ٹرانسپورٹ انفراسٹرکچر کو تقویت؛ زیر زمین میٹرو اور فلائی اوو ر منصوبے کو منظوری، وزیر اعلیٰ فڑنویس کی صدارت میں اہم فیصلہ

ٹرانسپورٹ انفراسٹرکچر کو تقویت؛ زیر زمین میٹرو اور فلائی اوور منصوبے کو منظوری، وزیر اعلیٰ فڑنویس کی صدارت میں اہم فیصلہ

(ممبئی، 27 جون – آفتاب شیخ)
ممبئی میٹرو ریجن کے مشرقی علاقوں میں بڑھتی ہوئی آبادی اور صنعتی سرگرمیوں کے بڑھتے دائرے کو دیکھتے ہوئے ریاستی حکومت نے ایک بڑے فیصلے میں تھانے-بھیونڈی-کلیان میٹرو لائن کو زیر زمین کرنے اور ایک نئے فلائی اوور کی تعمیر کی منظوری دے دی ہے۔ وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس کی صدارت میں منعقدہ اعلیٰ سطحی جائزہ میٹنگ میں فیصلہ کیا گیا کہ میٹرو اور سڑک کی توسیع کے کام کو متوازی طور پر انجام دیا جائے تاکہ خطے میں بڑھتے ہوئے ٹریفک کا مؤثر اور دیرپا حل تلاش کیا جا سکے۔ وزیر اعلیٰ نے حکام کو ہدایت دی کہ شہری نمائندوں کے مشورے بھی منصوبے میں شامل کیے جائیں اور منصوبہ بندی کے دوران مقامی ضروریات کو خاص اہمیت دی جائے۔

بھیونڈی، جو کہ ایک تیزی سے پھیلتا ہوا صنعتی مرکز ہے اور جہاں مال بردار گاڑیوں کی آمد و رفت روز بروز بڑھتی جا رہی ہے، وہاں ٹریفک جام ایک مستقل مسئلہ بن چکا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس میٹرو لائن کے ذریعے نہ صرف بھیونڈی بلکہ کلیان، الہاس نگر اور امبرناتھ جیسے علاقوں کو ممبئی اور تھانے سے جوڑ کر نہایت تیز، محفوظ اور جدید شہری ٹرانسپورٹ سہولت فراہم کی جائے گی۔ وزیر اعلیٰ نے میٹنگ میں کہا کہ بھیونڈی میں بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے اور شہر کے شمالی حصے میں خاص طور پر ترقیاتی کاموں پر زور دیا جائے گا۔

میٹرو لائن-5 کی کل لمبائی تقریباً 34.23 کلومیٹر ہوگی، جسے تین مراحل میں مکمل کیا جائے گا۔ کاپرباوڑی سے دھامنکر ناکہ تک کے پہلے مرحلے کا 96 فیصد سول کام مکمل ہو چکا ہے، جبکہ دھامنکر ناکہ سے درگاڑی اور درگاڑی سے کلیان و الہاس نگر تک کے مراحل کے لیے تفصیلی پروجیکٹ رپورٹس کی تیاری اور زمین کے حصول کا عمل جاری ہے۔ اس میٹرو پروجیکٹ میں 19 اسٹیشن ہوں گے جن میں ایک زیر زمین اور باقی بلند ہوں گے، جبکہ کاپرباوڑی اور کلیان اسٹیشنوں کو اہم انٹرچینج پوائنٹ بنایا جائے گا۔ کشیلی کے مقام پر میٹرو کا مرکزی ڈپو تجویز کیا گیا ہے، اور منصوبے کی تخمینی لاگت ₹12,480 کروڑ کے قریب ہے۔

یر اعلیٰ نے ہدایت دی کہ میٹرو لائن کی تعمیر میں گہری سرنگوں کے طریقۂ کار اور دوہری زیر زمین راہداری جیسے جدید طریقے اختیار کیے جائیں تاکہ شہری علاقوں پر کم سے کم اثر ہو اور آمد و رفت کی روانی برقرار رہے۔
انہوں نے کہا کہ ان منصوبوں سے نہ صرف بھیونڈی جیسے صنعتی شہروں کو فائدہ ہوگا بلکہ مقامی شہریوں کو روزگار، بہتر آمد و رفت، اور ترقی یافتہ شہری سہولیات میسر آئیں گی۔ اس میٹنگ میں ایم ایم آر ڈی اے کے میٹروپولیٹن کمشنر ڈاکٹر سنجے مکھرجی نے ایک تفصیلی پریزنٹیشن دی، جبکہ وزیر اعلیٰ کے پرنسپل سکریٹری ڈاکٹر شریکر پردیشی، شہری ترقیات کے ایڈیشنل چیف سکریٹری عاصم گپتا، بھیونڈی و کلیان-ڈومبیولی میونسپل کارپوریشن کے کمشنر اور دیگر اعلیٰ حکام شریک رہے۔

وزیر اعلیٰ نے آخر میں یقین دلایا کہ ترقیاتی منصوبوں کے لیے درکار فنڈز کی کمی نہیں ہونے دی جائے گی اور حکومت ان تمام منصوبوں کو وقت پر مکمل کرنے کے لیے پرعزم ہے تاکہ بھیونڈی سمیت پورے خطے کی اقتصادی اور شہری ترقی کو رفتار دی جا سکے۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading