نیتن یاہو کے لیے ایک ڈراؤنا منظرنامہ‘: امریکہ، ایران معاہدہ ہو گیا تو اسرائیل کے پاس کیا آپشنز ہوں گے؟

ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی میں توسیع اور ایک ’مفاہمتی یادداشت‘ تک پہنچنے کے لیے کوششیں جاری ہیں، جبکہ اسرائیل میں اس کے امکانات اور ممکنہ نتائج پر بحث ہو رہی ہے۔

اصل سوال صرف یہ نہیں ہے کہ آیا کوئی معاہدہ طے پاتا ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ اگر واشنگٹن اور تہران کسی معاہدے تک پہنچ جاتے ہیں تو اسرائیل کیا کرے گا؟

ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیلی میڈیا، ریسرچ سینٹرز اور سکیورٹی حلقوں میں بحث اب مکمل طور پر معاہدے کو روکنے کی کوشش سے آگے بڑھ چکی ہے اور اس کے بجائے اس بات پر زیادہ توجہ دی جا رہی ہے کہ ایک ممکنہ معاہدے سے کیسے نمٹا جائے، جو نہ صرف ایران کے جوہری پروگرام بلکہ خطے میں اسرائیل کی فوجی کارروائیوں کی آزادی کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔

اسرائیل کو کس طرح کے معاہدے سے پریشانی ہو سکتی ہے؟
اسرائیل کی تشویش کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ ممکنہ جوائنٹ کمپریہینسو ایکشن پلان (2015 کے ایران جوہری معاہدے) کے ترمیم شدہ ورژن سے ملتا جُلتا ہوگا، جس سے ایران کا جوہری پروگرام تو محدود ہو جائے گا مگر یہ تہران کا میزائل نیٹ ورک، ڈرونز اور اس کے پروکسی گروہوں کو برقرار رکھے گا۔

ٹائمز آف اسرائیل کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق اسرائیل میں بہت سے حلقوں کو خدشہ ہے کہ ممکنہ معاہدہ جنگ کے آغاز میں طے کیے گئے اہداف کو پورا نہیں کرے گا، جن میں ایران کے علاقائی اثر و رسوخ کو محدود کرنا، تہران کے فوجی ڈھانچے کو کمزور کرنا اور اس کے علاقائی اتحادیوں کے نیٹ ورک کو نقصان پہنچانا شامل ہے۔
اخبار کے مطابق اس مرحلے پر اسرائیل کا ہدف شاید ’مکمل فتح‘ حاصل کرنا نہ ہو بلکہ واشنگٹن سے ایران کے جوہری پروگرام اور حزب اللہ کی جانب سے درپیش خطرے کے حوالے سے واضح ضمانتیں حاصل کرنا ہو سکتا ہے۔لیکن اسرائیل میں اس صورتحال سے نمٹنے کے طریقے پر کوئی اتفاقِ رائے موجود نہیں ہے۔

اسرائیل انسٹیٹیوٹ فار نیشنل سکیورٹی سٹڈیز کے محقق اور اسرائیلی فوج کے ملٹری انٹیلیجنس ریسرچ ڈائریکٹوریٹ کے ایران ڈویژن کے سابق سربراہ ڈینی سیٹرینووچ نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر لکھا کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان ابھرتا ہوا معاہدہ ’کئی حوالوں سے نیتن یاہو کے لیے ایک ڈراؤنا منظرنامہ‘ ثابت ہو رہا ہے
انھوں نے خبردار کیا کہ اگر حتمی مذاکرات طویل عرصے تک تعطل کا شکار رہتے ہیں اور ٹرمپ انتظامیہ بتدریج اس میں اپنی دلچسپی کھو دیتی ہے، تو نیتن یاہو خود کو ایسی صورتحال میں پا سکتے ہیں جسے وہ جنگ سے پہلے کی حالت سے بھی زیادہ بدتر سمجھتے ہیں۔

ایک ایسی حالت جسے ڈینی سیٹرینووچ اس طرح بیان کرتے ہیں: ’ایران کے جوہری پروگرام پر کوئی حقیقی پابندیاں نہ ہوں، امریکہ کی جانب سے دوبارہ فوجی کارروائی کی کوئی امید نہ ہو اور تہران کا علاقائی اثر و رسوخ بڑھتا جائے۔‘

تاہم ڈینی سیٹرینووچ نے مزید کہا کہ ایران کی افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو کم کرنے اور اس کے جوہری پروگرام کے بعض حصوں کو روکنے کے لیے ایک ’نامکمل اور خامیوں سے بھرپور‘ معاہدہ بھی کسی معاہدے کے نہ ہونے سے بہتر ہو سکتا ہے۔

لیکن اسرائیل میں ہر کوئی اس مؤقف سے متفق نہیں ہے اور کچھ کا خیال ہے کہ اگر جنگ اسرائیل اور امریکہ کے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہتی ہے تو کوئی بھی معاہدہ ایک ناقص انتخاب ہو گا۔

یہ اختلافِ رائے اسرائیل کے سکیورٹی اور تجزیاتی ماحول میں موجود خلا کی عکاسی کرتا ہے: بعض تجزیہ کاروں کے مطابق ایک ممکنہ معاہدہ اسرائیل کے لیے ناپسندیدہ ہو سکتا ہے، لیکن مذاکرات کی مکمل ناکامی ایک زیادہ خطرناک صورتحال کو بھی جنم دے سکتی ہے۔

ایسے ماحول میں اسرائیل کو متعدد آپشنز اور متبادل راستوں کا سامنا ہے۔

پہلا آپشن: معاہدے کو مشکل بنانے کی کوشش
اسرائیل کے پاس دستیاب ابتدائی آپشنز میں سے ایک یہ ہے کہ وہ کسی بھی معاہدے کے حتمی متن پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرے۔

چھ مئی کو شائع ہونے والے ایک مضمون میں یروشلم انسٹیٹیوٹ فار سٹریٹجی اینڈ سکیورٹی نے اسرائیل کے سابق قومی سلامتی کے مشیر یعقوب عمیدرور کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ کسی بھی ممکنہ معاہدے میں اسرائیل کے اہم مطالبات میں یورینیم کی افزودگی کو روکنا، میزائل پروگرام پر پابندیاں عائد کرنا اور عملدرآمد کا ایک سخت نظام قائم کرنا شامل ہونا چاہیے۔یہ مؤقف اس امکان کو واضح کرتا ہے، جس سے اسرائیل اب بھی فائدہ اٹھا سکتا ہے اور وہ یہ ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے کسی بھی ممکنہ معاہدے کو اس انداز میں ڈھالنے کی کوشش کی جائے کہ وہ تہران کے لیے زیادہ سخت اور مہنگا ثابت ہو۔

تاہم تمام اسرائیلی تجزیہ کار اس معاہدے کو، حتیٰ کہ اس کی محدود شکل کو بھی، قابلِ قبول نہیں سمجھتے۔ یروشلم پوسٹ نے سینیئر اسرائیلی حکام کے حوالے سے لکھا کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان ابھرتا ہوا معاہدہ ایک ’برا معاہدہ‘ ہے، جو ایران کو یہ پیغام دیتا ہے کہ وہ بحران پیدا کر کے اور آبنائے ہرمز سے متعلق دباؤ جیسے حربے استعمال کر کے امریکہ سے مزید مراعات حاصل کر سکتا ہے۔

تاہم کچھ مبصرین کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے مطالبات اور ٹرمپ انتظامیہ جس چیز کو قبول کر سکتی ہے، ان کے درمیان فرق بڑھتا جا رہا ہے۔

امریکن فارن پالیسی کونسل کے سینیئر نائب صدر ایلان برمن نے بی بی سی فارسی کو ایک انٹرویو میں بتایا کہ اگر کوئی نیا معاہدہ طے پا جاتا ہے تو اسرائیل خود کو زیادہ مشکل صورتحال میں پا سکتا ہے، خصوصاً اگر اس معاہدے میں لبنان کے اندر اور حزب اللہ کے خلاف اسرائیل کی فوجی کارروائی کی آزادی پر پابندیاں شامل ہوں۔

برمن کے مطابق بالآخر اسرائیل کو غالباً واشنگٹن کے فیصلوں کو قبول کرنا پڑے گا، جب تک کہ وہ امریکہ کو اس بات پر قائل نہ کر لے کہ اسے ایک ’فوری اور سنگین خطرہ‘ لاحق ہے۔

2015 کے معاہدے کے بعد کی پالیسی دوبارہ اپنانا
ایک اور آپشن جس کی طرف اسرائیلی حکام غالباً ماضی کو مدنظر رکھتے ہوئے رجوع کریں گے وہ 2015 کے جوہری معاہدے کا تجربہ ہے، جسے جوائنٹ کمپریہینسو ایکشن پلان کے نام سے جانا جاتا ہے اور یہ اسرائیل کو اس بات پر آمادہ کر سکتا ہے کہ وہ امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمت کو ایک جامع معاہدے میں تبدیل ہونے سے روکنے کے لیے اپنی تمام تر کوششیں بروئے کار لائے۔

سنہ 2015 میں جوہری مذاکرات کے دوران بنیامین نیتن یاہو کی حکومت تقریباً باراک اوباما کی حکومت کے ساتھ ایک کھلے تصادم میں داخل ہو گئی تھی۔

اسی برس مارچ میں نیتن یاہو نے وائٹ ہاؤس سے مشاورت کے بغیر ریپبلکنز کی دعوت پر امریکی کانگریس سے خطاب کیا، جس میں انھوں نے ایران کے ساتھ ممکنہ جوہری معاہدے کو ’اسرائیل کی بقا کے لیے خطرہ‘ قرار دیا۔ یہ خطاب، جو اوباما اور نیتن یاہو کے درمیان کشیدگی کے عروج پر کیا گیا، ان نایاب مواقع میں سے ایک بن گیا جب کسی غیر ملکی رہنما نے امریکی داخلی سیاست میں مداخلت کی ہو۔

اسی وقت اسرائیل کے حامی لابنگ گروپس، خصوصاً امریکن اسرائیل پبلک افیئرز کمیٹی، نے جوہری معاہدے کے خلاف ایک وسیع مہم شروع کی تھی۔
اس وقت امریکی میڈیا نے رپورٹ کیا تھا کہ امریکن اسرائیل پبلک افیئرز کمیٹی نے اس معاہدے کو روکنے کے لیے تشہیر، کانگریس میں لابنگ اور اپنی سیاسی نیٹ ورک کو متحرک کرنے کے لیے کروڑوں ڈالر خرچ کیے تھے۔

تاہم یہ تمام کوششیں سنہ 2015 کے معاہدے کو روکنے میں ناکام رہیں، لیکن اسرائیل اور امریکہ میں اس معاہدے کے مخالفین نے سیاسی اور میڈیا دباؤ جاری رکھا اور بعد کے برسوں میں نیتن یاہو کی حکومت نے جوہری معاہدے کو ’تباہ کن‘ قرار دینے کی کوشش کی۔ اس کوشش کے نتیجے میں ہی 2018 میں ڈونلڈ ٹرمپ نے اس معاہدے سے دستبرداری اختیار کی تھی۔

کچھ اسرائیلی تجزیہ کاروں کو اب خدشہ ہے کہ نیا معاہدہ ملک کے لیے 2015 کے جوہری معاہدے سے بھی بدتر ہو سکتا ہے کیونکہ ایران اس وقت مذاکرات کی میز پر اس پوزیشن میں ہے کہ وہ جانتا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل اس جنگ میں کامیابی حاصل نہیں کر سکے ہیں اور اس کے نتیجے میں وہ مذاکرات میں مزید مراعات کا مطالبہ کرے گا۔

تاہم ایسے حالات میں اسرائیل کے لیے موجود موقع یہ ہے کہ تمام مشکل اور پیچیدہ مسائل کو کسی ممکنہ معاہدے تک تک مؤخر کر دیا جائے، جس کا آغاز ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخائر کے مستقبل اور جوہری پروگرام کی تقدیر کے تعین سے لے کر پابندیاں اٹھانے کے معاملے تک ہو سکتا ہے۔ ان میں سے کوئی بھی مسئلہ مذاکراتی عمل کو پٹری سے اتارنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

یہ صورتحال اسرائیل کے لیے ایک ایسا موقع بھی پیدا کر سکتی ہے کہ وہ 2015 کے جوہری معاہدے کے دور میں استعمال کیے گئے وہی ذرائع دوبارہ استعمال کرے، یعنی ابتدائی مفاہمت اور حتمی معاہدے کے درمیان موجود خلا میں واشنگٹن پر سیاسی دباؤ ڈالنا، کانگریس کو متاثر کرنے کی کوشش کرنا، ایران کی علاقائی اور میزائل سرگرمیوں کو اجاگر کرنا اور حتیٰ کہ مذاکراتی عمل کو غیر مستحکم کرنے کے لیے خفیہ اور انٹیلیجنس کارروائیوں کو تیز کرنا۔

اسرائیل کے سابق قومی سلامتی کے مشیر یعقوب عمیدرور نے فاکس نیوز کو بتایا کہ کوئی بھی ایسا معاہدہ جو ایران کو یورینیم کی افزودگی کی صلاحیت برقرار رکھنے کی اجازت دے یا اس کے میزائل پروگرام اور اتحادی گروہوں کے نیٹ ورک کو جوں کا توں چھوڑ دے، اسرائیل کے نقطۂ نظر سے ناکافی ہو گا۔

کچھ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ مؤقف اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اگر تہران اور واشنگٹن ابتدائی معاہدے تک پہنچ بھی جائیں تب بھی اسرائیل اسے آخری مرحلہ نہیں سمجھے گا بلکہ ممکن ہے کہ وہ اس معاہدے کو تبدیل کرنے، محدود کرنے یا حتیٰ کہ اسے ناکام بنانے کی نئی کوششوں کے آغاز کے طور پر دیکھے۔

دوسرا آپشن: عسکری کارروائیوں کی آزادی برقرار رکھنا
لیکن ایک دوسرا آپشن بھی ہے، جسے اسرائیل کسی بھی ممکنہ معاہدے کے باوجود برقرار رکھنے کی کوشش کر سکتا ہے اور اسرائیلی سکیورٹی حکام اسے ’آزادیِ عمل‘ قرار دیتے ہیں، یعنی ایران اور خطے میں اپنے اہداف کے خلاف حملے یا فوجی کارروائیاں کرنے کی صلاحیت برقرار رکھنا۔

امریکن انٹرپرائز انسٹی ٹیوٹ سے منسلک محقق اور پینٹاگون کے سابق عہدیدار مائیکل روبن نے بی بی سی فارسی کو بتایا: ’اگر اسرائیل اس معاہدے کا حصہ نہیں ہے تو اس کے پاس تمام آپشنز برقرار رہیں گے۔‘

ان کا ماننا ہے کہ اسرائیل کچھ وقت تک انتظار کر سکتا ہے، لیکن یہ امکان کم ہے کہ وہ طویل مدت کے لیے خود کو ایسے معاہدے کا پابند سمجھے گا، جس پر اس نے دستخط نہیں کیے(۔بہ شکریہ بی بی سی اردو ڈاٹ کام)

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading