7/11 ممبئی مقدمہ کے ملزم کی پیرول پر رہائی کی درخواست پر نظر ثانی کا ہائی کورٹ کا حکم

دو رکنی بینچ نے ڈویزنل کمشنر امراوتی کے حکنامہ کو رد کیا ، جیل حکام سے دوبارہ رجوع ہونےکا مشورہ

mumbai_train_blast2

ممبئی:24 نومبر (ورق تازہ نیوز)7/11 ممبئی لوکل ٹرین بم دھماکہ معاملے میں خصوصی مکوکا عدالت سے عمر قید کی سزا پانے والے ایک مسلم قیدی کی پیرول پر رہائی کی درخواست مستردکیئے جانے والے ڈویزنل کمشنر امراوتی کے فیصلہ کو رد کرتے ہو ئے ممبئی ہائی کورٹ نے کمشنر کو حکم دیا کہ ۸۱ دسمبر سے قبل ملزم کی پیرول پر رہائی کی درخواست پر نظر ثانی کرے اور اس پر سپریم کورٹ کے رہنمایانہ اصولوں کے تحت فیصلہ صادر کرے۔ملزم کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظم جمعیة علماءمہاراشٹر (ارشد مدنی) کے دفتر سے موصولہ اطلاعات کے مطابق ممبئی ہائی کورٹ کی دو رکنی بینچ کے جسٹس آر ایم ساونت اور جسٹس وی کے جادھو نے محمد ماجد محمد شفیع (کولکاتہ) کی جانب سے اس کی اہلیہ کے علاج و معالجہ کے لیئے چار ہفتوں کے لیئے پیرول پر رہا کیئے جانے کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے ۵ ستمبر ۸۱۰۲ کو ڈویزنل کمشنر امراوتی کے اس فیصلہ کو رد کردیا جس میں اس نے ملزم کی پیرول پر رہائی کی درخواست کو یہ کہتے ہوئے مسترد کردیا تھاکہ ملزم کو اگر پیرول پر رہا کیا گیا تو وہ فرار ہوجائے گا نیزاس کی پیرول پر رہائی سے کولکاتہ میں لاءاینڈ آرڈر کا مسئلہ پیدا ہوگا۔جمعیةعلماءکی جانب سے ملزم کی پیرول پر رہائی کی درخواست پر بحث کرتے ہو ئے ایڈوکیٹ فرحانہ شاہ نے عدالت کو بتایا کہ ملزم کی اہلیہ شدید بیمار ہے اور اس کے علاج و معالجہ کے لیئے ملزم کی موجودگی ضروری ہے لہذا اسے قانون میں دی گئی مراعاتوں کے مطابق پیرول پر رہا کیا جانا چاہئے ۔ایڈوکیٹ فرحانہ شاہ نے ملزم کی پیرول پر رہائی کے کے لئے سپریم کورٹ کے رہنمایانہ اصولوں کو بھی عدالت کے سامنے پیش کیا جس کے بعد عدالت نے ڈویزنل کمشنر کو حکم دیا کہ وہ ملزم کی پیرول کی عرضداشت پر نظر ثانی کرے ۔حالانکہ مہاراشٹر اے ٹی ایس نے ممبئی ہائی کورٹ میںملزم کی پیرول پر رہائی کی عرضداشت مسترد کیئے جانے کے تعلق سے حلف نامہ بھی داخل کیا تھا لیکن عدالت نے اسے نظر انداز کرتے ہو ئے پیرول اتھاریٹی کو حکم جار ی کیا۔اس معاملے میں ممبئی ہائیکورٹ میں آٹھ سماعتیں ہوئی جس کے بعد بالآخیر دو رکنی بینچ نے ڈویزنل کمشنر کے فیصلہ کو مسترد کرتے ہوئے اس پر نظر ثانی کا فیصلہ صادر کیا۔واضح رہے کہ انڈین جیل قانون 1894 کے مطابق سزا یافتہ قیدیوں کو سال میں 30 سے لیکر 90 دنوں تک پیرول پر رہا کیا جاسکتا ہے جو جیل میں سزائیں کاٹ رہے ہیں اور وہ بیماری سے جوجھ رہے ہوں یا ان کی فیملی میں کوئی شدیدبیمار ہو ، شادی بیاہ میں شرکت کی خاطر، زچکی کے موقع پر، حادثہ میں اگر کسی فیملی ممبر کی موت ہوجائے تو جیل میں مقید شخص کو عارضی طور پر جیل سے رہائی دی جاتی ہے لیکن بیشتر ریاستی حکومتوں نے ٹاڈا، پوٹا، مکوکا وغیرہ قوانین کے تحت سزا یافتہ ملزمین کو پیرول پر رہا نہیں کیئے جانے کے احکامات جاری کیئے ہیں جس کی وجہ سے ایسے ملزمین کو جیل حکام کی طرف سے پیرول پر رہا نہیں کیا جارہا ہے جس کے نتیجے میں انہیں اعلی عدالتوں سے رجوع ہونا پڑ رہا ہے۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading