ایران: اسرائیلی حملوں میں مارے گئے فوجی کمانڈروں اور ایٹمی سائنس دانوں کی تدفین

ایران میں آج ہفتے کی صبح اُن 60 فوجی کمانڈروں اور ایٹمی سائنس دانوں کی سرکاری تدفین شروع ہوئی جو ایران اور اسرائیل کے درمیان 12 روزہ جنگ کے دوران اسرائیلی حملوں میں مارے گئے سرکاری ٹی وی نے تہران میں منعقدہ جلوس کی تصاویر نشر کیں جن میں ایرانی پرچم اور مقتولین کی تصاویر اٹھائے ہجوم کو دیکھا گیا۔جنازے اور تدفین کا انعقاد ایسے وقت ہو رہا ہے جب ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کا چوتھا روز ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ اگر ایران نے یورینیم کو فوجی مقاصد کے لیے افزودہ کیا تو اس پر دوبارہ حملہ کیا جائے گا۔

ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ انھوں نے ایرانی رہبر علی خامنہ ای کو "ذلت آمیز موت” سے بچایا، اور کہا کہ وہ جانتے تھے وہ کہاں چھپے ہیں مگر انھوں نے اسرائیل یا امریکی افواج کو ان پر حملے کی اجازت نہیں دی۔اسرائیلی وزیر خارجہ جدعون ساعر کے مطابق اسرائیل نے خطے اور عالمی برادری کو لاحق خطرے کے پیشِ نظر بروقت حملہ کیا۔ ایران نے ایٹمی ہتھیار بنانے کے الزام کو ایک بار پھر مسترد کیا اور امریکی مذاکرات کی پیشکش کو ٹرمپ کے حالیہ بیانات کے بعد رد کر دیا۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے خامنہ ای سے متعلق ٹرمپ کے بیان کو "ناقابلِ قبول” قرار دیا۔

تدفین کی تقریب انقلاب چوک سے لے کر آزادی چوک تک پھیلی ہوئی تھی، جہاں ہزاروں افراد کی شرکت متوقع ہے۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading