقریباً چار کروڑ سے زائد اراکین موجود ہیں۔ اس حساب سے جو خطیر رقم اکٹھی کی جائے گی، وہ نجی تربیتی اداروں کو دی جائے گی، جس سے نہ صرف مفادات کے ٹکراؤ کا خطرہ ہے بلکہ بڑے پیمانے پر بدعنوانی کا خدشہ بھی ظاہر ہوتا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اگر حکومت واقعی شہریوں کو تربیت دینا چاہتی ہے تو یہ خدمت بلا معاوضہ فراہم کی جائے، تاکہ عوام پر غیر ضروری مالی دباؤ نہ پڑے۔ اس حوالے سے ہرش وردھن سپکال نے محکمہ تعاون (سہکار آیوکت) کو ایک خط ارسال کیا ہے جس میں انہوں نے اس منصوبے کی شدید مخالفت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ تربیت کے نام پر ریاست کے شہریوں اور سوسائٹیوں سے جبراً رقم وصول کرنا مہاراشٹر جیسے فلاحی ریاست کے مزاج کے خلاف ہے، جہاں حکومت کا اولین فریضہ عوامی بہبود ہونا چاہیے، نہ کہ ان پر مالی بوجھ ڈالنا۔
سپکال نے سوال اٹھایا کہ آخر تربیت جیسے فلاحی مقصد کے لیے عوام سے پیسہ کیوں لیا جا رہا ہے؟ کیا یہ حکومت کا فرض نہیں کہ ایسی تربیت خود فراہم کرے؟ اس تناظر میں انہوں نے کہا کہ یہ مجوزہ فیس محض ایک رسمی تربیت کے لیے ہے، جس کا معیار، مؤثریت اور شفافیت بھی مشکوک ہے۔ انہوں نے اس اسکیم کو ’منصوبہ بند لوٹ‘ قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اسے فی الفور واپس لیا جائے۔ کانگریس پارٹی کی جانب سے ہرش وردھن سپکال کا یہ مکتوب کانگریس کے لیڈر اجنکیہ دیسائی، ڈاکٹر گجانن دیسائی اور پردیپ راؤ نے خود سہکار آیوکت کے دفتر جا کر جمع کروایا۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے یہ لوٹ اسکیم واپس نہ لی تو ریاست گیر سطح پر احتجاج کی تحریک چلائی جائے گی۔
MPCC Urdu News 10 July 25.docx