ایک ساتھ اقتدار میں اور ایک دوسرے پر تنقید؟ ہمت ہو تو اقتدار چھوڑ دیں: ہرش وردھن سپکال
تعلیم و ثقافت کی شناخت رکھنے والا پونے اب منشیات، غنڈہ گردی اور کویتا گینگ کا گڑھ بنتا جا رہا ہے
ممبئی/پونے: مہاراشٹر میں بی جے پی، شندے شیوسینا اور اجیت پوار کی نیشنلسٹ کانگریس پر مشتمل ’ٹرپل انجن‘ سرکار پر ریاستی کانگریس کے صدر ہرش وردھن سپکال نے شدید تنقید کی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ یہ تینوں پاریٹاں صرف اقتدار کی حصہ داری کے لیے ایک ساتھ آئی ہیں اور اقتدار میں رہتے ہوئے ایک دوسرے پر بدعنوانی اور سنگین الزامات لگا کر عوام کو گمراہ کر رہی ہیں۔ اگر بی جے پی اور نیشنلسٹ کانگریس کو ایک دوسرے پر واقعی الزامات ہی لگانے ہیں تو ہمت دکھائیں، اقتدار سے باہر آئیں اور پھر ایک دوسرے کو کٹہرے میں کھڑا کریں۔
پونے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ ایک طرف اجیت پوار بی جے پی کو ملک کی سب سے بدعنوان پارٹی قرار دے رہے ہیں، تو دوسری طرف بی جے پی اجیت پوار پر کرپشن کے الزامات لگا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ الزامات سچے ہیں تو دونوں پارٹیاں اقتدار سے چمٹی ہوئی کیوں ہیں؟ یا تو اجیت پوار استعفیٰ دے کر حکومت سے باہر آئیں یا بی جے پی نیشنلسٹ کانگریس کی حمایت سے دستبردارا ہو۔ لیکن ایسا کبھی نہیں ہوگا کیونکہ دونوں ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ ان کے مطابق بی جے پی، شندے گروپ اور نیشنلسٹ کانگریس میں اب اخلاقیات نام کی کوئی چیز باقی نہیں رہی۔ انہوں نے کہا کہ جب پارتھ پوار سے زمین گھوٹالے پر سوال کیا جاتا ہے تو اجیت پوار ’جے جنیندر‘ اور ’جے جین بورڈنگ‘ جیسے جوابات دے کر بات ٹال دیتے ہیں۔ یہ لوگ گرگٹ سے بھی تیزی سے رنگ بدلتے ہیں، مگر اقتدار چھوڑنے کی بات آتے ہی سب خاموش ہو جاتے ہیں۔
ہرش وردھن سپکال کا ریاست بھر میں جارحانہ انتخابی دورہ جاری ہے۔ ودربھ اور مراٹھواڑہ میں انتخابی جلسوں کے بعد آج انہوں نے پونے اور تھانے میں پدیاترا، ریلیوں اور عوامی اجتماعات میں شرکت کی۔ اس دوران انہوں نے پونے کی موجودہ صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پونے کی پہچان ایک تاریخی، ثقافتی اور تعلیمی شہر کے طور پر رہی ہے، مگر آج اس شہر کی شناخت منشیات کے کالے کاروبار، کویتا گینگ، غنڈہ گردی، بدعنوانی اور بدحال بنیادی ڈھانچے سے جڑی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب پونے کے شہریوں کو ہی شہر کی اصل شناخت کو بچانے کے لیے آگے آنا ہوگا۔ ایک سوال کے جواب میں کانگریس صدر نے بی جے پی کو ایک کمزور پارٹی قرار دیتے ہوئے کہا کہ آج اس پارٹی میں کوئی بھی شامل ہو سکتا ہے۔ پہلے غنڈوں اور اوباش عناصر کو پارٹی میں جگہ دی گئی اور اب سنگین جرائم میں ملوث افراد کو بھی قبول کیا جا رہا ہے، جو بی جے پی کے گرتے ہوئے سیاسی معیار کی علامت ہے۔ اس موقع پر منعقدہ پریس کانفرنس میں مہاراشٹر پردیش کانگریس کے سینئر نائب صدر اور سابق رکنِ اسمبلی موہن جوشی، ریاستی کانگریس کے خزانچی ابھے چھاجیڈ، سابق رکنِ اسمبلی دیپتی چودھری، سینئر ترجمان گوپال تیواری اور دیگر عہدیداران موجود تھے۔
MPCC Urdu News 10 January 26.docx