مریخ کے ماحول پر تحقیق کرنے والا ناسا کا پہلا مشن ’میون‘ ختم، خلائی جہاز سے رابطہ منقطع

لاس اینجلس: امریکی خلائی ادارے ناسا نے مریخ کے ماحول اور اس میں وقت کے ساتھ آنے والی تبدیلیوں کا مطالعہ کرنے والے اپنے تاریخی مشن ’مارس ایٹموسفیئر اینڈ وولیٹائل ایوولوشن‘ یعنی ’میون‘ کے باضابطہ خاتمے کا اعلان کر دیا ہے۔ ادارے کے مطابق دسمبر 2025 میں خلائی جہاز سے رابطہ منقطع ہونے کے بعد اس کی بحالی کی تمام کوششیں ناکام رہیں، جس کے نتیجے میں مشن کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

ناسا کے مطابق میون خلائی جہاز کو 18 نومبر 2013 کو روانہ کیا گیا تھا اور یہ 21 ستمبر 2014 کو مریخ کے مدار میں داخل ہوا۔ اس مشن کا بنیادی مقصد مریخ کے ماحول، اس کی ساخت، گیسوں کے اخراج اور سیارے پر ماضی میں پانی کی موجودگی سے متعلق اہم معلومات جمع کرنا تھا۔

ابتدائی منصوبے کے تحت اس کی مدت صرف ایک سال مقرر کی گئی تھی، تاہم خلائی جہاز نے توقعات سے کہیں زیادہ کارکردگی دکھائی اور 100 برس سے زائد عرصے تک سائنسی مشاہدات جاری رکھے۔ رپورٹ کے مطابق خلائی جہاز سے آخری مرتبہ 6 دسمبر 2025 کو رابطہ ہوا تھا۔ اس وقت یہ مریخ کے عقب سے گزر رہا تھا۔ اس مرحلے کے بعد اچانک اس کا سگنل غائب ہو گیا اور زمین پر موجود کنٹرول مراکز اس سے دوبارہ رابطہ قائم نہ کر سکے۔

صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے ناسا نے فروری میں ایک تحقیقاتی بورڈ تشکیل دیا تھا۔ بورڈ کو یہ ذمہ داری دی گئی تھی کہ وہ رابطہ منقطع ہونے کی وجوہات کا تعین کرے اور یہ جانچ کرے کہ آیا خلائی جہاز کو دوبارہ فعال بنایا جا سکتا ہے یا نہیں۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading