ایندھن کی قیمتوں میں اضافے، مہنگائی، بیروزگاری، سیاہ زرعی قوانین کے خلاف14سے19نومبر کے درمیان کانگریس کی عوامی بیداری مہم، جیل بھرون آندولن بھی ہوگا
ممبئی:جب سے مرکز میں نریندر مودی کی حکومت آئی ہے، غریبوں کو لوٹنے اوراپنے صنعت کار دوستوں کی جیبیں بھرنے کا یک نکاتی پروگرام شروع ہے۔ اس کے نتیجے میں ملک میں ایندھن کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگی ہیں اور مہنگائی نے لوگوں کا جینا مشکل بنادیا ہے۔ ایک طرف بڑھتی ہوئی قیمتیں، مہنگائی اور دوسری طرف بے روزگاری اور مرکز کی کسان مخالف پالیسی نے غریبوں، کسانوں اور عام آدمی کا جینا محال کر دیا ہے۔مودی حکومت نے مصنوعی طور پر مہنگائی بڑھاکر ملک کے عوام کو لوٹنے کی مہم شروع کررکھی ہے۔ اس تعلق سے عوام میں بیداری پیداکرنے کے لئے مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے ذریعے 14سے19نومبر تک’عوامی بیداری ہفتہ‘ منایا جائے گا۔ اس دوران جیل بھرون آندولن بھی چلایا جائے گا۔ یہ اطلاع آج یہاں مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ناناپٹولے نے دی ہے۔
گاندھی بھون میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ناناپٹولے نے کہا کہ مرکز کی نریندر مودی حکومت ایندھن کی قیمتوں اور مہنگائی میں اضافہ کرکے ملک کے غریب ومتوسط طبقے کو مسلسل لوٹ رہی ہے۔ گزشتہ ایک سال میں خوردنی تیل کی قیمتیں دوگنی ہوگئی ہیں۔ حکومت نے ایک سال میں ایندھن کی قیمتوں میں تقریبا 35 روپے فی لیٹرکا اضافہ کیا ہے۔ جہاں عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں گر رہی ہیں وہیں ملک میں روز بروزایندھن کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ایل پی جی جس کی قیمت یو پی اے حکومت میں 440 روپے تھی اب 950 روپے ہو گئی ہے۔ اجولا اسکیم کی آڑ میں بھی غریبوں کا مذاق اڑایا جارہا ہے۔ اجولا اسکیم کے تحت مفت گیس کے نام پر غریبوں کو مٹی کا تیل دینا بند کردیا گیا اور اب گیس کی قیمت 950 روپے تک پہنچادیا گیا ہے۔گزشتہ ۸ ماہ میں مرکزی حکومت نے تقریباً 75مرتبہ ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ کیا۔پٹرول110روپئے اور ڈیزل 93روپئے اور گیس سیلنڈرکی قیمتیں مسلسل بڑھا کر ایندھن پرٹیکس کی صورت میں مودی حکومت نے سات سال میں تقریباً 25لاکھ کروڑ روپئے کا نفع کماتے ہوئے ملک کی عوام کا معاشی استحصال کیا ہے۔
ناناپٹولے نے مزید کہا کہ قیمتوں میں اس مصنوعی اضافے کے خلاف کانگریس پارٹی بارہا سڑکوں پر نکل کر احتجاج کرتی رہی ہے لیکن عوام کا خون چوسنے اور صنعتکار دوستوں کی جیبیں بھرنے میں مگن مودی حکومت کو عام آدمی کی حالت زار نظر نہیں آئی۔ مودی حکومت کی اس عوام دشمن پالیسی کے بارے میں لوگوں میں بیداری پیدا کرنے کے لیے کانگریس پارٹی نے 14 سے 19 نومبر تک بھارت کے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لعل نہرو کے یوم پیدائش کے موقع پر عوامی بیداری مہم چلائے گی۔ اس مہم کے تحت کانگریس پارٹی کے قائدین، وزراء، ایم ایل اے، عہدیدار، عوامی نمائندے کارکن ہر شہر اور گاؤں میں لوگوں کے گھر وں تک جائیں گے لوگوں سے بات چیت کریں گے۔کانگریس پارٹی عوام کو بتائے گی کہ مودی حکومت نے کس طرح مہنگائی اور قیمتوں میں اضافہ کیا۔اس پورے پرگرام کی معلومات ریاستی کانگریس کے سوشل میڈیا ہینڈلز پر دستیاب کرائی جائیں گی اور عوامی بیداری کے لیے سوشل میڈیا کا بھی استعمال کیا جائے گا۔
ایک سوال کے جواب میں نانا پٹولے نے کہا کہ سابق وزیر اعلیٰ اور ایک وزیر کے درمیان الزامات عائد کرنے کا سلسلہ چل رہا ہے۔دونوں ہی لیڈر ایک ذمہ دار عہدے پر ہیں۔ وہ دونوں ایک دوسرے پر انڈرورلڈ، دہشت گردوں سے تعلقات کے الزامات لگارہے ہیں۔ اس سے مہاراشٹر کی بدنامی ہورہی ہے۔ انہیں اپنے الزامات کا ثبوت دینا چاہئے۔ کانگریس پارٹی کے لئے ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ، بڑھتی مہنگائی، بیروزگاری، کسانوں کے مسائل زیادہ اہم ہیں۔ ہم ان مسائل کو لے کر عوام کے درمیان جائیں گے اور ان کے اندر بیداری پیداکرتے ہوئے مرکزکی مودی حکومت کے خلاف تحریک چلائیں گے۔ناناپٹولے نے کہا کہ ایس ٹی کارکنوں کی ہڑتال خوش اسلوبی سے ختم ہونی چاہئے۔ کانگریس پارٹی کا رول شروع سے ہی رہا ہے کہ عام لوگوں کو ہڑتال سے پریشانی نہیں ہونا چاہئے۔ حکومت نے بھی ایس ٹی ملازمین کے مہنگائی الاؤنس اور تنخواہ میں اضافہ کرتے ہوئے ان کے مطالبات کو مان لیا ہے، لیکن بی جے پی لیڈران ایس ٹی کارکنوں کو گمراہ کر رہے ہیں۔ پٹولے نے کہا کہ بی جے پی اپنے سیاسی فائدے حاصل کرنے کے لیے ایس ٹی ملازمین کا استعمال کر رہی ہے۔اس پریس کانفرنس میں ریاستی نائب صدر سنجے راٹھور، ریاستی کانگریس کے جنرل سکریٹری اور چیف ترجمان اتل لونڈھے، جنرل سکریٹری اور ترجمان راجو واگھمارے، سابق ایم ایل اے حسنہ بانو خلیفے، این ایس یو آئی کے ریاستی صدر عامر شیخ موجود تھے۔