اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ کے دوران مکمل طور پر بند رہنے کے بعد پیر کو غزہ کی پٹی اور مصر کے درمیان رفح بارڈر کراسنگ کو دونوں سمتوں میں دوبارہ کھول دیا گیا ہے۔ تاہم غزہ کے صحت حکام نے اسرائیلی طریقہ کار کو ’انتہائی مشکل اور پیچیدہ‘ قرار دیا ہے۔
اسرائیلی حکام کے مطابق یورپی یونین کے بارڈر اسسٹنس مشن (ای یو بی اے ایم) کی ٹیموں کی آمد کے بعد رفح کراسنگ کو محدود پیمانے پر کھولا گیا ہے تاکہ رہائشیوں کو اندر اور باہر جانے کی اجازت دی جا سکے۔ یہ غزہ کی پٹی کا واحد زمینی راستہ ہے جو اسرائیل سے گزرے بغیر مصر سے جڑتا ہے۔
مریضوں کے علاج میں تاخیر
غزہ شہر کے الشفاء میڈیکل کمپلیکس کے ڈائریکٹر محمد ابو سلمیہ نے بی بی سی کو بتایا کہ اسرائیل نے صرف پانچ مریضوں کو کراسنگ کے ذریعے سفر کی اجازت دی ہے، ہر مریض کے ساتھ دو ساتھی ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ روزانہ پچاس مریضوں کو نکالنے کی رفتار سے 20 ہزار مریضوں کو علاج کے لیے برسوں لگ جائیں گے۔
انھوں نے خبردار کیا کہ اس تاخیر سے مریضوں کی زندگیاں خطرے میں ہیں، اور بتایا کہ اب تک بیرون ملک علاج کے انتظار میں 1300 سے زائد مریض ہلاک ہو چکے ہیں۔ وزارت صحت کے مطابق 4500 بچے، 4500 کینسر کے مریض اور 450 انتہائی نازک کیس فوری علاج کے منتظر ہیں۔
سیاسی اور انتظامی پیچیدگیاں
اسرائیلی چینل 12 کے مطابق پیر سے باضابطہ طور پر 150 افراد غزہ سے نکلیں گے اور 50 داخل ہوں گے۔ تاہم وزارت صحت نے کہا کہ اعلان کے باوجود اتوار کو کوئی آمدورفت نہیں ہو سکی۔
حماس کے میڈیا آفس نے بتایا کہ 22 ہزار زخمی اور بیمار افراد کو بیرون ملک علاج کی ضرورت ہے جبکہ 80 ہزار فلسطینی غزہ واپس آنا چاہتے ہیں۔
فضائی حملے اور انسانی بحران
کراسنگ کے دوبارہ کھلنے کے موقع پر اسرائیل نے غزہ کے مختلف علاقوں میں فضائی حملے کیے جن میں شہری دفاع کے مطابق کم از کم 32 افراد ہلاک ہوئے، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔
اسرائیلی فوج نے کہا کہ یہ حملے رفح میں ایک سرنگ سے نکلنے والے جنگجوؤں کے جواب میں کیے گئے۔
غزہ کی وزارت صحت کے مطابق جنگ بندی کے بعد 100 دنوں میں اسرائیلی حملوں میں 500 سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ اسی دوران اسرائیل نے اعلان کیا کہ وہ غزہ میں ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز کے آپریشن کو روک دے گا، جس پر تنظیم نے کہا کہ یہ فیصلہ امداد روکنے کا ’بہانہ‘ ہے۔
انسانی تنظیموں پر سخت شرائط
اسرائیل نے حالیہ مہینوں میں انسانی ہمدردی کی تنظیموں کے لیے شرائط مزید سخت کر دی ہیں۔ حکام نے خبردار کیا ہے کہ مارچ تک 37 غیر سرکاری تنظیموں کو غزہ میں کام کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جبکہ فلسطینی عملے پر بھی سخت نگرانی عائد کی گئی ہے۔