شیو سینا (یو بی ٹی) نے جو کیا ہے کیا کانگریس کو پربھنی میں بھی وہی کرنا چاہیے؟: ہرش وردھن سپکال
ممبئی: چندرپور میں میئر کے انتخاب کے دوران بھارتیہ جنتا پارٹی نے خرید و فروخت کے ذریعے کامیابی حاصل کی ہے۔ کانگریس کے پاس اکتیس منتخب ارکان موجود تھے اور شیو سینا (یو بی ٹی) چونکہ مہاوکاس اگھاڑی اور انڈیا اگھاڑی کا حصہ ہے، اس لیے اسے کانگریس کی حمایت کرنی چاہیے تھی، لیکن اس کے برعکس شیو سینا (یو بی ٹی) نے بی جے پی کا ساتھ دیا جبکہ مجلس اتحاد المسلمین نے غیر جانبدار رہ کر درپردہ بی جے پی کی مدد کی۔ کانگریس کے نئے اتحادی ونچت بہوجن اگھاڑی کے ارکان کی غیر حاضری کے سبب بی جے پی کا امیدوار محض ایک ووٹ سے کامیاب ہو گیا۔ شیو سینا (یو بی ٹی) نے چندرپور میں جو کردار ادا کیا ہے، اس کے اثرات پورے مہاراشٹر میں نظر آئیں گے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پربھنی میں کانگریس کو بھی اسی طرح کا رویہ اختیار کرنا چاہیے؟ یہ سوال مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ہرش وردھن سپکال نے کیا ہے۔
چندرپور کے میئر انتخاب پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی اور مجلس اتحاد المسلمین کے درمیان ایک غیر علانیہ اتحاد موجود ہے، جس کا تجربہ پہلے اَنجن گاؤں سورجی، اکوٹ اور اچلپور میں ہو چکا ہے اور اب چندرپور میں بھی یہ بات واضح ہو گئی ہے۔ میئر کے انتخاب میں غیر جانبدار رہ کر مجلس اتحاد المسلمین نے عملاً بی جے پی کی مدد کی، جس سے یہ ایک بار پھر ثابت ہو گیا کہ بی جے پی اور ایم آئی ایم ایک ہی سکے کے دو رُخ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس نے ونچت بہوجن اگھاڑی کو ساتھ لینے کی مخلصانہ کوشش کی تھی، اگر وہ کانگریس کی حمایت کرتے تو چندرپور میں کانگریس کا میئر منتخب ہو جاتا۔ کانگریس کی جانب سے میئر منتخب کرانے کے لیے اسمبلی میں کانگریس لیڈر وجے ویڈیٹی وار اور رکن پارلیمنٹ پرتبھا تائی دھانورکر کو ایک ساتھ بٹھا کر رابطہ قائم کیا گیا اور دونوں لیڈروں نے مل کر کام بھی کیا۔ کانگریس میں کسی قسم کی اندرونی پھوٹ نہیں ہے۔ ہرش وردھن سپکال نے مزید کہا کہ چندرپور کے میئر انتخاب سے متعلق مکمل رپورٹ پارٹی کے مبصرین سے طلب کی جائے گی اور اس کے بعد اس پر تفصیلی اور سنجیدہ غور و خوض کیا جائے گا۔
MPCC Urdu News 10 Feb. 26.docx