بیٹی بچاؤ سے بیٹی بھگاؤ تک

0 4
Adv Bahauddin
ترجمہ و تلخیص: ایڈوکیٹ محمد بہاالدین، ناندیڑ ( مہاراشٹر)
خواتین کے تحفظ اور ان کی عظمت کی بقا کے لئے تربیت دینی چاہئے۔ وہ صحیح طور پر تو مردوں کے لئے ہیں۔ ایسا حقیقت پسندانہ خیال یوم آزادی کے موقع پر لال قلعہ سے وزیر اعظم نریندر مودی نے دیا تھا کہ بیٹی بچائو، بیٹی پڑھائو۔ اس قسم کی مہم انہوں نے شروع کی ہے لیکن اب اس مہم کی کیا تصویر ہے؟ ملک تو جانے دیجئے، وزیر اعظم پہلے اپنی جماعت کچھ زنگ آلودہ ناپاک ذہنیت والے لوگوں کو ہدایت دینے کی ضرورت ہے۔ یہ اب صاف ہوگیا ہے۔ سیاسی میدان کے مرد اب وہ کس قسم کے خیالات کا اظہار کررہے ہیں جس پر ہمیں بی جے پی کے ایم ایل اے رام کدم کا تازہ بیان سےروشنی ملتی ہے۔ جس میں انہوں نے کہا ہے کہ ” اگر لڑکی انکار کردے تو مجھے بتائو میں اُسے تمہارے لئے بھگا لائوں گا۔” ایسی یقین دہانی مہاشے کدم نے نوجوانوں کو دی ہے۔ کدم کی یہ بے تال کی بڑ بڑ کس بات کی علامت اور پیش خیمہ ہے کہ ذہنیت کتنی سطحیت پر آچکی ہے۔ وہ بھی مردوں کی ذہنیت سے متعلق۔

اکیسویں صدی ہو تب بھی اس ذہنیت میں کوئی فرق نہیں پڑا۔ اس میں دوسری افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ اعلان دہی ہنڈی کے کھیل کے دوران نوجوان لڑکے، لڑکیوں کے درمیان کی گئی ہے۔ ہزاروں کے سامنے بی جے پی ایم ایل اے کدم نے آسمان سےتارے توٹ لائے ہیں۔ آپ عوامی زندگی میں رہتے ہیں،عوامی نمائندے ہو اس کا بھی انہیں دھیان نہیںرہا۔ ایسا لگتا ہے کہ سب لوگ بھول جانے والے ہیں۔ بجائے اس کے کہ کسی لڑکی کی پسند، ناپسند کا اظہار اگر مسٹر کدم کو کرنا ہی تھا تو کیا اس طرح ملک کے کئی لڑکوں کی اس قسم کی تیاری نہیں ہے۔ اس گفتگو سے ایسا نظر آتا ہے۔ متنازعہ بیان کی ہر سطح پر مخالفت کی جارہی ہے۔ لیکن کیا اس کی وجہ سے ہم اس پر اطمینان کرلینا چاہئے۔

ایک طرف تو کدم نے آسمان سے تارے توڑ لائے ہیں۔ ادھر مودی کے حلقہ انتخاب میں مشہور یونیورسٹی آئی آئی ٹی میں آدرش بہو اس موضوع پر نصاب تیار کرنے کی خبر بھی ملی ہے۔ جس پر غصہ کی لہر پیدا ہوئی۔ صحیح اگر دیکھا جائے اس قسم کا نصاب اگر تیار کرنا ہوتا تو وہ آدرش ساس، آدرش شوہر یا آدرش نند تیار کرنا چاہئے تھا کہ اپنے یہاں جب کوئی لڑکی سسرال میں آتی ہے کہ وہ لڑکی کے ساتھ کیسا برتائو ہو، کون کون سی ذمہ داریاں اپنی ہیں او راس کی ہیں، مختلف ذمہ داریاں کیسے سنبھالی جائے اس موضوع پر بچپن سے اس کے ذہن میں یہ بات بٹھائی جاتی ہے کہ کس طرح وہ اپنی مریادا میں اپنے آپ کو باندھ رکھے۔ بہو کے آدرش سے متعلق نیا نصاب اور کیا ہوسکتا ہے یہ ایک سوال ہے۔ لیکن اس خبر کے منظر عام پر آنے کے بعد آئی آئی ٹی کے رجسٹرار نے اس قسم کا کوئی نصاب ان کے یہاں نہیں ہے یہ کہہ کر اس نے وضاحت کی۔ لیکن اسی وقت وزیر اعظم کے اسٹارٹ اپ مہم میں کام کرنے والے خواہشمند ینگ انڈیا اسکل نام کی تنظیم نے "”میری بیٹی میرا ابھیمان””اس قسم کا نعرہ دے کر اس کے معنی یہ بتائے کہ آدرش بہو کے نام کی خاطر یہ اسٹارٹ اپ کے تحت اس قسم کا نظریہ اس کے دماغ کی دین ہے۔ پہلے اس کو اپنے دماغ کا میل، کچیل، گندگی کو دور کرنا چاہئے۔ ملک میں مردوں کی سوچ اس معاملہ میں صاف اور واضح ہے۔

اتر پردیش میں بی جے پی کے دو ممبران پارلیمنٹ کا یہ مطالبہ کے جس طرح مہیلا آیوگ قائم ہے اسی طرح پروش آیوگ کے قیام کے لئے انہوں نے مانگ کی ہے۔ عورتوں کے ذریعے ہونے والی تکالیف پر ان مردوں نے شکایت بھی کی ہے ۔ اس قسم کے احساسا ت کا اظہار اکثر و بیشتر لوگ کرتے بھی رہتے ہیں۔ یہ انہی قسم میں سے لوگوں کا ایک معیار ہے۔ مختلف خاندانی مسائل رشتہ داروں کے تنائو کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔ مرد اگر روایتی طور پر ہونے والے حقوق اور اپنی عورتوں پر چلائی جانے والی فوقیت ناانصافی اور رشتہ داروں کے تنائو سے پیدا ہونے والی تکالیف میں بنیادی فرق ہے۔ لیکن سماج کے کمزور طبقات کے تحفظات کی خاطر انہیں دستوری طور پر تحفظ ملنا ہی چاہئے۔ بلکہ خصوصی قواعد، قوانین کے آغاز کے لئے مطالبات بڑھتےجارہےہیں۔ کسی بھی قانون کا ناجائز استعمال کرنے والوں پر کارروائی ہونی چاہئے۔ لیکن اس قسم کے قوانین ہی نہ بنائے جائیں یہ مناسب نہیں ہے۔اپنے دستور میں تمام کو یعنی عورتوں اور مردوں کو برابری کا درجہ دینے کے باوجود ملک میں مختلف لوگ اس پر سیاست کرکے اس معاملہ کو لٹکائے ہوئے ہیں یہ ہمیشہ ایسا نظر آتا ہے۔

عوامی زندگی میں رہنے کے باوجود کدم نے اپنے قول کا اظہار کیا۔ اس ضمن میں بی جے پی کو اپنا نظریہ واضح کرنا چاہئے۔ اورکدم پر کوئی مناسب کارروائی بھی ہونی چاہئے۔ ایسا اگر ہو توہی بے تکی بیانات پر لگام لگائی جاسکے گی۔