نئی دہلی:20ستمبر(ای میل)آل انڈیا امامس کونسل کے قومی صدر مولانا محمد احمد بیگ ندوی نے ”بی جے پی حکومت کی ناکامی جس طرح عوام کے سامنے آر ہی ہے، بی جے پی حکومت میں بوکھلاہٹ عام ہوتی جا رہی ہے۔ تین طلاق بل پر آرڈیننس ایک مضحکہ خیز قدم ہے ۔ اگر آرڈیننس لانا ہے تو این آر سی پر لانا تھا؛ کیوں کہ وہ ۰۴ لاکھ ہندستانیوں کی مستقبل کا مسئلہ ہے۔ تین طلاق پر آرڈیننس ملک کا مسئلہ نہیں ہے،یہ عوام کو گمراہ کرنے والا قدم ہے۔ اس وقت ملک کا مسئلہ غریبی، مہنگائی، نوٹ بندی پریشان ہندستانی معیشت، رافیل ڈیل کا گھوٹالہ، جی ایس ٹی ، پٹرول اور ڈیزل ، بجلی بل، گیس ، ٹرین کرایہ میں بے تحاشہ اضافہ ہے۔ اس پر حکومت اپنی بہادری دکھا کر آرڈیننس جاری کرے۔ کسی بھی کمیونٹی کے پرسنل لا میں اس طرح کی دھاندلی اور زبردستی دراندازی کسی بھی ہندستانی کو منظور نہیں اور کوئی بھی ایمان والا اپنی شریعت کے خلاف زندگی گزارنے کو تیار نہیں اور نہ ہی یہ دستوری ضابطہ کے مطابق ہے“۔
download
قومی صدر مولانا احمد بیگ نے کہا کہ :”مسلمان کسی بھی صورت میں پرسنل لا میں غیر آئینی مداخلت برداشت نہیں کرے گا۔ اگر حکومت یہ سمجھتی ہے کہ ہم زبردستی جو چاہیں قانون بنا ڈالیں تو مودی حکومت کی بھول ہے ۔ یہ محض مٹھی بھر لوگوں کو خوش کرنے اور عوام کو اصل ایجنڈے سے توجہ ہٹانے کا ہتھکنڈہ اور ملکی آئین کے ساتھ سراسر دھوکہ ہے ۔ مسلمان ہر حال میں اپنی شریعت کے مطابق جیئے گا اور اپنی شریعت پر ہی مرے گا “۔کونسل کے قومی ترجمان اور قومی ناظم عمومی مفتی حنیف احرار سوپولوی نے کہا کہ : ”مودی حکومت پوری طرح کے اپنے ”وکاس“ کے دعوے میں ناکام ہو چکی ہے؛ اس لیے وہ عوام پر ظلم و جبر کا راستہ اختیار کر رہی ہے؛ تاکہ عوام سرکاری ناکامیوں کے خلاف آواز بلند نہ کرسکیں“۔ آل انڈیا امامس کونسل مرکزی حکومت کے اس غیر آئینی قدم کی پرزور مذمت کرتی ہے اور مطالبہ کرتی ہے کہ اگر مودی حکومت انسانیت پر یقین رکھتی ہے تو ہندو مسلم پر سیاست کرنا بند کرے اور ملکی آئین اور قانون کو کمزور کردینے والا فیصلہ فوراًواپس لے ۔اور تمام ہندستانی عوام سے اپیل کرتی ہے کہ وہ بلا امتیازِ مذہب و مشرب اس غیر آئینی اورعوام کو گمراہ کر دینے والے فیصلے کے خلاف ساتھ آواز اُٹھائیں۔