عمر محض ایک عدد ہے، یہ بات اکثر کہی جاتی ہے۔ عموماً بڑھاپے میں لوگ عبادت و ریاضت اور پوتے پوتیوں کی دیکھ بھال میں مصروف ہو جاتے ہیں، لیکن ناندیڑ میں ایک 82 سالہ بزرگ نے شادی کرکے سب کو حیران کر دیا ہے۔ تین بیٹے، تین بہوئیں، تین بیٹیاں، تین داماد اور کل 22 پوتے پوتیوں پر مشتمل بھرے پورے خاندان کے باوجود اس ریٹائرڈ استاد نے 82 برس کی عمر میں نکاح کر لیا۔ ان کی شریکِ حیات کی عمر 50 سال ہے، اور اب یہ جوڑا عمرہ کے لیے سعودی عرب روانہ ہو چکا ہے۔
ناندیڑ ضلع کے شہر دھرم آباد کے رہائشی 82 سالہ چودھری شیخ حسین شیخ احمد اس شادی کے دولہا ہیں۔ اصل میں ماہور کے باشندہ حسین شیخ ملازمت کے سلسلے میں دھرم آباد میں مقیم ہوئے اور یہاں ایک اردو پرائمری اسکول میں 35 برس تک تدریسی خدمات انجام دیں۔ وہ تقریباً 22 سال قبل ریٹائر ہوئے تھے۔

ان کی پہلی شادی قادر بی سے ہوئی تھی۔ ازدواجی زندگی کے دوران ان کے ہاں چھ اولادیں اور درجنوں نواسے نواسیاں ہوئے۔ تاہم ڈیڑھ سال قبل ان کی اہلیہ کا انتقال ہو گیا، جس کے بعد وہ تنہائی کا شکار ہو گئے۔ گھر میں اولاد اور پوتے پوتیاں ہونے کے باوجود شریکِ حیات کی جدائی سے پیدا ہونے والا خلا انہیں بے چین رکھتا تھا۔
اسی تنہائی کو دور کرنے کے لیے انہوں نے دوبارہ شادی کا جرات مندانہ فیصلہ کیا۔ خاص بات یہ ہے کہ انہوں نے خود اپنے لیے شریکِ حیات کی تلاش شروع کی۔ تلنگانہ کے شہربھینسہ کی 50 سالہ آمنہ بیگم سے ان کی شناسائی ہوئی اور دونوں خاندانوں کی رضامندی سے 30 جنوری 2026 کو مسلم رسم و رواج کے مطابق نکاح انجام پایا۔
اس شادی پر سماج میں ملا جلا ردِعمل دیکھنے کو ملا۔ کچھ لوگوں نے حیرت کا اظہار کیا تو بعض نے تنقید بھی کی، تاہم گاؤں کے بزرگوں اور سمجھدار افراد نے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا۔ کئی افراد کا کہنا ہے کہ “عمر صرف ایک عدد ہے، بڑھاپے میں انسان کو جسمانی سہارے سے زیادہ ذہنی اور قلبی رفاقت کی ضرورت ہوتی ہے۔”
حسین شیخ 16 فروری کو اپنی اہلیہ کے ساتھ عمرہ کی ادائیگی کے لیے سعودی عربیہ روانہ ہو گئے۔ روانگی کے وقت ان کی گلپوشی اور استقبال کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئیں، جس کے بعد ان کی شادی کا موضوع عوامی بحث کا حصہ بن گیا۔