آج تمام ایگزٹ پولس کی پول کھُلنے والی ہے؟

خالد سیف الدین

لوک سبھا کی کل ۳۴۵ میں سے ۲۴۵ نشستوں کےلئے کُل ۷ مراحل میں ہونے والی پولنگ کے اختتام پزیر ہوتے ہی 19 مئی2019 ءکی شام کو ہی منظر عام پر آئے غیر واضح ایگزٹ پولس (مخروجی رائے عامّہ کی معلومات) کے مطابق نریندرمودی کی قیادت والی این ڈی اے (NDA) کو واضح اکثریت کے ساتھ دوبارہ اقتدار میں واپسی کی پیش قیاسی کی جارہی تھی ، یہ حقیقت ہے کہ بیشتر موقعوں پر ایگزٹ پولس کے نتائج حقیقی نتائج سے معمولی فرق کے ساتھ قریب تر ہوتے ہیں تاہم موجودہ ایگزٹ پولس کے متعلق سیاسی ماہرین کا ادعاءہیکہ یہ سٹّہ بازار کو فائدہ پہنچانے والے ایگزٹ پول ہوسکتے ہیں کیونکہ ان کے منظر عام پر آنے سے پہلے ، دورانِ رائے دہی تمام نظریاتی رائے عامّہ (Openion Polls ) کے بموجب نریندرمودی کی قیادت والے این ڈی اے کو اقتدار حاصل ہونے کے امکانات نہیں تھے اس لئے ان ایگزٹ پولس کو دُرست سمجھنا دشوار ہے جبکہ نائب صدر ہند ایم ونکیّا نائیڈو بھی صاف طور پر یہ کہہ چکے ہیں کہ عوام ایگزٹ پولس کے بجائے اصل نتائج پر یقین کرے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ اس مرتبہ بیشتر رائے دہندگان نے بڑی رازداری کے ساتھ خفیہ انداز میں اپنے ووٹ کا استعمال کیا ہے اسی لئے اس مرتبہ ایگزٹ پول سروے رائے دہندگان کے موڈ کو بھانپنے میں ناکام رہا ہو۔ ۴۰۰۲ءعام انتخابات کے وقت ایگزٹ پولس نے ایک طرح سے اٹل بہاری واچپائی کو ملک کا وزیراعظم بنادیا تھا لیکن جب نتائج آئے تو ایگزٹ پول کے خلاف آئے اور این ڈی اے (NDA) کو ۹۸۱ سیٹیںجبکہ یوپی اے(UPA) ۲۲۲ سیٹیں ملیںاور منموہن سنگھ وزیر اعظم بن گئے تھے اس طرح ۹۰۰۲ء عام انتخابات میں بھی کانگریس نے تنہا ءاپنے دم پر۶۰۲ سیٹیں جیتی تھی اور یوپی اے کو ۲۶۲سیٹیں حاصل ہوئی تھیں، تب بھی ایگزٹ پول پوری طرح فیل ہوگیا تھا۔ اس مرتبہ کے ایگزٹ پولس بھی منگھڑت (Fabricated) معلوم پڑتے ہیں جسکے چلتے مکمل نتیجوں کے اعلانات تک ایگزٹ پول کی قیاس آرائیاں موضوعِ بحث بن رہی ہیں جس کی وجہ سے انسانوں میں موجود ابابیلوں کی شب گذاریاںبڑے آرام سے ہورہی ہیںاور ان بکواس ایگزٹ پولس کے بعد سیاسی گلیاروں میں سرگرمیاں تیز ہوچکی ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ اس ایگزٹ پول کے پسِ پردہ مودی۔شاہ کی یہ حکمتِ عملی ہو کہ آر ایس ایس کی ہمت پست کردی جائے تا کہ وہ نتن گڈکری کو بطور متبادل وزیر اعظم پیش نہ کرسکے ، علاوہ اسکے این ڈی اے اتحاد میں شامل تمام پارٹیوں کو ازسرنومتحد کیا جائے نیز دیگر علاقائی پارٹیوں پر رعب ڈالتے ہوئے ان پر دباو¿ ڈالا جائے کہ وہ این ڈی اے اتحاد میں شامل ہوجائےںاور یہ ایگزٹ پول متحدہ اپوزیشن کا حوصلہ توڑنے کی سازش بھی ہوسکتی ہےں۔

جبکہ تصویر کا دوسرا رُخ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ۴۱۰۲ءکے عام انتخابات میں این ڈی اے کی کامیابی جس طرح ای وی مشینوں کی مرہون ِمنّت رہی تھی اسی طرز پر اس مرتبہ بھی ای وی مشینوں نے مودی ۔شاہ سے یہ وعدہ کرلیا ہو کہ دوست فکر نہ کرنا اس مرتبہ بھی ہم اور ہمارے والد الیکشن کمیشنر آف انڈیا آپ کے ساتھ ہےں اور ہم عوامی رائے عامّہ کو بالائے طاق رکھتے ہوئے آپ کو اقتدار تک ضرور بہ ضرور پہنچائینگے۔ انہی وجوہات کی بناءپر مغربی بنگال کی وزیر اعلی ممتا بینرجی نے ایگزٹ پولس کو ایک منصوبہ بند سازش کہا ہے جو ای وی مشینوں کے عیب کو چھپانے اور لوگوں کے ذہنوں کو بھٹکانے کے لئے منظر ِعام پر لایا گیا ہے ۔ تیلگودیشم پارٹی کے سربراہ نیز وزیر اعلی آندھرا پردیش چندربابو نائیڈو نے جو کمپیوٹر کے استعمال کے عادی و ماہر کی حیثیت سے بھی جانے جاتے ہیں ، دعویٰ کر چکے ہیکہ الیکٹرونک ووٹنگ مشینوں میں چھیڑ چھاڑ محض ٹیلی فون ٹیاپنگ کی طرح انتہائی آسان ہے چونکہ ان مشینوں میں فریکوینسی(Frequency) کے استعمال سے ڈیٹا تبدیل کرنے کے امکانات بہت زیادہ ہیں۔ کانگریس کی جنرل سیکریٹری پرینکا گاندھی نے پارٹی کرکنان سے گزارش کی ہے کہ وہ اسٹرانگ روم (Strong Room) جہاں ای وی مشینیں رکھی ہوئی ہیں اس جگہ پر کڑی نظر رکھتے ہوئے اپنے طور پر حفاظت کریں۔ ان تمام خدشات کا ازالہ صرف اس صورت میں ہوسکتا ہے کہ ووٹوں کی گنتی شروع ہوتے ہی وی وی پی اے ٹی (VVPAT) کی پرچیوں کو ای وی ایم ووٹوں سے ملایاجائے اور اگر اس میں کوئی غلطی یا تصاد پایا گیا تو اس حلقہ کے تمام ووٹوں کی گنتی VVPAT کی پرچیوں کی بنیاد پر کی جائے۔ اگر الیکشن کمشنر اس طرح کی اجازت دے دیتا ہے اور آج ۳۲ مئی ۹۱۰۲ءکوووٹوں کی گنتی غیر جانبدارانہ طور پر ہوتیہے تو تب ملک کے الیکٹرانک میڈیا کو ۴۰۰۲ء اور ۹۰۰۲ء کی طرح اپنے ایگزٹ پولس کے عوض صرف اور صرف شرمندگی اُٹھانی پڑے گی۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading