ممبئی: (ورق تازہ نیوز)ملک میں مغل حکمران اورنگزیب رحمتہ اللہ علیہ کے بارے میں تنازعہ دن بہ دن مزید شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ یہ تنازعہ اب سیاستدانوں سے لے کر مصنفین اور مولاناؤں تک پہنچ چکا ہے۔ حال ہی میں مشہور مصنف منوج منتشیر نے اورنگزیب کی ایک طرح سے تزلیل کی ہے۔۔ اب ان کے بیان پر مسلم مذہبی رہنماؤں نے بھی سخت جواب دیا ہے۔ منوج منتشیر کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے مسلم مذہبی رہنما مولانا شہاب الدین رضوی بریلوی نے کہا، "منوج منتشیر مکمل ذہنی دیوالیہ پن کا شکار ہیں۔”
مولانا شہاب الدین رضوی بریلوی نے کہا، "منوج منتشیر کو تعلیم یافتہ سمجھا جاتا ہے۔ ایک پڑھی لکھی شخصیت اتنا غیر ذمہ دارانہ بیان کیسے دے سکتی ہے؟ صرف ذہنی طور پر غیر مستحکم شخص ہی ایسا برا بیان دے سکتا ہے۔ منوج منتشیر مصنف نہیں بلکہ ذہنی طور پر دیوالیہ ہیں۔”
منوج منتشیر نے کہا، "مہاراشٹر میں اس وقت اورنگزیب کی قبر کو توڑنے کی بات ہو رہی ہے۔ اورنگزیب کی قبر کو توڑنے کا مطالبہ کئی لوگ کر رہے ہیں۔ مجھے ایسا بالکل نہیں لگتا۔ لیکن کیا اس قبر کو ہٹایا جائے؟ جب ہم ہندو رام جنم بھومی پر شری رام کا مندر بنا رہے تھے، تو کچھ لوگ ہمیں یہ سمجھا رہے تھے کہ خدا ہر ذرے میں ہے، تو پھر مندر بنانے کی کیا ضرورت ہے وغیرہ! اس جگہ پر اسکول، اسپتال بناؤ… ایسا کئی لوگ کہہ رہے تھے۔”
"اورنگزیب کی قبر کو ہٹانے کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ اس پر بیت الخلا بناؤ… یہ میری درخواست ہے۔ ہم سناتنی ہیں۔ ہم اس قاتل کو کم از کم یوریا اور نمک عطیہ کر سکتے ہیں۔ اور جو کہتے ہیں کہ بھارت کسی کے باپ کا نہیں، تو مجھے یہ کہنے میں خوشی ہوگی کہ ‘ہندوستان ہمارے رانا، چھترپتی شیواجی مہاراج… ہمارے باپ کا تھا اور رہے گا۔'”
منوج کا یہ بیان سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہا ہے۔
Yeh jo bhi muntashir hai yeh khud naam ke aetebaar se bikhra huva hai, yeh bhala kuch achchhi baat kaise nikaal sakta hai, ees ke aaqa ko khush karne ke liye aise bayaan dena zaroori hai kyun ki yeh 2014 ke baad bana huva sanatan dharm ka joker hai.