ایپسٹین فائلز معاملے پر ممبئی یوتھ کانگریس کا شدید احتجاج، وزیر اعظم نریندر مودی سے استعفیٰ کا مطالبہ
ممبئی: ایپسٹین فائلز میں سامنے آنے والے انکشافات اور اس معاملے میں وزیر اعظم نریندر مودی کے نام کا جڑنا ہندوستان کے لیے نہایت سنجیدہ اور تشویشناک امر ہے۔ ان انکشافات سے نہ صرف ہندوستان کی عالمی ساکھ متاثر ہو رہی ہے بلکہ حکومت کی فیصلہ سازی، خارجہ پالیسی اور اقتدار کی شفافیت پر بھی سنگین سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔ ان حالات میں وزیر اعظم کو اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے فوری استعفیٰ دینا چاہیے، یہ مطالبہ ممبئی یوتھ کانگریس کی صدر زینت شبرین نے کیا۔
ایپسٹین فائلز سے متعلق انکشافات کے خلاف ممبئی یوتھ کانگریس کی جانب سے شہر میں شدید احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ یہ احتجاج زینت شبرین کی قیادت میں منعقد ہوا جس میں یوتھ کانگریس کے سینئر عہدیداران اور سیکڑوں کارکنان شریک ہوئے۔ مظاہرے کے دوران مودی حکومت کے خلاف نعرے بازی کی گئی اور حکومت سے جواب دہی کا مطالبہ کیا گیا۔
احتجاج سے خطاب کرتے ہوئے زینت شبرین نے کہا کہ یہ معاملہ محض الزامات تک محدود نہیں بلکہ بھارت کی قومی پالیسیوں پر بیرونی دباؤ کے خدشات کو تقویت دیتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہندوستان کی خارجہ پالیسی، توانائی اور سلامتی سے متعلق فیصلے آزادانہ، ادارہ جاتی اور قومی مفاد کے تحت لیے گئے یا پھر ان فیصلوں کے پیچھے ذاتی یا سیاسی مفادات کارفرما رہے۔ اگر حکومت کے فیصلے واقعی قومی مفاد میں ہیں تو اسے شفاف طریقے سے وضاحت کرنی چاہیے کہ یہ فیصلے کن بنیادوں پر، کس عمل کے ذریعے اور کس کے فائدے کے لیے کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ ایپسٹین فائلز کے ذریعے سامنے آنے والے حقائق نے حکومت کی کارکردگی، فیصلہ سازی کے طریقۂ کار اور سفارتی نظام پر سنگین سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ وزیر اعظم کے بیرونِ ملک دوروں میں ایک بدنام عالمی مجرم کے کردار کے حوالے اور عالمی طاقت مراکز تک رسائی کے لیے نجی صنعت کاروں کی مبینہ شمولیت، قومی وقار اور ادارہ جاتی سفارت کاری پر براہِ راست ضرب کے مترادف ہے۔
زینت شبرین کے مطابق ان انکشافات کے تناظر میں حکومت کے حالیہ اسٹریٹجک فیصلے مزید مشتبہ دکھائی دیتے ہیں۔ چابہار بندرگاہ جیسے اہم منصوبے کو کمزور کرنا، روس سے سستی توانائی کے متبادل ذرائع سے پسپائی اختیار کرنا اور بھارت کی توانائی پالیسی کو امریکی مفادات کے مطابق ڈھالنا، یہ تمام اقدامات قومی مفاد کے بجائے بیرونی دباؤ کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایسی صورتحال میں حکومت کی جانب سے مکمل، شفاف اور قابلِ اعتماد وضاحت نہایت ضروری ہے۔ ملک کے عوام کو یہ جاننے کا حق ہے کہ اقتدار میں بیٹھے لوگ قومی مفادات کے تحفظ میں کس حد تک سنجیدہ ہیں اور کیا فیصلے واقعی بھارت کے طویل مدتی مفاد میں کیے جا رہے ہیں۔