مرکز میں بی جے پی حکومت کے قیام کے بعد سے فرقہ واریت نے جس طرح تیزی سے اپنا سراٹھایا ہے ، اس نے ہر ہوشمند کو تشویش میں مبتلاکردیا ہے۔حکومت کی پشت پناہی میں اس فرقہ واریت نے ہر شعبہ¿ حیات پر اپنی نوکیلے پنجے گاڑدیئے ہیں، جس کے نتیجے میں ملک میں ایک ایسے خلفشار کی کیفیت پیدا ہوگئی ہے کہ نہ جائے رفتن اور نہ پائے مادن۔ ایسی صورت میں ان لوگوں کی ذمہ داریاں مزید بڑھ جاتی ہیں جو ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور انصاف وعدل کے قیام کا علم اٹھائے ہوئے ہیں ۔جمعیة علماءمہاراشٹر کے صدر مولاناحافظ ندیم صدیقی کا شمار بھی ایسے ہی ہوشمندوں میں ہوتا ہے جو ایک جانب فرقہ واریت کے خلاف شمشیربرہنہ نظر آتے ہیں تو دوسری جانب عدل وانصاف کے قیام کے لئے شب وروز ایک کئے ہوئے ہیں۔ وہ اگر ایک جانب ملک کے دیگر برادرانِ وطن سے رابطہ قائم کرکے ، انہیں ایک اسٹیج پر لاکر ملک کو تباہ کررہی فرقہ پرستی کے خلاف متحدہ جدوجہد کے لئے آمادہ کرتے ہیں تو دوسری جانب دوہشت گردی ودیگر ناکردہ جرائم کی پاداش میں قید وبند کی صعوبتیں برداشت کررہے مسلم نوجوانوں کی رہائی کے لئے کوشاں رہتے ہیں۔ اصلاحِ معاشرہ کی مہم ہو یا مسلمانوں کے ریزرویشن وان کے حقوق کی لڑائی ، بے قصورمحروسین کے مقدمات کی قانونی پیروی ہو یا فسادزدگان کی بازآبادکاری ، آفاتِ سماوی وارضی کے متاثرین کی امداد کا معاملہ ہو یا وقف املاک کے تحفظ کی مہم، مولانا ندیم صدیقی ہر محاذ پر ہراول دستے میں ہی نظر آتے ہیں۔شاید یہی وجہ ہے کہ وہ ہمیشہ ریاست وملک کے مختلف مقامات کے دورے پر ہی رہتے ہیں۔ سفر ان کے پیروں سے چمٹ کر رہ گیا ہے ۔ جہاں کہیں بھی مسلمان انہیں آواز دیتے ہیں وہ لبیک کہتے ہوئے وہاں پہونچ جاتے ہیں۔
جمعیة علماءمہاراشٹر کے تحت مولانا ندیم صدیقی کا سب سے بڑا کارنامہ دہشت گردی کے جھوٹے مقدمات میںماخوذ مسلم نوجوانوں کی قانونی پیروی ہے، جس نے ان کا تعارف ریاست ہی نہیں بلکہ ملک بھرکے ان تمام متاثرہ خاندانوں تک پہونچادی ہے، جن کے اہلِ خانہ آج جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہیں۔یہ قانونی ماہرین کی اپنی پوری ٹیم کے ساتھ ان کے مقدمات کی نہ صرف پیروی کرتے ہیں بلکہ ان کے اہلِ خانہ کی کفالت بھی کرتے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ رمضان کی آمد آمد کے اس موقع پر ان کی فکرمندی بہت بڑھ گئی ہے۔ ان کی اس فکرمندی میں اس وقت مزید شدت آجاتی ہے جب ان سے کوئی عیدالفطرکا تذکرہ چھیڑ دیتا ہے ۔ وہ چاہتے ہیںکہ عیدا لفطر کی آمد سے قبل جیل میں قید بے قصوروں اور ان کے اہلِ خانہ کو بھی عیدالفطر کی خوشیوں میں شریک ہونے کا موقع مل جائے ، جس کے لئے وہ مخیرحضرات کے سامنے اپنا دامن پھیلادیتے ہیں ۔مولانا ندیم صدیقی بے قصور محروسین کی جنگ اس عزم اور ارادے کے ساتھ لڑ رہے ہیں کہ ” انشاءاللہ ایک دن سارے بے قصور رہا ہوںگے “۔اللہ ان کے عزم و ارادے کو قوت بخشے، کےونکہ آج مسلمانوں کی جنگ عزم اور ارادے کے بل بوتے پر ہی لڑی جا سکتی ہے۔مولانا ندیم صدیقی آج عزم و ارادے کے بلند مینار نظر آتے ہیں۔بے قصور محروسین کے مقدمات ،فساد متاثرین کی بازآباد کاری اور دیگر دینی،ملی ،سماجی ورفاحی کاموں کے پیش نظرہمارے نمائندے نے مولانا موصوف سے ایک گفتگو کی جس کے اقتباسات کے قارئین کے پیشِ نظر ہیں۔
سوال۔ دہشت گر دی کے الزام میں قید وبند کی صعوبتیں برداشت کررہے مسلمانوں کے مقدمات آپ کن بنیادوں پر لڑ رہے ہیں، جب کہ ملک کی بیشتر ایجنسیاں اس بات کی دعویدار ہیںکہ انکی گرفتاریاںدہشت گردانہ وارداتوں میں ملوث اور ثبوتوں کی بنیاد پر ہوئی ہیں ؟
جواب۔ایسا با لکل نہیں ہے ۔یہ تمام گرفتاریاں اس مفروضے کی بنیاد پر ہوئی ہیں یا ہورہی ہیں کہ مسلمان دہشت گردی کے حمایتی ہوتے ہیں اور دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث ہوتے ہیں۔’ہوتے ہیں‘ اور ’ہیں‘میں بڑا فرق ہے۔ ایجنسیاں اسی مفروضے کی بنیاد پر مسلم نوجوانو ں کو نشانہ بناتی ہیں اور ان پر ایسے ایسے دفعات کے تحت مقدمات درج کرتی ہیں کہ جن کی قانونی پیروی نہایت پیچیدہ عمل ہوجاتا ہے اور اس عمل میں برسوں گزر جاتے ہیں۔ بالآخر یہی نوجوان جنہیں دہشت گردانہ وارداتوں کا ماسٹر مائنڈ بناکر پیش کیا جاتا ہے ، عدالتوں میں وہ بے قصور ثابت ہوجاتے ہیں۔ ہمارے سامنے ایسی بے شمار مثالیں ہیں جہاں ایجنسیوں کے دعوے عدالت میں فکشن ثابت ہوئے ہیں۔ میں آپ کو یہ بتاتاچلوں کہ آج تک جتنے بھی مسلمان دہشت گردی کے الزام میں گرفتار ہوئے ہیں، وہ تمام کے تمام محض عصبیت، شک، کسی ملزم یا مجرم سے تعلق وشناشائی اور سب سے بڑھ کر یہ کہ حکومتی وخفیہ اداروں کی منصوبہ بندی کے تحت گرفتار ہوئے ہیں۔
سوال: اگر آپ دہشت گردی کے الزامات میں گرفتار مسلم نوجوانوں کے بارے میں یہ دعویٰ کرتے ہیں تو کیا یہی دعویٰ ان ہندوتواوادی دہشت گردوں پر منطبق نہیں ہوتا جو آج سلاخوں کے پیچھے ہیں؟ جبکہ ان میں سے اسیمانند اور سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر سمیت تقریباً ۹ لوگوں کو ضمانتیں بھی مل چکی ہیں؟ اگر مسلم نوجوانوں کوتعصب، شک اور کسی ملزم سے تعلق کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے یا گرفتار کیا جاتا ہے تو کیا ایسا نہیں ہوسکتا کہ ہندوتواوادی دہشت گردوں کی گرفتاری میں بھی یہی عوامل کارفرما رہے ہوں؟
جواب:یہاں بھی میں آپ کی بات سے اختلاف کرونگا۔ آپ یہ بات اچھی طرح سمجھ لیں کہ جتنے بھی مسلم نوجوان دہشت گردی کے الزام میں گرفتار ہوئے ہیں یا گرفتار ہورہے ہیں ان میں سے کسی پر بھی کسی دہشت گردانہ واردات میں ملوث ہونے کا الزام نہیں ہے۔ ایجنسیوں یا پولیس کی تشدد کی بنیاد پر اعترافِ جرم کی بات اور ہے، مگر حقیقی طور پر ان پر جو الزام عائد ہیں وہ مستقبل کے امکانات کے تحت ہیں یعنی کہ یہ دہشت گردانہ واردات کرنے والے تھے، یا یہ کہ ان کی منصوبہ بندی تھی۔ جبکہ جتنے بھی ہندوتواوادی گرفتار ہوئے ہیں ان پر الزامات کی نوعیت دوسری ہے۔ ان پر جو الزامات ہیں وہ یہ ہیں کہ یہ لوگ ملوث تھے، میٹنگیں کئے، فنڈ اکٹھا کئے، بم سازی کئے، بم لے گئے، دھماکہ کئے وغیرہ وغیرہ۔ اس لئے مسلم نوجوانوں کی گرفتاری کے معاملے میں میرا جو دعویٰ ہے وہ ہندوتواوادی دہشت گردوں پر عائد نہیں ہوتا۔ایک بات اور کہ جن ایجنسیوں نے انہیں گرفتار کیا ہے ان کے اہلکار ان کے ہم مذہب تھے، اس لئے تعصب کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ پورے منظرنامے پر غور کرنے کے بعد آپ میری اس بات سے اتفاق کریں گے کہ مذہب اور اقلیت کا اس معاملے میں بڑا عمل دخل ہے۔رہی بات ہندوتواوادی دہشت گردوں کی ضمانت کی ، تو ان کی ضمانت بتدریج عمل میں آئی ہے، جس میں حکومتی منشاءکے کئی ثبوت ہمارے سامنے ہیں۔اس لئے اگر یہ کہا جائے کہ عدالتوں نے بھلے ہی ان کی ضمانتیں منظور کی ہیں، مگر اس کے لئے سرکار ی سطح پر راہ ہموار کی گئی ہے تو غلط نہ ہوگا۔ وہی این آئی جو انہیں دہشت گرد قرار دیتی رہی، مرکز میں حکومت تبدیل ہونے کے بعد اس کے رویئے میں بھی تبدیلی آئی اور اس نے انہیں کلین چیٹ دینا شروع کردیا۔ اس کلین چیٹ کے بارے میں یہ بات واضح طور پر سامنے آئی تھی کہ اس کے پسِ پشت مرکزی وریاستی حکومتیں دونوں سرگرم تھیں۔ اس کی ایک واضح مثال مالیگاو¿ں بم دھماکوں کے مقدمات میں سرکاری وکیل روہنی سالیان کے معاملے میں منظرِ عام پرآچکا ہے، جنہیں ہندوتواوادی دہشت گردوں کے تئیں نرم رویہ اختیار کرنے ، ان کے مقدمات کو کمزور کرنے اور دیگر صورت میں مقدمے کی پیروی سے خود کو علاحدہ کرنے کے لئے این آئی اے کی جانب سے مرکزی حکومت کی ایماءپر دباو¿ ڈالا گیاتھا۔
سوال۔جمعیة علماءمہاراشٹر بے قصور ملز مین کے مقدمات کن کی نگرانی ،سر پرستی ،اور تعاون سے عدالتوں میں لڑ تی ہے ؟
جواب۔ظاہر سی بات ہے ہمارے پاس اتنے وسائل تو ہیں نہیں کہ ہم اپنے بل بوتے پر ان تمام مقدمات جو پورے ہندوستان میں پھیلے ہوئے ہیں، ان کی پیروی کرسکیں۔ اس کے لئے ہمیںلامحالہ قوم وملت کے بہی خواہوں کی سمت ہی دیکھنا پڑتا ہے۔ ویسے جمعیة علماءمہا راشٹر ،جمعیة علماءہند کی نگرانی اورامیر الہند حضرت مولانا قاری سید محمد عثمان منصور پوری صاحب( صدر جمعیة علماءہند) ، قائد ملت حصرت مولانا سید محمود اسعد مدنی( جنرل سکریٹری جمعیة علماءہند) کی سر پرستی او رمخیرمسلمانوں کے مخلصانہ تعاون سے بے گناہ محروس مسلمانوں کے مقدمات لڑتی ہے ۔اس وقت جمعیة علماءسینکڑوں بے گناہ نو جوانوں کے 155 مقدمات کی پیروی کر رہی ہے جس میں لاکھوں روپئے خرچ ہو رہے ہیں ۔
سوال ۔ کےا جمعیة علماءدہشت گردی کے الزام میں ماخوذ تمام ملز مین کی پیروی کر تی ہے ؟
جواب۔جی نہیں۔ہم اپنے ذرائع وسائل سے مقدمات کی نوعیت اور ملز مین کے احوال و کوائف کا پتہ لگاتے ہیں ،جب ہمیں یقین ہو جا تا ہے کہ ملزم بے قصور ہے تو ہم اس کے مقدمے کی پیروی کر تے ہیں۔ایسے بہت سے مسلم نو جوان ہیںجنہیں دہشت گر دی، اورفرقہ وارانہ فسادات کے موقع پر فر ضی معاملات میں پھنسایا اور ملوث کےا گیا ہے، اور انہیںگرفتار کرکے جےل کی سلاخوں کے پیچھے ڈھکےل دیا گیا ہے ، پھران پر بعد میں سازش کے تحت دہشت گردانہ معاملات درج کر دیئے گئے ہیں ،جمعیة علماءایسے ملز مین کی پیروی کی ذمہ داری قبول کرتی ہے۔
سوال: مولانا صاحب چونکہ آپ کی شناخت بلکہ یوں کہیں کہ جمعیة علماءکی ہی شناخت فسادات،سیلاب و آتش زدگان متاثرین کی بازآبادکاری وامداد کی بھی رہی ہے، اس لئے سب سے پہلے ہم آپ سے یہ جاننا چاہتے ہیں کہ کیرلا سیلاب ،نرگس دت نگر باندرہ ، ناگ چھاپ جھو پڑ پٹی مالیگاﺅںکے آتش زدگان میں متاثرین کے لئے جمعیة علماءہند نے کےا کردار ادا کےا؟
جواب : کیرلا کے قیامت خیز سیلاب میں اجڑے ہوئے لاکھوں خاندانوں کی اشیاءخورد و نوش کے ذریعہ امداد کی گئی ،انہیں محفوظ مقامات پر پہونچایا گیا ،مریضوں کا علاج و معالجہ کیا گیا ،پلمبروں اور کاری گروں کے ذریعہ تباہ شدہ پانی کے نل ،بیڈ ،کر سیاںو دیگرضروری اشیاءکو درست کیا گیا اور پھر منہدمہ مکانات کی مرمت اور از سر نو تعمیری کامانجام دیا گیا اور تاحال جاری ہے جس میں کڑوں روپئے خرچ ہوئے ہیں ،ایسے ہی ضلع ایوت محل کے تعلقہ ڈگرس کے سےلاب زدگان کی امداد و باز آباد کاری گئی۔علاقہ ممبئی میں باندرہ ویسٹ کے نرگس دت نگر میں ڈیڑھ سو سے زائد مکانات آتشزدگی کی وجہ سے خاکستر ہو گئے تھے ۔اسی طرح مالیگاﺅں کے ناگ چھاپ جھو پڑ پٹی علاقہ میں بھیا نک آتش زدگی کا حادثہ پیش آیا تھا جس میں ایک سو سے زائد مکانوں کو شدید نقصان پہونچا تھا ،ان تمام آتش زدگان کی اشیاءضروریہ ،کپڑے ،پکوان کے برتن و دیگر ضروریات زندگی کے ذریعہ امداد کی گئی۔
سوال ۔قحط زدہ علاقوں میں پانی کی فراہمی کے سلسلے میں بھی جمعیة علماءکا نام سامنے آتا رہتا ہے، جمعیة کی جا نب سے کن کن علاقوں میں پانی کی فراہمی کا کام کےا گیا ہے یا کیا جا رہاہے۔
جواب ۔گذشتہ چند سالوں سے خاطر خواہ بارش نہ ہونے کی وجہ سے صوبہ مہا راشٹر میں۸۱ اضلاع ۰۵۲ تحصیل اور ۳۲ ہزار گاﺅںبھیا نک خشک سالی کا شکار ہیں پانی کی شدید قلت کی وجہ سے ہر طرف ہا ہا کار مچا ہوا ہے سات سات دن کے بعد ایک مرتبہ نلوں میں پانی آرہا ہے جس سے شہریوں اور مواضعات کے لوگوں کو کافی دقتوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ان علاقوں میں ہزاروں گاﺅ ںایسے ہیں جو شہری علاقوں سے کافی فاصلوں پر واقع ہیں ۔ان میں پانی نہ ہونے کی وجہ سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جمعیة علماءمہا راشٹر نے اپنی روایت کے مطا بق انسانی قدروں کی بنیاد پر خدمت خلق کو ملی فریضہ سمجھتے ہوئے خشک سالی کی مار جھےل رہے عوام کی تکلےف دور کرنے کے لئے علاقہ ودربھہ کے اضلاع میں مولانا مفتی محمد روشن قاسمی سکریٹری جمعیة علماءمہا راشٹرکے زیر نگرانی ، ایسے ہی شولا پور کے مختلف مقامات پر مولانا محمد ابراہیم قاسمی صدر جمعیة علماءضلع شولاپور کے زیر نگرانی نیز ضلع بیڑ کے کئی تعلقوں اور گاﺅں میں ڈ اکٹر محمد وسیم منصب دار کی نگرانی میں پانی کے سینکڑوںٹےنکرس چلائے جا رہے ہیں۔اور جمعیة علماءکے کار کنان بلا تفریق مذہب و ملت متاثرہ علاقوں میں مفت پانی تقسیم کر رہے ہیں اور ہرایک ضرورت مند تک پانی پہونچا نے کی کو شش کر رہے ہیں، جس سے عوام خصوصا روزے داروں کو کافی راحت محسوس کررہے ہیں۔
سوال ۔اس سال جمعیة علماءنے دینی ملی رفاہی کا موں کے لئے کےاکےا مہم چلائی؟ ۔
جواب۔ اس سال جمعیة علماءمہا راشٹر نے جمعیة علماءہند کی ہدایت پر صوبہ بھر میںمختلف تحریکں اور مہم چلائی مثلا یکم اکتوبر تا ۱۳ دسمبر ۸۱۰۲ءووٹر لسٹ اندراج بیداری مہم چلائی گئی جس میں تمام مسلمانوں سے ووٹر لسٹ میں اپنے نا موںکو شامل کر کے ووٹر آڈی کارڈ بنانے کی اپیل کی گئی ،۔ عوام کو سیرت نبویﷺ سے واقف کرانے اور معاشرتی و سماجی برائیوں کے سد باب کے لئے۹۱ نومبر تا ۰۲ دسمبر ۸۱۰۲ءصوبہ بھر کے مختلف مقامات پر سیرة النبی ﷺ ،اصلاح معاشرہ کے عنوان سے اجلاس منعقد کئے گئے جس میں مقامی و ریاستی علماءکرام کے علاوہ ملک کے معروف و مشہور علماءکرام کے بصیرت افروز خطاب ہوئے۔ اےسے ہی بچوںکی صحیح تعلےم و تر بیت دینے،والدین کو اس کی فکر دلانے،طلباءکو بنیادی دینی تعلےم سے واقف کرانے، مکاتب اسلامیہ کے نظام کو متحرک کرنے ،دینی تعلےم کے اس پےغام گھر گھر پہونچا نے کے لئے ریاست بھر دینی تعلےمی بیداری مہم چلائی گئی ،تعلیمی سر وے کےا گیا جگہ جگہ پر چھوٹے بڑے پرو گرام اور اجلاس منعقد کئے گئے اور اسی ضمن میں ۴۱ مارچ ۹۱۰۲ءکو دار العلوم سو نوری ضلع اکولہ میںدینی تعلےمی بیداری عنوان پر صو بائی اجلاس منعقد کےا گیا جس میں قائد ملت مولانا سید محمود اسعد مدنی ناظم عمومی جمعیة علماءہند حضرت مولانا مفتی ابوالقاسم نعمانی صاحب مہتمم دار العلوم دیو بند،حضرت مولانا مفتی سید محمد سلمان منصور پوری استاذ حدیث جامعہ قاسمیہ شاہی مراد آباد ودیگر علماءکرام نے شرکت فر مائی۔
سوال :آج مسلمان تعلےم میدان کافی پیچھے ہے انہیں آگے بڑھانا وقت کی اہم ضرورت ہے اس شعبہ میں جمعیة کی خدمات پر روشنی ڈالئے ؟
جواب : یہ حقیقت ہے کہ مسلمان تعلیمی میدان میں دوسری قوموں کے مقابلے میں کافی پےچھے ہیں ،جمعیة علماءدینی و عصری تعلےم کے فروغ کے لئے بھر پور جدو جہد کر رہی ہے ،گذشتہ سالوں کی طرح امسال بھی میڈیکل ،انجےرنگ ،فار میسی ،ایم بی اے ،بی ٹےک ،ایم ٹےک ،بی بی اے ،سی اے و دیگر اعلی تعلیم حاصل کرنے والے طلباءو طالبات کے در میان ایک خطیر رقم اسکالر شپ کے طور پر تقسیم کی گئی انشاءاللہ آئندہ بھی یہ سلسلہ جاری رہے گا اور منظم طریقہ پر پرو فیشنل تعلیم حاصل کرنے والے طلباءکو اسکالر شپ دی جائے گی ۔
سوال: ریزرویشن کے معاملے میں بھی جمعیة علماءکی سرگرمیاں وقتاً فوقتا سامنے آتی رہی ہیں، اس کی کچھ وضاحت فرمائےں گے؟
جواب: جمعیة علماءمہا راشٹر ریزر ویشن کی تحریک بھی زور و شور سے چلائے ہوئے ہے۔ جمعیة نے 1951 سے ہی ریزرویشن تحریک شروع کر رکھی ہے ۔جمعیة کا یہ ماننا ہے کہ غریب پچھڑے ہوئے مسلمانوں کو ریزرویشن دیا جائے ۔چاہے وہ اوبی سی میں آتے ہوں یا نہ آتے ہوںاس سے قبل مہا راشٹر کی سابقہ کانگریس ،این سی پی سرکار نے مسلمانوں کے لئے ۵ فیصد ریزرویشن کا اعلان کےا تھاجس میں اس نے پسماندگی کی بنیاد پر تمام مسلمانوں کو شامل کیا تھا ، مگر ریاست میں زعفرانی حکومت قائم ہوتے ہی اس نے اسے بھی ختم کر دیا ۔ہماری ریزرویشن تحریک ہنوز جاری ہے اور اس وقت تک جاری رہے گی جب تک کہ مسلمانوں کی مجموعی آبادی کے فیصد کے لحاظ سے انہےں تعلےمی اداروں اور سرکاری ملازمتوں اور دیگر سرکاری شعبوں میں ریزرویشن نہ دے دیا جائے ۔اسی ضمن میں کولھاپور ،اورمالونی ممبئی میں۲ بڑی کانفرنس بھی منعقد کی گئیں جس میںمرکزی و ریاستی علماءکرام کے نے مسلمانوں کے حقوق انصاف کے لئے آوازیںبلند کیں۔
سوال ۔ کیا آپ جمعیة علماءکے اراکین کی تربیت کے لئے بھی کوئی پرو گرام کرتے ہیں تاکہ وہ تنظیم کے خدو خال اور طریقہ کار کو سمجھ سکیں اور تنظیم کو منظم طریقے پر چلاسکیں ؟
جواب ۔ جی ہاں جمعیة علماءکے تمام کار کنان کی تربیت اور انہیں تنظیم کی پالیسیوں سے واقف کرنے کے لئے وقتا فوقتا تر بیتی کےمپ منعقد کئے جا تے ہیں جس میں بڑی تعداد میں جمعیة علماءکے ذمہ داران و اراکین شرکت کرتے ہیں اورتربیت حاصل کر تے ہیں اس سال شولاپور کے اچیورس ہال ایسے دارا لعلوم سو نوری ضلع اکولہ میں تربیتی اجلاس منعقدکئے گئے جس میںسینکڑوں اراکین نے شرکت کر کے تربیت حاصل کی ۔
سوال : کیا جمعیة علماءکسانوں مزدوروں و دیگر پسماندہ طبقات کے لئے بھی کوشش کر تی ہے ۔؟
جواب : اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ جمعیة علماءبلا لحاظ مذہب و ملت دبے کچلے لوگوں کے لئے آواز اٹھاتی رہتی ہے اور ان کے حقوق دلانے اور مدد کرنے کی کو شش کر تی ہے مثلا ابھی سال رواںمہا راشٹر کے ناسک اور مضا فات کے کسانوں کی جا نب سے اپنے دیرینہ مطالبات کولےکر پےدل مارچ کرتے ہوئے ممبئی کے آزاد میدان میں کئے گئے احتجاج کی جمعیة علماءمہا راشٹر نے پر زور حمایت کی اور صو بائی صدر مولانا حافظ محمد ندیم صدیقی کی قیادت میںکے ایک نمائندہ وفد قاری محمد ایوب قاسمی مولانا محمد ذاکر قاسمی ،مولانا محمد ابراہےم قاسمی ، مولانا راشد قاسمی ،قاری محمد سعدنے آزاد میدان پہونچ کر انسا نی ہمدردی اور خد مت خلق کی بنیاد پر کھا نے پےنے کی چیزیں احتجاج میں شا مل کسانوں کے در میان تقسیم کےں جن میں پانی ، بسکٹ ،فروٹی ،کھارے،اور کھانے پےنے کے دیگر اشیاءشامل تھیں۔ ایسے ہی ضلع شولا پور کھاوے گاﺅںکے رہنے والے پانچ افراد جنہیں ضلع دھولیہ کے رائن پاڑہ تعلقہ ساکری میں ماب لنچنگ کے ذریعہ پیٹ پیٹ کر مار ڈالا گیا تھا ،جمعیة علماءنے نہ صرف مہلو کین کے گھر پہونچ کر پرسہ دیا بلکہ ان کے بچوں کی تعلیم اور بچیوں کے شادی کے اخرات کی ذمہ داری بھی قبول کی اور سال رواں ان میں سے ایک بچی کی شادی بھی کرائی گئی اورشادی کے تمام اخراجات کی ذمہ داری نبھائی گئی ،جمعیة کے اس اقدام کی لوگوں نے بڑی ستائش کی۔
سوال ۔جمعیة علماءمذکورہ امور کے علاوہ مزید کن معاملات کو فو قیت دے رہی ہے ؟
جواب ۔ جمعیة علماءاپنے قومی قائدین کی نگرانی میںبے قصور مسلمانوں کے مقدمات کی پیر وی کے علاوہ ملک و ملت کے مسائل حل کرنے کے لئے سر گرداں ہے آفت نا گہانی سے لےکر تعلےمی میدان میں نو جوانوں کی رہنمائی اور اعانت، فرقہ وارانہ فساد میں امداد و راحت رسانی سے لےکر بے جا گرفتاریوں میں مظلومین کی قانونی امداد اور بازآباد کاری تک جمعیة ہر میدان میں سر گرم عمل ہے۔سال رواں عید الاضحی کے موقع پر شر پسندوں کی جا نب سے جانوروں کی گا ڑیاں روک کر ا ن کے ساتھ زیادتی کرنے ،فرقہ وارانہ ما حول کو پر امن بنانے ،نالا سوپورہ وسئی و دیگر مقامات میں اےٹی ایس کے ذریعہ تفتیش کے نام پر علماءکرام کو ہراساں کرنے ،وقف بورڈ مینا ریٹی کمیشن ،مولانا آزاد مالیاتی کارپوریشن جےسے اہم مسائل کو لے کرایک ۴۵ رکنی وفد نے وزیر اعلی مہاراشٹرسے ملاقات کےا اور میمورنڈم دیکر اس جانب خصوصی توجہ دینے کامطالبہ کےا ۔ریاست مہا راشٹر کے مختلف اضلاع رائے گڑھ ،رتنا گیری و دیگر مقامات پر واقع مدارس اور مساجد میںپولیس کی خفیہ انکوائری کے خلاف اعلی آفیسران سے نمائندگی کرکے غیر قانونی انکوائری کو روکنے اور متعلقہ پولیس اہلکاروں کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کیا ،جس سے اہل مدارس اور مدارس کے ذمہ داروں کو کافی راحت ملی.