کولمبو، 5 مئی (یو این آئی) سری لنکا میں ایسٹر کے موقع پر دہشت گردانہ بم دھماکوں کے بعد سے اب تک 200 مسلم علماء سمیت 600 غیر ملکی باشندوں کو ملک سے باہر نکالا دیا گيا ہے۔
سری لنکا کے وزیر داخلہ واجیرا ابھیواردینا نے آج بتایا کہ حکومت نے سلسلہ وار بم دھماکوں کے لئے مقامی جہادی تنظیم پر الزام لگنے کے بعد سے اب تک 200 مسلم داعی علماء سمیت 600 بیرونی باشندوں کو ملک سے اخراج کیا ہے۔
ڈیلی مرر میں شائع رپورٹ کے مطابق مسٹر ابھیوارڈینا نے بتایا کہ ملک بدر کیے گئے تمام مسلم علماء قانونی طور سے ملک میں داخل ہوئے تھے ، لیکن بم دھماکوں کےبعد فوج کی کارروائی کے دوران پتہ چلا کہ وہ اپنے ویزے کی مدت ختم ہونے کے بعد بھی قیام پذیر تھے، جس کے لئے ان پر جرمانے لگائے گئے اور انہيں ملک بدر کردیا گیا۔
وزیر موصوف نے کہا کہ "ملک کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر ہم نے ویزا سسٹم پر نظر ثانی کی ہے اور مذہبی علماء اور مبلغوں کے لئے ویزا کے قوانین سخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جن لوگوں کو ملک سے اخراج کیا گیا ہے، ان میں تقریبا 200 مسلم علماء تھے”۔
تاہم، انہوں نے ملک بدر کیے گئے افراد کی قومیت کے بارے میں نہيں بتایا۔ لیکن پولس نے بتایا کہ بم دھماکوں کے بعد ملک سے نکالے گئے افراد میں زیادہ تر باشندے ہندوستان، بنگلہ دیش، مالدیپ اور پاکستان کے تھے۔
انہوں نے کہا کہ ” ملک میں متعدد ایسے مذہبی ادارے ہیں، جو دہائیوں سے غیر ملکی مبلغوں کو مدعو کرتے رہے ہيں، ہمیں ان سے کوئی پریشانی نہيں ہوئی، لیکن اب خودکش بم دھماکوں کے بعد ہم ان پر زیادہ توجہ مرکوز کریں گے”۔
مقامی باشندوں میں تعصب پھیلانے کے خطرے پیش نظر بیرونی علماء کے لئے ویزا پالیسی میں تبدیلیاں کی گئي ہيں، تاکہ گزشتہ 21 اپریل کے خودکش حملے دوبارہ نہ ہوپائے۔
واضح رہے کہ سر ی لنکا میں 21 اپریل کو ایسٹر تہوار کے موقع پر تین چرچ اور تین لگژری ہوٹلوں پر خودکش حملے کے بعد سے ایمرجنسی نافذ ہے اور ملک کی فوج اور پولس کو وسیع اختیارات دیئے گئے ہيں، جن کے تحت مشتہ افراد کو طویل عرصے تک گرفتار کرکے تحویل میں رکھا جاسکتا ہے۔
فوج اور پولس کی کارروائی میں گھر گھر تلاشی لی جارہی ہے اور ملک بھر میں سرچ آّپریشن چل رہا ہے، مسلم انتہا پسندوں کے دھماکہ خیز مواد اور پروپیگنڈہ مواد کی تلاش کی جارہی ہے۔