قانونی امداد فراہم کرنے کے لیئے جمعیة علماءکا شکریہ ادا کیا
ممبئی:6 مئی.(ورقِ تازہ نیوز)جیل میں اچھے برتاﺅ اور دیگر قیدیوں کی مدد کرنے کی وجہ سے اورنگ آباد اسلحہ ضبطی معاملے میں نچلی عدالت سے 14 سالوں کی سزا پانے والے اورنگ آباد کے ساکن محمد مظفر تنویر کو گذشتہ کل تلوجہ جیل حکام نے سزا مکمل ہونے سے قبل ہی اسے جیل سے رہا کردیا ۔ جیل سے رہائی کے بعد مظفر تنویر نے دفتر جمعیة علماءمہاراشٹر (ارشد مدنی) میں سیکریٹری قانونی امداد کمیٹی گلزار اعظمی وکلاءانصار تنبولی، شاہد ندیم و دیگر سے ملاقات کی اور بتایا کہ حالانکہ اسے نچلی عدالت سے ۴۱ سالوں کی قید ہوئی تھی لیکن اس کے جیل میں مثبت رویہ اور جیل میں قید قیدیوں کی مدد کرنے ، انہیں تعلیم کی جانب راغب کرنے اور اچھا انسان بننے کی ترغیب دینے کے عوض جیل حکام نے اس کی سزاءمیںا یک سال سے زائد کی تخفیف کردی۔ مظفر تنویر نے دوران گفتگو مزید کہا کہ نچلی عدالت نے انہیں محض شک کی بنیاد پر سزا دی ہے اور انہیں امید ہیکہ ہائی کورٹ سے انہیں انصاف ضرور حاصل ہوگا
۔ممبئی کی خصوصی مکوکا عدالت نے مظفر تنویر کو اورنگ آباد اسلحہ ضبطی معاملے میں قصور وار ٹہراتے ہوئے ۴۱ سالوں کی قید بامشقت کی سزا سنائی تھی حالانکہ اس پر سے مکوکا قانون کا ہٹا دیا تھا لیکن اسلحہ چھپانے میں دیگر ملزمین کی مدد کرنے کا ان پر الزام عائےد کیا گیا تھا ۔ واضح رہے کہ خصوصی مکوکا عدالت نے 20 ملزمین میں سے ۲۱ مسلم نوجوانوں کو غیر قانونی سرگرمیوں اور آرمس ایکٹ کے تحت مجرم قراردیا تھا وہیں اس معاملے کا سامنا کررہے 8 دیگر ملزمین کو با عزت بری کیئے جانے کے احکامات جاری کیئے تھے ۔ عدالت نے جن 12 مجرمین کو قصور وار ٹھہرایا تھا اس میں ابو جندال سمیت محمد عامر شکیل احمد، محمد مظفر تنویر،جاوید احمد عبدالمجید انصاری، افضل خان نبی خان، ڈاکٹر محمد شریف شبیر احمد، بلال احمد عبدالرزاق، سید عاکف سید ظفر الدین، افروزخان شاہد خان پٹھان، فیروز تاج الدین شیخ، شیخ عبدالنعیم ، فیصل عطاالرحمن شیخ شامل تھے جبکہ خصوصی جج ایس این انیکر نے جن ملزمین کو نا کافی ثبوت کی بناءپربا عزت بری کئے جانے کا حکم جاری کیا تھا اس میں فیروز دیشمکھ کے علاوہ سید زبیر سید احمد قادری، عبدالعظیم عبدالجمیل شیخ، ریاض احمد محمد رمضان ،خطیب عمران عقیل احمد، شیخ وقار محمد نثار، محمد صمد شمشیر خان پٹھان اور محمد عقیل محمد اسماعیل مومن، شامل تھے۔ مظفر تنویر سے دوران ملاقات گلزار اعظمی نے کہا کہ گذشتہ کل ہی ڈاکٹر محمد شریف کو بھی جیل حکام نے وقت سے پہلے جیل سے رہا کردیا تھا کیونکہ جیل میں اس کا رویہ مثبت تھا اور اس نے بھی دیگر قیدیوں کی بہت مدد کی تھی ۔ گلزار اعظمی نے کہا کہ حالانکہ ملزمین مظفر تنویر اور ڈاکٹر شریف سزائیں مکمل کرنے کے بعد جیل سے رہا ہوچکے ہیں لیکن ہم نے ان کی سزاﺅں کے خلاف ہائیکورٹ میں اپیل داخل کی ہے جو سماعت کے لیئے منظور ہوچکی ہے اور جس پر گرمیوں کی تعطیلات کے بعد سماعت ممکن ہے جس کے لیئے ہمارے وکلاءتیار ہیں۔گلزار اعظمی نے کہا کہ عمر قید کی سزا پانے والے ملزمین کی اپیلیں بھی ہائی کورٹ میں داخل کی جاچکی ہیں جو سماعت کے لیئے منظور ہوچکی ہیں نیز اب ہماری کوشش ہوگی کہ عمر قید کی سزا پانے والے ملزمین کی بھی ضمانت پرر ہائی کے لیئے کوشش کی جائے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ عمر قید کی سزا پانے والے ملزمین کی ضمانت عرضداشتیں ہائی کورٹ میں داخل کی جاچکی ہیںلیکن حکومت کی جانب سے ملزمین کے خلاف داخل اپیل پر سماعت نہ ہونے سے اس میں دیری ہورہی ہے لیکن اس تعلق سے وکلاءگرمیوں کی تعطیلات کے بعد لائحہ عمل تیار کریں گے۔