تھانے (آفتاب شیخ).تھانے ضلع کے شاہ پور علاقے میں واقع آر ایس دامانی اسکول میں ایک نہایت شرمناک اور دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا ہے، جس میں جماعت پنجم سے دہم تک کی طالبات کے ساتھ حیض (ماہواری) کی جانچ کے نام پر غیر انسانی اور توہین آمیز سلوک کیا گیا۔
8 جولائی کو اسکول کے بیت الخلاء میں خون کے دھبے پائے جانے کے بعد اسکول انتظامیہ نے تمام لڑکیوں کو ایک جگہ جمع کیا۔ اسکول کی پرنسپل نے پروجیکٹر کے ذریعے خون کے دھبوں کی تصاویر دکھائیں اور طالبات سے پوچھا کہ کس کو حیض ہو رہا ہے۔
جن طالبات نے حیض ہونے کا اعتراف کیا، ان سے انگوٹھے کا نشان لیا گیا۔ جنہوں نے انکار کیا، انہیں اسکول کی ایک خاتون ملازمہ بیت الخلاء لے گئی اور وہاں ان کی جسمانی تلاشی لی گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق، بعض طالبات کو اپنے زیر جامے (انڈرویئر) تک اتارنے پر مجبور کیا گیا، اور یہ سب کچھ دیگر طالبات کے سامنے انجام دیا گیا۔ اس واقعے نے تقریباً 12 طالبات کو ذہنی طور پر شدید متاثر کیا ہے۔
اس واقعے سے ناراض والدین نے اسکول کے باہر مظاہرہ کیا اور متعلقہ افراد کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔
پولیس نے 9 جولائی کو اسکول کی پرنسپل، خاتون ملازمہ، چار اساتذہ اور دو ٹرسٹیوں سمیت آٹھ افراد کے خلاف بھارتیہ نیائے سنہتا کی دفعات 74 اور 76 اور پوکسو ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا۔ 10 جولائی کو پولیس نے اسکول کی پرنسپل اور مذکورہ خاتون ملازمہ کو گرفتار کر لیا۔
مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ دیویندر فڈنویس نے اس واقعے کی سخت مذمت کرتے ہوئے فوری جانچ کے احکامات دیے ہیں اور یقین دلایا ہے کہ قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
یہ واقعہ نہ صرف بچوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے بلکہ اسکولوں میں حیض سے متعلق حساسیت، آگاہی کی کمی اور لڑکیوں کی عزت نفس و نجی آزادی کے تحفظ پر سنجیدہ سوال کھڑے کرتا ہے۔ والدین نے مطالبہ کیا ہے کہ اسکولوں میں حیض سے متعلق بیداری مہم چلائی جائے اور طالبات کی عزت و وقار کی مکمل حفاظت کی جائے۔